شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی

دارالحکومت کے جڑواں شہر کی تاریخ، مقامات اور عمارات


حارث بٹ July 12, 2026

(دوسرا حصہ)

سید پوری گیٹ

لاہور، ملتان یا پشاور میں کھڑے ہوکر آپ اگر کسی دروازے کا نام لیں تو ذہن میں فوری طور پر کوئی قلعہ ابھرتا ہے۔ جیسے پشاور ایک قلعہ بند شہر تھا، لاہور بھی ایک قلعہ بند شہر تھا حتیٰ کہ ملتان میں بھی قلعہ کی باقیات اب تک موجود ہیں لیکن راول پنڈی ان سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اگر یہاں کھڑے ہو کر آپ کسی دروازے یا گیٹ کا نام لیں تو یہاں آپ کو قلعہ تو نہیں ملے گا البتہ نام کی حد تک اپ کو گیٹ ضرور مل جائے گا، جیسے کہ سید پوری گیٹ لیکن آج یہاں نہ تو کوئی گیٹ ہے نہ کوئی قلعہ البتہ ایک پرانی آبادی ضرور ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے یہ ہندوؤں کا علاقہ ہوا کرتا تھا لیکن جب پاکستان بنا اور ہندو ہندوستان چلے گئے تو پھر مختلف علاقوں سے آنے والے مہاجرین نے اس علاقے کو نئے سرے سے آباد کیا۔ یہاں گلیاں تنگ ہیں اور گھر پرانے زمانے کے بنے ہوئے گھر ہیں۔

 جب تک ہندوؤں کی اکثریت رہی ہندوؤں کے علاقوں کی گلیاں تنگ تھیں البتہ جب سکھ یہاں آ کر آباد ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے جو گلیاں بنائیں وہ نسبتاً چوڑی تھیں۔ ہندوؤں کے گھر بھی نیم تاریک ہوا کرتے تھے اور گلیاں بھی کم چوڑی ہوا کرتی تھیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ہندو ایک تو الگ تھلگ رہنا پسند کرتے تھے، دوسرا جو تنگ گلیوں کا جواز پیش کیا جاتا ہے وہ یہ کہ یہ چور، لٹیروں اور ڈاکوؤں سے بچاؤ کی خاطر ایسا کیا جاتا تھا۔ گلیاں اتنی تنگ ہوتی تھیں کہ وہاں سے گھوڑا گھوم نہیں سکتا تھا۔ اس زمانے میں گاڑیاں تو ہوا نہیں کرتی تھیں لہٰذا چور، ڈاکو، لٹیرے بھی گھوڑوں پر آیا کرتے تھے اور وہ ڈاکا مارنے کے بعد صرف آگے کو ہی جاسکتے تھے، پیچھے نہیں جا سکتے تھے۔

 سید پوری گیٹ کی بابت آسان زبان میں یہ سمجھ لیں کہ یہ گورنمنٹ مسلم ہائی اسکول نمبر 2 سے ہی شروع ہوتا تھا مگر کسی قلعے کا گیٹ نہیں تھا۔ تاریخ میں بہت سے پرانے شہر درج ہیں مگر راول پنڈی کی تاریخ عجیب ہے کیوں کہ راول پنڈی کب آباد ہوا، کیسے آباد ہو اور کس نے آباد کیا، اس بارے کوئی حتمی بات موجود نہیں۔ ایک اہم نام بھاپا راول کا ہے جس نے قندھار سے راجستھان واپسی پر مختلف چوکیاں قائم کیں۔ ان ہی چوکیوں سے آگے چل کر راول پنڈی وجود میں آیا۔ پھر سردار جھنڈا خان کا نام لیا جاتا ہے کہ 1493 عیسوی میں سردار جھنڈا خان کو یہ علاقہ میراث میں ملا تھا اور پھر اس نے ایک نئے راول پنڈی کی بنیاد رکھی۔ ایک تیسرا نام کہتا ہے ملیکھا سنگھ تھئے پوریہ کا ہے جو 1763 کے آس پاس راول پنڈی آیا، یہاں محلے آباد کئے، سڑکیں بنوائی، پرانا قلعہ کا علاقہ بھی اسی کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی حوالہ مستند نہیں۔ کہتے ہیں راول پنڈی کا بھابھڑا بازار ہی اصل اور پرانا راول پنڈی تھا مگر یہ بازار کب بنا یا آباد ہوا، اس بارے تاریخ کے صفحات خالی ہیں۔

راول پنڈی کا گمشدہ تالاب:

مائی ویرو کی بنی (بنی مارکیٹ)

