بلڈرز ایسوسی ایشن کا دوبارہ نسلہ ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان
سپریم کورٹ نے ایک ہفتے میں عمارت کو گرانے کا حکم دیا ہے فوٹو: فائل
ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) نے آئینی عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زمین خرید کر دوبارہ نسلہ ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے مشہورِ زمانہ نسلہ ٹاور کو مسمار کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا۔
اس تاریخی اور غیر معمولی عدالتی پیش رفت کے بعد سندھ حکومت، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) اور متاثرہ الاٹیز نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انصاف کی فتح قرار دیا ہے اور متاثرین کے نقصانات کے فوری و مکمل ازالے سمیت تعمیراتی شعبے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
نسلہ ٹاور کا معاملہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے تحت کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کی مہم کے دوران سامنے آیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے ریکارڈ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع نسلہ ٹاور کا اصل پلاٹ 780 مربع گز پر مشتمل تھا، تاہم مختلف ادوار میں لیز، ذیلی تقسیم اور ریکارڈ میں تبدیلیوں کے بعد اس کا رقبہ 1121 مربع گز تک پہنچ گیا۔
سرکاری اداروں کا دعویٰ تھا کہ اضافی 341 مربع گز رقبہ سرکاری اراضی اور شاہراہ کی حدود میں شامل ہے، جس پر طویل قانونی تنازع کھڑا رہا۔ اس پورے معاملے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، محکمہ ریونیو اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کردار بھی عدالتی جانچ پڑتال کا حصہ رہا اور ان اداروں کی جانب سے جاری کردہ منظوریوں پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔
بعد ازاں 25 اکتوبر 2021 کو اُس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسمار کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
عدالت نے تعمیر کنندہ (بلڈر) اور رہائشیوں کی جانب سے دائر تمام نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ متاثرہ الاٹیز کو معاوضہ ادا کرے اور یہ رقم بعد میں تعمیر کنندہ اور ذمہ دار سرکاری افسران سے وصول کی جائے۔
اس حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے نومبر 2021 سے جنوری 2022 کے دوران پندرہ منزلہ عمارت کو مرحلہ وار اور جدید تکنیک کے ذریعے مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں 45 خاندان اپنے گھروں اور عمر بھر کی جمع پونجی سے چند دنوں میں محروم ہوگئے تھے۔
متاثرین کا مسلسل یہ مؤقف تھا کہ انہوں نے تمام سرکاری اداروں کی قانونی منظوریوں اور دستاویزات کو دیکھنے کے بعد فلیٹس خریدے تھے لہٰذا کسی انتظامی یا قانونی بے ضابطگی کی سزا عام شہریوں کو نہیں ملنی چاہیے تھی۔
اس فیصلے کے بعد کراچی میں تعمیراتی سرگرمیاں شدید سست روی کا شکار ہوئیں، اربوں روپے کی نئی سرمایہ کاری رک گئی اور شہریوں کا سرکاری منظوریوں پر اعتماد بری طرح مجروح ہوا۔ اس دوران نسلہ ٹاور کے بلڈر عبدالقادر کا انتقال ہوگیا جس کے باعث باقی فنڈز کی وصولی اور جائیدادوں کی ضبطگی کا عمل مزید سست روی اور تعطل کا شکار ہو گیا اور ان کے اکاؤنٹس میں موجود فنڈز تمام45 متاثرہ خاندانوں کے مکمل نقصان کے ازالے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ واپس لیے جانے کے بعد تعمیراتی شعبے اور سیاسی حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کی تنظیم آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد کو اپنے اس فیصلے پر معذرت کرنی چاہیے کیونکہ معذرت کرنے سے ان کا قد چھوٹا نہیں بلکہ بڑا ہوگا اور اس سے45 متاثرہ خاندانوں کی داد رسی ہوسکے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نسلہ ٹاور کی مسماری سے کراچی کا پورا تعمیراتی کاروبار جمود کا شکار ہو گیا تھا اور صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ چیئرمین آباد نے مطالبہ کیا کہ اب نسلہ ٹاور کی قیمتی زمین فروخت کرکے متاثرہ الاٹیز کے نقصانات کا فوری اور مکمل ازالہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے وفاقی و سندھ حکومت کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی جائے، جس میں دونوں حکومتیں بھی اپنا مالی حصہ ڈال کر متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آباد اس زمین کو خرید کر دوبارہ نسلہ ٹاور تعمیر کرے گا۔
دوسری جانب وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے بھی وفاقی آئینی عدالت کے اس اقدام کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت نے ایک غلط فیصلے کو واپس لے کر درست ترین اقدام کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کے ایسے فیصلوں سے عوام کو شدید مالی و ذہنی صدمات پہنچے اور ملکی معیشت کا پہیہ رک گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2021 میں راشد منہاس روڈ پر بھی اربوں روپے کی تعمیرات عدالتی حکم پر مسمار کی گئی تھیں۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ ان کا مؤقف اس وقت کے فیصلوں کی وجہ سے عوام اور تعمیراتی شعبے کو نقصان پہنچا تھا۔