نیوکلیئر توانائی سے چلنے والے پے لوڈ کا حامل پہلا سیٹلائیٹ لانچ

سیٹلائیٹ وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے ٹرانسپورٹر-17 رائیڈ شیئر مشن کے تحت لانچ کیا گیا

اسپیس ایکس نے جوہری توانائی سے چلنے والے پے لوڈ کے حامل دنیا کے پہلے تجارتی سیٹلائیٹ کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا۔ اس لانچ کو خلائی تحقیق کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ سیٹلائیٹ اسپیس ایکس کے فیلکن 9 راکٹ کے ذریعے کیلیفورنیا میں واقع وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے ٹرانسپورٹر-17 رائیڈ شیئر مشن کے تحت لانچ کیا گیا۔

بیلٹا والٹک آربیٹل ہائی-ریلائیبلیٹی (BOHR) نامی اس سیٹلائیٹ کو امریکی کمپنی ستی لیبز نے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ تجارتی خلائی مشنز میں بھی جوہری توانائی کو محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مشنز کے لیے جہاں شمسی توانائی یا بیٹریاں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔

کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں گہرے خلائی مشنز اور چاند کے مستقل تاریک علاقوں جیسے مقامات پر طویل عرصے تک مسلسل کام کرنے والے آلات کو توانائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سٹی لیبز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیٹر کابوئے نے اس کامیابی کو تجارتی خلائی صنعت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ BOHR نے ثابت کر دیا ہے کہ محفوظ، چھوٹے حجم اور ریگولیٹری منظوری یافتہ جوہری توانائی کے نظام اب تجارتی خلائی مشنز کے لیے عملی طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت ایسے خلائی آلات مسلسل کام کر سکیں گے جو سورج کی روشنی یا بیٹری کی محدود مدت پر انحصار نہیں کریں گے جس سے مستقبل کے طویل المدتی خلائی مشنز کے نئے امکانات روشن ہوں گے۔

Load Next Story