 کہتے ہیں کوئی ڈیڑھ دو سو سال پہلے راول پنڈی میں ایک مائی ویرو ہوا کرتی تھی۔ بوڑھی ہوئی تو شوہر کا انتقال ہو گیا، اولاد البتہ نہیں تھی۔ اس نے ایک تالاب بنایا ہوا تھا جہاں وہ ہندو مذہب کے مطابق اشنان کروایا کرتی تھی۔ کہتے ہیں کہ ہندوں کے گھروں میں عام طور پر نہانے کا بندوست نہیں ہوتا تھا۔ اب بھی ہندوستان کا جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ گھروں میں بیت الخلا نہ ہونے کا ہے۔ انہیں نہانے کے لیے ہر صورت باہر جانا پڑتا تھا یا یہ کہ اشنان گھر جایا جاتا تھا۔ اسی طرح مائی ویرو کا تالاب بھی اشنان کے لٹ استعمال ہوتا تھا۔ بن مقامی زبان میں تالاب کو کہتے ہیں لہٰذا اس کا نام پڑ گیا مائی ویرو کا بن۔ یہ بن 1947 تک قائم رہا مگر تقسیم جب ہوئی تو پھر سب کچھ ہی ختم ہوگیا۔ مائی ویرو کا انتقال ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ 1947 سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔ لیکن جو بن تھا وہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوگیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایک سو یا ڈیڑھ سو فٹ گہرا تالاب تھا جب کہ کچھ کے مطابق یہ بیس سے تیس فٹ گہرا تھا۔ چاروں اطراف میں سیڑھیاں تھیں۔ لوگ سیڑھیاں اتر کر نیچے جاتے تھے اور اس تالاب میں اشان کیا کرتے تھے۔ اس کے پانی کا باقاعدہ بندوبست تھا۔ سید پور روڈ سے ایک نالہ آیا کرتا تھا جو آگے چل کر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ یہ نالہ مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف سے آتا تھا۔ ایک حصہ سیدپور روڈ کے ساتھ بہتا ہوا آتا تھا۔ ایک طرف سے وہ پانی تالاب میں داخل ہوتا اور دوسری طرف سے وہ پانی باہر نکل جایا کرتا تھا یعنی وہ پانی رکتا نہیں تھا۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دو تین دن کے بعد اس تالاب کا پانی نکالا جاتا تھا، اس کی صفائی ستھرائی کی جاتی تھی تاکہ لوگوں کو تازہ پانی دست یاب ہوسکے لیکن بعد میں جب لوگ چلے گئے تو یہ تالاب بھی ختم ہو گیا۔ کچھ عرصہ اس میں پانی بھی کھڑا رہا۔ کہتے ہیں محلے کے بچے بھی اس میں ڈوب جایا کرتے تھے تو محلے والوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ کسی طرح اس تالاب کو ختم کر دیا جائے۔ پھر پانی کی آمد بھی رک گئی۔ جیسے جیسے شہر بڑھتا چلا گیا نالے کا راستہ بھی بند ہو گیا اور یہاں پانی آنا ختم ہو گیا۔ یہاں پر کیچڑ بننا شروع ہوگیا اور کیچڑ کے اوپر لوگوں نے جب کوڑا کرکٹ ڈالنا شروع کیا تو حکومت نے اسے بند کردیا اور یہاں ایک مارکیٹ بن گئی۔ یہاں کسی زمانے میں وی سی آر کرائے پر ملا کرتے تھے جب نوے کی دہائی میں وی سی آر ار نیا آیا تو بنی چوک اس کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ پورے راول پنڈی میں کوئی ہندوستانی فلم آپ کو نہیں ملا کرتی تھی تو وہ یہاں سے مل جاتی تھی۔ اب یہ آہستہ آہستہ موبائل مارکیٹ میں تبدیل ہو گیا ہے یعنی بنی مارکیٹ ایک تالات سے شروع ہوئی تھی۔ نام تو اس کا مائی ویرو کا بن تھا لیکن یہ بن سے بنی کیسے بنا، یہ بھی ایک معمہ ہے۔ تالاب کے گرد شاید بیٹھنے کے لیے چھوٹی چھوٹی بَنیاں بنی ہوئی تھیں، اس لئے یہ بن سے بنی ہو گیا۔

