ناسا کا ایک برس سے غیر فعال اسپیس کرافٹ دوبارہ فعال

78 کروڑ اور 6 لاکھ ڈالر مالیت کا نیو ہورائزنز پہلا خلائی مشن ہے جس نے پلوٹو کا قریب سے مشاہدہ کیا

امریکی خلائی ادارے ناسا کا اسپیس کرافٹ نیو ہورائزنز تقریباً ایک سال تک ہائبرنیشن (غیر فعال) حالت میں رہنے کے بعد دوبارہ فعال ہو گیا ہے، جس کے بعد سائنس دان اس کے جمع کردہ اہم ڈیٹا کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔

78 کروڑ اور 6 لاکھ ڈالر سے تیار کیا گیا نیو ہورائزنز پہلا خلائی مشن ہے جس نے پلوٹو کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ یہ خلائی جہاز اس وقت زمین سے تقریباً 6 ارب میل دور شمسی نظام کے بیرونی حصے میں سفر کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق وہاں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کائنات کی تشکیل، اس کے ارتقا اور دور دراز واقع کوائپر بیلٹ میں موجود اجرامِ فلکی سے متعلق نئی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔

ناسا کے مطابق نیو ہورائزنز طویل سفری مراحل کے دوران عموماً ہائبرنیشن موڈ میں چلا جاتا ہے۔ تاہم، اس دوران بھی وہ معلومات جمع کرکے محفوظ کرتا رہتا ہے۔ اس بار ہائبرنیشن کا دورانیہ 321 دن رہا، جو 23 جون کو اختتام پذیر ہوا۔

خلائی ادارے نے بتایا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ خلائی جہاز مکمل طور پر درست حالت میں بیدار ہوا ہے۔ ہائبرنیشن کے دوران وہ اپنی عمومی صورتحال سے متعلق معلومات زمین پر بھیجتا رہا۔ البتہ، سائنسی آلات اور سینسرز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا اب تجزیے کے لیے موصول ہونا شروع ہوگا۔

Load Next Story