اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل مزید سستا

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات کی بحالی نے بھی عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کر دیا ہے

لندن: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جس کی بڑی وجہ اوپیک پلس کی جانب سے اگست کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔  

آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی برآمدات کی بحالی نے بھی عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 24 سینٹ یا 0.33 فیصد کمی کے بعد 71.88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 11 سینٹ یا 0.16 فیصد کمی کے ساتھ 68.58 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

اوپیک پلس نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ اتحاد میں شامل سات ممالک اگست کے دوران مجموعی طور پر یومیہ 1 لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی تیل مارکیٹ میں فراہم کریں گے۔ اس فیصلے میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق تیل کی پیداوار میں مسلسل اضافے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدات کی بحالی سے عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے، جس کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال مزید مستحکم رہتی ہے اور تیل کی رسد میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی تو آئندہ ہفتوں میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

دوسری جانب سرمایہ کار اوپیک پلس کی آئندہ پالیسی، عالمی طلب، امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت اور عالمی معاشی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل مستقبل میں تیل کی قیمتوں کا رخ متعین کریں گے۔

Load Next Story