 مائی ویرو کے بن کے پاس کسی زمانے میں میلہ بھی لگتا تھا مگر اب یہاں سب نشانیاں ختم ہوچکی ہیں۔ بنی مارکیٹ کے عین سامنے ایک عمارت 1933 کی بنی ہوئی ہے یعنی پاکستان بننے سے چودہ سال پہلے اور اس کے اوپر 1933 لکھا ہوا بھی ہے۔ بنی مارکیٹ میں سامنے کی جانب شادی بیاہ مہندی اور سہرے کی دکانیں ہیں جہاں سے شادی بیاہ کی ہر شے خریدی جاسکتی ہے۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں یہاں چرس کا سرکاری ٹھیکا بھی ملا کرتا تھا یعنی سرکار کی حفاظت میں چرس دست یاب ہوتی تھی۔ یہ صرف نشے کے لیے استعمال نہیں ہوتی بلکہ بعض دواؤں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ بھی سننے کو ملا کہ مائی ویرو کا تالاب تقریباً ستر کی دہائی تک موجود تھا لیکن جب یہاں سے ہندؤں کا خاتمہ ہوا اور ہم نے علاقوں کو اپنے نام دینے شروع کیے تو ہم نے اس مائی ویرو کے بن کو ’’تالاب پختہ بنی‘‘ کا نام دے دیا۔ یہاں ایک سرکاری اسکول کی عمارت پر بھی علاقے کا نام ’’تالاب پختہ بنی‘‘ ہی لکھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگلات روڈ ہے۔ کسی زمانے میں یہاں محکمہ جنگلات کا دفتر تھا اور آگے صرف جنگل ہی جنگل تھا۔ مائی ویرو کا بن بھی راول پنڈی سے باہر ہی تھا۔

 بنی مارکیٹ میں میں نے ایک دل چسپ بات دیکھی جو کم از کم پنجاب کے کسی شہر میں مجھے دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہاں پر نہ صرف چارپائیاں کرائے پر دست یاب ہیں بلکہ گھر لے کر جانے کے لیے بستر بھی کرائے پر ملتے ہیں۔ ہم نے تو اپنے گلی محلوں میں یہی دیکھا ہے کہ ہمارے بچپن میں جب کسی گھر میں شادی ہوتی یا مہمان زیادہ آتے تو بستروں کا اکال پڑ جاتا تھا تو آس پاس کے ہم سایوں سے بستر مانگنے پڑتے تھے یا انہی کے گھر جاکے سونا پڑتا تھا لیکن کم از کم راولپنڈی کی بنی مارکیٹ میں یہ مسئلہ موجود نہیں۔ یہاں صاف ستھرے بستر کرائے پر دست یاب ہیں۔ اگر گھر میں مہمان زیادہ ہوں یا شادی بیاہ کا ماحول ہو تو اپ بنی مارکیٹ سے بستر کرائے پر بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

حویلی سجان سنگھ

راول پنڈی بھابھڑا بازار کی نیم تاریک گلیوں میں آنے والوں کا ممکن ہے کہ سانس گُھٹتا ہو لیکن بہت کم لوگوں کو یہ پتا ہے کہ کبھی انھیں گلیوں میں راول پنڈی کی تاریخ سانس لیا کرتی تھی۔ جو ابتدا کا راول پنڈی تھا وہ اس بھابھڑا بازار اور اس کے ساتھ نیم تاریک گلیوں پر مشتمل ہوتا تھا، لہٰذا جب آپ کسی گلی میں داخل ہوں تو وہ نیم تاریک تو ضرور ہے لیکن اس کی تاریخ بہت قدیم ہے انھیں نیم تاریک گلیوں میں وہ لوگ بھی کبھی رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بہت بڑی جاگیروں کے مالک تھے۔ ان جاگیروں پر آج پاکستان کی قومی اسمبلی، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ، سیکرٹیریٹ کے بہت سے حصے، شاہراہِ دستور اور ایسی بہت سی عمارتیں قائم ہیں یہ مالکان سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور عام طور پر انہیں سردار سجان سنگھ کے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سردار سجان سنگھ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا شجرہ نسب بابا گرو نانک اور ملیکھا سنگھ تھئے پوریہ سے ملتا ہے۔ یہ ملیکھا سنگھ تھئے پوریہ وہی ہے جسے جدید راول پنڈی کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ سردار سجان سنگھ کے دادا، سردار بدھا سنگھ مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور میں راول پنڈی میں محکمۂ مال کے افسر ہوا کرتے تھے۔ کہتے ہیں انھوں نے بہت سارے فلاحی کام کیے، بہت سے ادارے بنائے جہاں لوگوں کی بلامعاوضہ خدمت کی جاتی تھی۔ ان کے والد سردار ننھا سنگھ جن کا انتقال 1871 میں ہوا، انھیں انگریز دربار میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سنگجانی کی سرائے بھی سجان سنگھ کے والد سردار ناند سنگھ نے بنوائی تھی۔ سردار سادھو سنگھ بھی اس کی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے شاہ اللہ دتا میں سادھو باغ بنوایا جو آج بھی تباہ حالت میں موجود ہے۔ سردار سجان سنگھ لکڑی کا کاروبار کرتے تھے، کشمیر سے قیمتی لکڑی منگوایا کرتے تھے اور ان کی جو ورکشاپ تھی وہ آج کی پنڈورا چونگی کے ارد گرد کے علاقے میں موجود تھی۔ راول پنڈی کا مشہور باغ سردارں میں سردار سجان سنگھ کی ملکیت تھا اور اس کے علاوہ ایک جنج گھر بھی بنایا۔ باغ میں ایک بڑا گھنٹہ گھر بھی تھا جس کا گھنٹہ بجنے کی آواز پورے شہر میں سنائی دیتی تھی۔ کشمیر کی پہلی جنگ میں شرکت کے لیے راول پنڈی آنے والے قبائلی لشکر کو باغ سرداراں میں ٹھہرایا گیا جنھوں نے نشان بازی کی مشقوں کے دوران فائرنگ کرکے وہ گھنٹہ گھر تباہ کردیا۔

