’’ریلیز کے بعد کسی فلم کو ختم نہیں کیا جاسکتا‘‘، فلم ہٹانے پر دلجیت دوسانجھ کا ردعمل آگیا

دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ اب انہیں فلم کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش نہیں

بھارتی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے اپنی فلم ’ستلج‘ کو بھارت میں اسٹریمنگ پلیٹ فارم زی فائیو سے اچانک ہٹائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ اس معاملے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ فلم ایک بار ناظرین تک پہنچ جائے تو پھر اسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

انسٹاگرام پر ایک لائیو سیشن کے دوران ایک مداح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے دلجیت دوسانجھ نے کہا کہ اب انہیں فلم کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش نہیں۔ ان کے بقول ابتدائی دن ضرور فکر تھی، لیکن اب حالات مختلف ہیں کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ فلم دیکھ بھی چکے ہیں اور اسے ڈاؤن لوڈ بھی کر چکے ہیں۔

دلجیت نے کہا کہ اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فلم دوبارہ کب ریلیز ہوگی، کیونکہ ریلیز ہونے کے بعد کسی فلم کو مکمل طور پر مٹایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مواد عوام تک پہنچ جائے تو وہ ہمیشہ کسی نہ کسی صورت موجود رہتا ہے۔

اداکار کا یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، جہاں متعدد صارفین نے اسے ڈیجیٹل دور میں سنسرشپ کے حوالے سے اہم تبصرہ قرار دیا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کے زمانے میں کسی بھی مواد کو مکمل طور پر عوام کی دسترس سے دور رکھنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ ہدایت کار ہنی ٹریہان کی فلم ’ستلج‘ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے پنجاب میں عسکریت پسندی کے دور کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل اور خفیہ تدفین کے واقعات کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

یہ فلم ابتدا میں ’پنجاب 95‘ کے نام سے تیار کی گئی تھی، تاہم بھارتی سنسر بورڈ کی جانب سے متعدد اعتراضات اور 120 سے زائد مجوزہ کٹس کے باعث اس کی ریلیز تین برس سے زائد عرصے تک تعطل کا شکار رہی۔ بعد ازاں فلم کا نام تبدیل کرکے ’ستلج‘ رکھا گیا اور اسے 3 جولائی کو زی فائیو پر پیش کیا گیا، لیکن صرف دو روز بعد، 5 جولائی کو اسے بھارت میں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔

زی فائیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر فلم کو تاحکمِ ثانی بھارت میں دستیاب نہیں رکھا جا رہا، تاہم قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ ناظرین کے لیے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کمپنی نے فلم ہٹانے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی اور نہ ہی یہ وضاحت کی کہ آیا یہ دیگر ممالک میں دستیاب رہے گی یا نہیں۔

دلجیت دوسانجھ کے حالیہ بیان کے بعد فلم ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر سنسرشپ، اظہارِ رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی دستیابی سے متعلق نئی بحث بھی شروع ہوگئی ہے۔

Load Next Story