اسرائیلی وزیر دفاع کی ایرانی قیادت کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی

اسرائیل کاٹز نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب تہران میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کی تقریبات جاری ہیں

تل ابیب: اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو اس منصوبے کی وجہ سے نشانہ بنایا جس کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ایرانی رہنما اسی نوعیت کی پالیسی اختیار کرتا ہے تو اسرائیل اسے بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کاٹز نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب تہران میں علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور جنازے کی تقریبات جاری ہیں۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے چینل 13 کے مطابق وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گا جسے وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتا ہو اور ضرورت پڑنے پر پیشگی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات اور سفارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Load Next Story