 1879 میں راول پنڈی پشاور لائن بچھائی گئی تو ریلوے کا سارا سلیپر بھی سجان سنگھ نے ہی مہیا کیا۔ قسمت کی دیوی ان پر اس وقت مہربان ہوئی جب اینگلو افغان جنگوں میں انھیں ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ انھوں نے انگریزی فوج کو اشیاء خورونوش فراہم کیں۔ جانوروں کے لیے چارہ دیا۔ وہ انگریز فوج کو ایندھن نے بھی فراہم کیا کرتے تھے جس کے عوض 1888 میں وائسرائے ہند نے انھیں رائے بہادر کا خطاب کیا۔ اس نے اس زمانے میں دو لاکھ روپے کی لاگت سے بکرے کی گوشت کی مارکیٹ بناکر کے گورنمنٹ کے حوالے کی۔ 1884 میں سجان سنگھ نے صدر میں میسی مارکیٹ بنائی۔ سردار سجان سنگھ نے دو لاکھ روپے کی لاگت سے صدر میں راولپنڈی کے پہلے کمشنر بریگیڈیئر جنرل جان میسی کی یاد میں میسی گیٹ بھی بنوایا جو تقریباً پچاس سال پہلے سڑک کشادہ کرنے کے نام پر توڑ دیا گیا۔ سجان سنگھ نے چچا کے پال سنگھ کے ساتھ مل کر 1890 میں مال لوڈ راول پنڈی پر ایک انسٹیٹیوٹ بھی بنایا جہاں تھیٹر اور ڈانس کے لیے بڑے بڑے ہال بھی بنے ہوئے تھے۔ یہاں فن کاروں کے قیام و طعام کی سہولت بھی موجود تھی۔ 1899 ملکہ وکٹوریا کی گولڈن جوبلی کے موقع پر بنی چوک میں ڈسپنسری بناکر میونسپل کمیٹی کو دی۔ 1901 میں سجان سنگھ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا سردار ہردیپ سنگھ اس کی جائیداد کا وارث بنا مگر وہ بھی تین سال بعد اپنے دو بیٹے سردار موہن سنگھ اور سردار سورس سنگھ کو چھوڑ کر فوت ہو گیا جو ایچسن کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے۔ سردار سجان سنگھ نے 1890 میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خاندانی حویلی کو جدید طریقے سے تعمیر کروائیں گے لہٰذا انھوں نے پورے ہندوستان سے ماہرین تعمیرات کو بلوایا اور اپنی اس حویلی کو ایک شاندار محل میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تین سال میں یہ منصوبہ مکمل ہوا یعنی یہ حویلی 1893 میں مکمل ہوئی۔ اس پر ایک تختی بھی کبھی نصب ہوا کرتی تھی جو 1990 میں اسکریپ میں نیلام کر دی گئی تھی۔

