شارجہ سے کراچی آنے والے لاپتا طیارے کا ملبہ مل گیا، عملے کے ارکان کی تلاش جاری
فوٹو: پی اے اے
شارجہ سے کراچی آتے ہوئے گزشتہ شب اورماڑہ کے قریب حادثے کا شکار ہونے والے نجی کارگو طیارے کا مبلہ مل گیا ہے جبکہ عملے کے ارکان کی تلاش جاری ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے بیان میں بتایا کہ نجی کمپنی کے کارگو طیارے کی تلاش کے لیے پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے سمندر میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے دوران لاپتہ طیارہ کے2 ایئرویز کارگو بی 737 کا ملبہ تلاش کرلیا ہے۔
پی اے اے نے بتایا کہ طیارے کا ملبہ اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب میں ملا ہے، مزید شواہد اور عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کے بحری اور فضائی اثاثے سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
PN and PMSA after 12 hours of Search & Rescue operations in deep Sea have successfully located and identified wreckage of K2 Airways Cargo B737 which was declared missing last night. The wreckage was recovered from 53 NM South of ORMARA. pic.twitter.com/0dZpj8s7u3
— Pakistan Airports Authority (@Pk_PAA_Official) July 8, 2026
بلوچستان کےساحلی مقام اورماڑہ کے قریب سمندر میں شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارہ حادثےکے لاپتا 5 کاک پٹ عملے اور ملبے کو ڈھونڈنے کےلیے رات بھر جاری سرچ آپریشن کا دائرہ بدھ کو دن کے اجالےمیں مزید وسع کر دیاگیا، وسیع سمندر اور جون، جولائی کی بپھری لہروں کے باعث سرچ آپریشن بڑا چیلنج رہا، تاہم بحری اثاثوں سےلیس پاکستان نیوی اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے 12گھنٹےجاری آپریشن کے دوران طیارےکا ملبہ تلاش کرلیا۔
کارگو جہاز کا ملبہ اورماڑہ کےساحل سے 53 ناٹیکل مائلز کی دوری پر ملا، طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر اور بلیک باکس نہیں مل سکا، کپتان، نائب کپتان، فلائٹ انجینئر سمیت عملے کے 5 ارکان تاحال لاپتا ہیں۔
ذرائع کے مطابق جدید آلات سے لیس پاک بحریہ کے2 بحری جنگی جہازپی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ طویل علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سرانجام دے رہے ہیں، پاک بحریہ کا ہوائی جہاز بھی تلاش وبچاو آپریشن میں مصروف ہے۔
کےٹو ائیرانتظامیہ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کارگو بوئنگ 737ساختہ طیارہ شارجہ سےکراچی آرہا تھا، طیارے کامنگل کی شب 9 بجکر 21 منٹ پرائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا، طیارے کےکاک پٹ میں 5کریوسوار تھے، جن میں پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان، انجنیئر عارف صدیقی اور محمد حامد شامل ہیں۔
کےٹو ائیرویز پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں سے بھرپور تعاون جاری رکھےہوئے ہے، کراچی ائیرپورٹ انتظامیہ نےانویسٹی گیشن کےلیے درکارشواہد کومحفوظ رکھنےکی بنیاد پر کراچی ایئرپورٹ پر کےٹوائیر کا دفتر سیل کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ لاپتا طیارے کی تحقیقات کرنے والی بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن کی 11رکنی ٹیم بدھ کو دوپہر کراچی پہنچ گئی، تحقیقاتی ٹیم نےکےٹوائیرویزکے دفاتر میں ریکارڈ کا جائزہ لیا اور کچھ بیانات ریکارڈ کیے، جس کےبعد بیورو آف سیفٹی انویسٹی گیشن ٹیم بلوچستان روانہ ہوئی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ طیارے نے دوران پرواز نیوی گیشن سسٹم میں تیکنیکی خرابی کی اطلاع دی تھی، لاپتا ہونے سے پہلے طیارہ اپنے روٹ سے اچانک دائیں جانب مڑا اور انتہائی تیزی سے بلندی کم کرنےلگا، لگ بھگ 35ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنےوالا طیارہ انتہائی قلیل وقت میں خطرناک حدتک نیچےآیا اور اس کی بلندی کم ہوکر11ہزارفٹ رہ گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ریڈار اس ہنگامی مشاہدے کے بعد کنٹرول ٹاور میں موجود ائیرٹریفک کنٹرولرز کی جانب متعدد صوتی رابطوں کی تمام ترکوششیں بےسود رہیں اور طیارے کےکاک پٹ عملے کی جانب سے پھر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ذرائع کےمطابق لاپتا طیارہ شارجہ میں 5 روزسے موجود اسی کمپنی کے ایک دوسرے تیکنیکی خرابی سے دوچارطیارے کی مرمت اور فاضل پرزہ جات پہنچانے کےلیے پیر کو شارجہ گیا تھا، ایک روز بعد مذکورہ طیارہ فیری فلائٹ کرتے ہوئے کراچی واپس آرہا تھا۔