علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، تہران میٹرو کا نیا ریکارڈ، 70 لاکھ سے زائد افراد نے سفر کیا
تہران: ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات کے موقع پر تہران کے میٹرو نیٹ ورک پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں چند گھنٹوں کے دوران 70 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق ہفتے کی شام ساڑھے پانچ بجے سے اتوار کی صبح سات بجے تک تہران میٹرو کے ذریعے 70 لاکھ سے زیادہ افراد نے مختلف اسٹیشنوں کے درمیان سفر کیا۔
رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں لاکھوں افراد کی شرکت کے پیشِ نظر حکام نے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ نجی گاڑیوں کے بجائے میٹرو سسٹم استعمال کریں تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم رہے اور عوام کو آمد و رفت میں آسانی فراہم کی جا سکے۔
تہران میٹرو انتظامیہ نے اس موقع پر اضافی ٹرینیں چلائیں جبکہ متعدد اسٹیشنوں پر عملے کی تعداد بھی بڑھا دی گئی تاکہ مسافروں کی رہنمائی اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایرانی حکام کے مطابق نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے دوران ملک بھر سے لاکھوں افراد تہران پہنچے، جس کے باعث میٹرو، سڑکوں اور دیگر عوامی نقل و حمل کے نظام پر غیر معمولی دباؤ رہا۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ کے مؤثر انتظامات کی بدولت بڑی تعداد میں شرکا کو تقریب کے مقام تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی اور ٹریفک کی صورتحال کو بھی بڑی حد تک قابو میں رکھا گیا۔
شہید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایران کے اعلیٰ حکام، مذہبی شخصیات اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی، جبکہ لاکھوں سوگواروں نے اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