آج قصہ راولپنڈی کی انہی نیم تاریک گلیوں کا ہے جہاں تاریخ سانس لیتی ہے۔ سجان سنگھ کی حویلی راول پنڈی کی وہ پہلی حویلی تھی جس میں نانک شاہی اینٹ کا استعمال کیا گیا۔ ہم اس حویلی کو دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک دور تو اس کا 1893 سے 1947 تک کا تھا جس میں سجان سنگھ کی یہ حویلی ان کے خاندان کے زیر استعمال رہی لیکن 1901 میں جب سردار سجان سنگھ انتقال ہوا تو ان کے بیٹے اور پوتے یہاں سے منتقل ہوگئے اور انھوں نے فلیگ سٹاف ہاؤس جسے اب فاطمہ جناح یونیورسٹی کہا جاتا ہے راول پنڈی کے مریڈی چوک سے کچہری کو سڑک جاتی ہے، سول لائنز کے علاقے میں بہت شان دار حویلی تھی جو سرکاری گیسٹ ہاؤس کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی، وہ وہاں چلے گئے اور یہ حویلی انگریز دور میں ایک سکھ جرنیل کے حوالے کر دی گئی جس نے اس کی دو منزلیں مزید بنوائیں یعنی مجموعی طور پر یہ چار منزلہ حویلی بن گئی اور وہ سکھ جرنیل اس میں ایک عرصے تک مقیم بھی رہا۔ اوپر کی جو دو منزلیں تھیں اس میں اس کے سپاہی تھے مقیم تھے۔ پھر تقسیم کے بعد رائے بہادر سردار سجان سنگھ کا خاندان یہاں سے دہلی ہجرت کر گیا۔ 1947 میں اس حویلی کو 40 کشمیری خاندانوں کے حوالے کردیا گیا جو یہاں 1980 تک مقیم رہے۔ یہ دو حویلیاں تھیں ایک حویلی جو سیدھے ہاتھ پر ہے، اس میں سردار سجان سنگھ کے خاندان کے ملازم رہا کرتے تھے۔ یہ حویلی اب بالکل ختم ہو چکی ہے اور یہ بھی نہیں پتا کہ اس کی ملکیت اب کس کے پاس ہے۔ یہ بھی چھوٹی اینٹ سے بنی ہوئی ہے اور کہتے ہیں کہ اس کا بھی اندر سے شان دار اسٹرکچر ہے۔

 دوسری منزل پر ان دونوں حویلیوں کو ایک لکڑی کے پل کی مدد سے ملایا گیا تھا۔ اسی حویلی کے بارے میں ایک اور روایت بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سردار سجان سنگھ کے چچا کی ملکیت تھی لیکن بعد میں اسے سردار سجان سنگھ نے خرید لیا اور اپنے ملازمین کو اس میں ٹھہرایا۔ دونوں طرف چبوترے بنے ہوئے ہیں جو وہ ایک پرانی طرز تعمیر کا خاصہ رہا ہے۔ باہر دربان بیٹھا کرتے تھے۔ دروازے جس خوب صورتی سے بنائے گئے ہیں، میرا نہیں خیال کہ موجودہ دور کا کوئی ہنر مند ہے اسے بناسکے گا۔

مرکزی دروازے کی لکڑی اس قدر اعلیٰ معیار کی تھی کہ آج تک خراب نہیں ہوئی۔ سردار سجاں سنگھ کا اپنا کاروبار چوں کہ لکڑی کا تھا لہذا اندازہ یہی ہوتا ہے کہ انھوں نے بہترین لکڑی کا انتخاب کیا۔ دوسری طرف سامنے سردار سجان سنگھ کی اپنی حویلی تھی۔ کہتے ہیں چوبیس ہزار مربع فٹ اس کا رقبہ ہوا کرتا تھا جب یہ اپنی اصل حالت میں تھی مگر اب یہ بند بڑی ہے۔ حویلی کا بیرونی دروازہ واقعی کسی شاندار محل کا دروازہ معلوم ہوتا ہے۔ دروازے کے اوپر محراب بنائی گئی ہے۔ سارے دروازے کی لکڑی میں کھدائی کی گئی ہے۔

 سامنے کی طرف دروازے پر مختلف اقسام کے نقش و نگار ہیں۔ کہیں ہاتھی بنا تو کہیں کسی عورت کا روپ ہے۔ اوپر گلدستے بنے ہوئے ہیں۔ دروازے کی محرابیں بہت بڑی ہیں مگر اس میں اب دراڑیں پڑچکی ہیں۔ جس سے یہی تاثر ملتا ہے شاید اب گرنے کے قریب ہیں۔ دیواروں میں چراغ رکھنے کے لیے طاق بنے ہیں۔ ساتھ ہی مہمان خانے کا دروازہ ہے۔ آگے ایک چھوٹا سا برآمدہ بنا ہوا تھا۔ حویلی کی لکڑی سے بنی چھت بھی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ کہا جاتا ہے اس حویلی کے برآمدے میں کبھی مور ناچا کرتے تھے اور ایک شیر بھی اس حویلی کے دربانوں میں سے ایک تھا۔ حویلی میں استعمال ہونے والا لوہا اور تانبا برطانیہ سے منگوایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کہیں کہیں سونے کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔ حویلی کا فرنیچر وکٹورین طرز کا تھا جب کہ حویلی کے برتن چین سے منگوائے گئے تھے۔ اس حویلی کو دیکھ کر اسے باقاعدہ محل کہنے کو جی چاہتا ہے۔ حویلی کا اپنا کنواں تھا۔

