عمارت بننے دیں، غیرقانونی ہوئی تو نسلہ ٹاور کی طرح مسمار کردیں گے، سماعت کے دوران جج کے اہم ریمارکس

وفاقی آئینی عدالت میں کراچی میں کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی


ویب ڈیسک June 11, 2026

وفاقی آئینی عدالت میں کراچی میں کمرشل زمین کو رہائشی پلاٹ میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران گلشن فیصل کوآپریٹو سوسائٹی میں زیر تعمیر ہائی رائز بلڈنگ کی تعمیر روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی.دوران سماعت  عدالت میں نسلہ ٹاور مسمار کرنے کا بھی تذکرہ کیا وکیل نے کہا گلشن فیصل میں دو ہزار گز کا کمرشل پلاٹ تھا جسے رہائشی قرار دیکر ٹائون ہائوس بنائے گئے، ایک بلڈر نے کچھ ٹائون ہائوسز خرید کر ہائی رائز بلڈنگ کھڑی کر دی ہے.

عدالت نے ریمارکس دیے کراچی میں پہلے ٹائون ہائوسز بنانے کا فیشن تھا،پھر فیشن تبدیل ہوا اور لوگوں نے آٹھ منزلہ عمارتیں بنانا شروع کر دیں، ان دنوں کراچی میں آٹھ منزلہ عمارت کو 20 منزلہ کرنے کا فیشن چل رہا ہے.

وکیل نے کہا موجودہ کیس میں بھی بلڈنگ کی 9 منزلیں کھڑی ہوچکی ہیں،ایس بی سی اے تو کبھی بلڈرز کیخلاف کوئی بات نہیں کرتا، آج وقت کی قلت ہے کیس کو کراچی رجسٹری میں سنیں گے، وکیل نے کہا عدالت آئندہ سماعت تک عمارت کی تعمیر پر حکم امتناع جاری کرے.

عدالت نے ریمارکس دیے بلڈنگ بن رہی ہے تو بننے دیں، غیرقانونی ہوئی تو مسمار ہوجائے گی، نسلہ ٹاور کی مثال ہمارے سامنے ہے،عدالت نے مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