 کہتے ہیں کہ حویلی کے آتش دان کے لیے چکلالہ کے جنگلات سے لکڑی لائی جاتی تھی۔ دروازوں میں رنگ برنگے شیشے لگے تھے مگر اب کچھ بھی باقی نہیں البتہ چھت ابھی بھی باقی ہے۔ سجان سنگھ کا شان دار محل اب کھنڈر بن گیا ہوا ہے۔ اگر باہر سے دیواریں دیکھنی ہیں تو وہ بہت زیادہ خوب صورت لگتی ہیں، بہ مقابلہ جو شے اندر بچی ہے۔ حالاں کہ اپنے دور کی یہ خوب صورت ترین حویلی ہوا کرتی تھی۔ یہ راولپنڈی کے اولین مکانات میں سے ایک حویلی تھی جہاں برقی قمقمے روشن ہوئے۔

 پاکستان بننے کے بعد 1947 میں اس حویلی کو حکومت پاکستان نے اپنی ملکیت میں لے لیا اور یہاں کشمیری مہاجرین کو منتقل کر دیا۔ کہتے ہیں چالیس خاندان تھے جو 1980 تک یہاں مقیم رہے۔ 1980 میں انہیں یہ کہہ کر یہاں سے بے دخل کر دیا گیا کہ یہ حویلی ممتاز ایٹمی سائنس داں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے کی کی جا رہی ہے جو یہاں سائنس کالج قائم کریں گے۔ 19 اکتوبر 2006 کو اس وقت وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے حویلی کو کیمپس بنانے کے لیے فاطمہ جناح یونیورسٹی کے سپرد کردیا۔ 2014 میں فاطمہ جناح یونیورسٹی نے اس حویلی کو نیشنل کالج آف آرٹس کے حوالے کیا۔ این سی اے نے اعلان کیا کہ اس تاریخی عمارت میں میوزیم قائم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تین اداروں کے مابین ایک معاہدہ بھی طے پایا جس کے تحت اس حویلی کی تاریخی عمارت کی حفاظت اور بحالی کے لیے تمام تر کوشش عمل میں لائی جانی تھیں۔ اس میں روایتی فنون کو ترقی دے کر تین ادارے فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، راول پنڈی نیشنل کالج آف آرٹس اور بوسٹرن آرکٹیکٹچول کالج یو ایس اے کے طلبہ کے لیے سینٹر آف لرننگ centre of learning  بنایا جانا تھا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ نیشنل کالج اف پارٹس تو یہ چاہتا ہے کہ اسے بحال کیا جائے، بہت سے سرکاری ادارے بھی اس بات کے خواہش مند ہیں مگر مسئلہ اب یہ ہے کہ یہ علاقہ اب بہت گنجان آباد ہو چکا ہے اور یہاں آمد و رفت بہت مشکل ہوچکی ہے۔

 گورنر ہاؤس مری ہو یا شاہراہِ دستور گلی جو پارلیمنٹ ہاؤس میں بنی ہوئی ہے اور اس طرح کے درجنوں پراجیکٹ ہیں جو این سی اے نے مکمل کیے ہیں۔ اگر اس حویلی کو مکمل طور پر این سی اے کے حوالے کردیا جائے اور ایک موٹی رقم بھی فراہم کی جائے تو یہ حویلی بحال ہوسکتی ہے مگر نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔

کلیان مندر

1947 سے پہلے کے راول پنڈی میں ہندوؤں کے بہت سے مندر اور سکھوں کے بہت سے گردوارے موجود تھے ان میں نرن کاری بازار کا نرنکاری گردوارہ، موہن داس ٹیمپل جو لنڈا بازار میں موجود ہے، شیو مندر جو گنج منڈی میں ہے، اردو بازار کا مندر اور اس کے علاؤہ کرشن مندر کباڑی بازار صدر جو آج بھی ہندو مذہب کے ماننے والوں کے لیے کھلا ہے۔ اس کے علاوہ باغ سردارہ کے مندر بہت مشہور تھے۔ یہ وہ مندر تھے جنہیں راول پنڈی کی شان کہا جاتا تھا اس دور میں جب راولپنڈی شہر کی آبادی زیادہ تر ہندوؤں پر مشتمل تھی۔ کوہاٹی بازار راول پنڈی کا وہ بازار ہے جہاں کسی زمانے میں کوہاٹ کی بنی ہوئی چپلیں ملا کرتی تھیں۔ کوہاٹی بازار میں ہی گورنمنٹ قندیل سکینڈری اسپشل ایجوکیشن اسکول ہے جو اصل میں راول پنڈی کا ایک سو پچاس سالہ کلیان مندر ہے۔ کلیان مندر کی تعمیر 1850 میں شروع ہوئی اور یہ تیس سال کے عرصے یعنی 1880 میں تعمیر ہوا۔ یہ مندر لالہ کلیان داس سے منسوب کیا جاتا ہے جو راول پنڈی کے امیر ترین شخصیت تھے۔ تعلق سوری خاندان سے تھا۔ ان کی ایک شان دار حویلی سوری مینشن تھی جسے بعد میں نوری مینشن کر دیا گیا۔ لالہ کلیان داس کی کوئی اولاد نہیں تھی لہٰذا انھوں نے اپنی تمام تر دولت فلاحی کاموں پر خرچ کر دی۔ یہ ایک بڑا مندر تھا جس کے اردگرد کسی زمانے میں ایک سو کمرے موجود تھے اور عمارت کی کئی منزلیں تھیں جو صحن میں کھلا کرتی تھیں۔ ایک زمانے میں اس مندر کے گرد وسیع، صاف اور شفاف اشنان گاہ بھی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس میں ایک آشرم بھی تھا جہاں دور سے آنے والے لوگ ٹھہرا کرتے تھے۔ ایک باغ ہوتا تھا جو ہر خاص و عام کے لیے وقف تھا۔ اس کی تعمیر بہت شان دار طریقے سے کی گئی تھی جو اب تک سلامت ہے۔ حالاں کہ ایک زمانہ بیت گیا لیکن اب بھی اس مندر کی جو بنیادی تعمیر ہے، وہ ٹھیک حالت میں ہے۔ لالہ کلیان چوں کہ خود لکڑی کا کام کرتے تھے لہٰذا اس مندر میں لکڑی کا کام بھی بہت ہوا۔ جب یہ مندر بنا تھا تو چھتوں پر ہندو دیوی اور دیوتاؤں کے رسم و رواج کو اجاگر کیا گیا تھا جس میں انھیں مختلف رسومات ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ سب مناظر پتھروں پر کھدے تھے۔ یہ ہنر اس وقت صرف افغانستان میں موجود تھا یعنی جو ہندوستان کا علاقہ تھا وہاں یہ ہنر ناپید تھا یا نہ ہونے کے برابر تھا۔ یہاں ہندوؤں کے تین بڑے بھگوانوں برہما، ویشنو اور شیوا کی کچھ ایسی تصاویر ہیں جو عام طور پر دیکھنے کو نہیں ملتی۔

 اس مندر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوؤں کی ایک سالانہ یاترا کشمیر کے پہاڑوں میں ہوتی ہے جسے امر ناتھ کہا جاتا ہے۔ مختلف علاقوں سے ہندو اس مندر میں اکٹھا ہوتے اور پھر یہاں سے پیدل کشمیر کا رخ کرتے۔ ایک روایت کے مطابق 1946 میں جب یہاں اس مندر میں دو سو کے قریب یاتری موجود تھے تو کرشن بھگوان نے ان یاتریوں کو اپنے درشن دیے تھے اور انھیں عنقریب ایک بڑی تبدیلی اور ہجرت کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔ 1947 میں جب سوری خاندان یہاں سے دہلی چلا گیا تو ان کا گھر اور ان کے سے منسوب ساری قصے اور کہانیاں وہ بھی دم توڑ گئیں۔ 1950 میں یہ مندر محکمۂ اوقاف کے حوالے کر دیا گیا جب کہ 1973 میں اس میں گورنمنٹ اسکول قائم کیا گیا جو نابینا بچوں کے لیے تھا۔ 1973 میں پنجاب حکومت نے مندر میں کچھ تبدیلیاں کیں اور اس کا تقریباً ستر فی صد سے زیادہ حصہ تھا ایک مدرسے کو دے دیا گیا جب کہ باقی تیس فیصد حصے پر اب اسکول میں موجود ہے۔ اشنان گاہ کو بھی ختم کر دیا گیا۔ میرے سننے میں آیا تھا کہ 2005 میں لالہ کلیان داس کے پوتے نے اس مندر کا دورہ کیا اور مندر کی بہتری کے لیے رقم بھی فراہم کی۔ اب صورت حال یہ کہ اس منظر کو مرمت اور تزئین و ارائش کی بھی اشد ضرورت ہے، دیواریں خستہ ہوچکی ہیں، چھتیں ٹپک رہی ہیں اور مورتیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ایک زمانے میں بہت سی مورتیاں ہوا کرتی تھیں ان میں لیکن اب چند ایک مورتیوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔

سب جانتے ہیں کہ ہندو مذہب میں ذات پات کا بہت عمل داخل ہے۔ کلیان مندر کے تین درجات تھے۔ پہلا درجہ صرف برہمن ذات کے لیے مختص تھا، دوسرا درجہ عام ذاتوں کے لیے جب کہ تیسرا درجہ شودروں کے لیے تھا۔ کلیان مندر کو بنانے کے لیے سنگِ مرمر کے علاوہ پکی اینٹ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ تین محراب والے دروازے ہیں۔ جہاں کنول کے پھول بنے ہوئے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر گیا مگر مندر کی خوب صورتی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ مندر میں بہت ہی خوب صورت مناظر کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ ایک جگہ ایک مرد بیٹھا آرام کر رہا ہے اور عورت اسے ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے رہی ہے۔ ایک جگہ رام اور سیتا کی مورتی بنی ہے۔ جس جگہ تین مورتیاں رکھی ہوتی تھیں، وہاں گنیش مہاراج بیٹھے ہیں۔

 کہتے ہیں کلیان مندر میں جو بھگوانوں کی تصاویر بنی ہیں، ان میں سونے کی تاروں کا استعمال کیا گیا تھا۔ برآمدے کا طرزتعمیر کچھ اس طرح کا ہے کہ ستون کے نیچے کنول کا پھول بنا ہے جسے ہندو تعمیرات میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اوپر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں، چھت پر پھول بنے ہیں۔ آپ کلیان مندر میں جس طرف بھی نظر دوڑائیں تو آپ کو خوب صورتی ہی نظر آئے گی۔ کسی زمانے میں یہاں برہما، ویشنو اور شیوا تینوں کی مورتیاں رکھی ہوتی تھیں جب کہ اب صرف نشانی کے طور پر ایک ہی مورتی رکھی ہے۔ مندر کا دروازہ پرانا ہی ہے۔ بلاشبہہ یہ راول پنڈی کا گئے وقتوں میں بھی سب سے خوب صورت مندر ہوگا۔ آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ جس عمارت کو بننے میں تیس سال لگے ہوں، وہ کیسی خوب صورت شے ہوگی۔ یہاں ایک کمرا خواتین کے لیے بھی مختص تھا جہاں خواتین ہر وقت پوجاپاٹ کرتی رہتی تھیں۔ ایک دوسرے کمرے کی چھت پر ایک پھول بنا ہوا ہے جس پر ایک چہرہ بنا نظر آتا ہے اور اس چہرے کے گرد سورج کی روشنی دکھائی گئی ہے۔

1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے وقت اس مندر کو نقصان پہچانے کی کوشش کی گئی جسے مقامی لوگوں نے ناکام بنادیا۔ باہر سڑک سے تو مندر کے صرف پانچ شکارے ہی نظر آتے ہیں۔ سڑک سے گزرنے والے یہ نہیں جانتے کہ اس عمارت کے اندر کیسا خزانہ موجود ہے۔ اس علاقے میں کہتے ہیں کہ کم از کم سات سے بارہ مندر موجود تھے مگر اب صرف ایک ہی باقی ہے۔ اگر حکومت اور نجی ادارے کلیان سنگھ کے اس مندر کو محفوظ کرلیتے ہیں تو یہ ان کا اہلِ راول پنڈی پر احسان ہوگا۔

میں محبوب عالم صاحب کے ساتھ شہرِ دل رُبا (راول پنڈی) کی گلیاں گھوم رہا تھا۔ وہ مجھے ہر گلی یا علاقے کے بارے میں کچھ نہ کچھ راہ نمائی کر رہے تھے۔ جب ہم قصائی والی گلی کے قریب پہنچے تو محبوب صاحب مسکراتے ہوئے بولے ’’یہ قصائی والی گلی ہے، راول پنڈی کا پرانا چکلہ۔‘‘