16 جون کو امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا کہ اس کی امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ (INDOPACOM) باضابطہ طور پر اپنا سابقہ نام، امریکی پیسیفک کمانڈ (PACOM) اختیار کر رہی ہے۔ اِس اقدام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے اُس فیصلے کو الٹ دیا جس کے تحت افواج ِ امریکہ کی سب سے بڑی جنگی کمانڈ کے نام میں ’’انڈو‘‘ لفظ شامل کیا گیا تھا۔
ماہرین عسکریات نے جون 2018 ء میں کہا تھا کہ نام میں کی گئی یہ تبدیلی ’’واشنگٹن کی سٹریٹجک سوچ میں بھارت کی بڑھتی اہمیت اجاگر کرتی ہے اور امریکی حکومت کے ’’ایشیا نیکسس‘‘( Nexus) میں بھارت کے دوبارہ داخلے کی علامت بھی ہے۔‘‘نئی دہلی جتنا بھی احتجاج کرے، یہ تبدیلی اس کے بالکل برعکس اشارہ دیتی ہے: واشنگٹن کی سٹریٹجک سوچ میں بھارت کی اہمیت میں کمی آ چکی اور امریکی حکومت کے ’’ایشیا نیکسس‘‘ سے اس کا خروج انجام پا چکا۔
اس تبدیلی کے اشارے مئی کے آخر میں شینگری-لا ڈائیلاگ میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی تقریر سے پہلے ہی مل چکے تھے۔ وہاں موجود ایک ایشیائی سفارت کار یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’’بھارت کا ذکر سب سے آخر میں کیا گیا ۔‘‘ہیگستھ نے بھارت کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے جنوبی کوریا، فلپائن، جاپان، آسٹریلیا، سنگاپور، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط بھارت جو ’’اپنے ذاتی مفاد میں کام کر رہا ہو،‘‘علاقائی طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے مشترکہ ہدف آگے بڑھا سکتا ہے… یہ کسی مربوط حکمتِ عملی میں ایک بنیادی اتحادی کی تعریف ہرگز نہیں تھی۔
تین بنیادی نکات
تاہم نام کی یہ تبدیلی چین کے ساتھ امریکہ کے مقابلے کو مدہم کرنے کی عکاس نہیں ۔ اس کے برعکس اُس نے یہ امریکی حکمت عملی واضح کر دی کہ چین کے ساتھ مقابلہ اصل میں کہاں لڑا جائے گا اور کہاں نہیں ۔ یہ فیصلہ حکمتِ عملی کو درست سمت میں لے جاتا ہے اور اِس سے تین اہم نکات سامنے آتے ہیں۔
٭پہلا نکتہ: یہ حقیقت کہ پینٹاگون نے کسی فوری وجہ یا اشتعال کے بغیر یہ اہم اقدام اٹھایا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک سوچی سمجھی معلومات بھیج رہا ہے: بحرِ ہند چین سے نمٹنے کے لیے مرکزی اہمیت کا حامل نہیں ۔
یہ پیغام اتحادیوں اور خود بیجنگ، دونوں کے لیے ہے۔ اپنے اتحادیوں کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ چین کے ساتھ ممکنہ تنازع کی صورت میں امریکہ آبنائے تائیوان پر توجہ مرکوز کرے گا اور بنیادی طور پر جاپان اور فلپائن سے کارروائیاں کرے گا۔ دیگر تمام خطّوں میں اتحادیوں اور شراکت داروں سے روایتی دفاع کی بنیادی ذمے داری ’’خود‘‘ سنبھالنے کی توقع کی جائے گی۔ جنوبی کوریا شمالی کوریا کو روکے گا، یورپ روس کا مقابلہ کرے گا اور بحرِ ہند کی نگرانی اور کنٹرول کا معاملہ بڑی حد تک بھارت کے حصے میں آئے گا۔
علامتی طور پر بھی ہیگستھ نے اپنی شینگری-لا تقریر میں "انڈو-پیسیفک" کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہوں نے جاپانی وزیر اعظم ثنا تاکایچی کی اُن کوششوں کا حوالہ دیا جو وہ اپنے سرپرست، آنجہانی شینزو آبے کے پیش کردہ ’’آزاد اور کھلے انڈو-پیسیفک‘‘ تصّور کو جدید بنانے کے لیے کر رہی ہیں۔ گویا جاپان کے اس سٹریٹجک فریم ورک کو جلد دوبارہ سوچنے کی ضرورت پڑ ے گی۔ چین کے لیے یہ پیغام اتنا ہی واضح ہے: کسی بھی بحران کی صورت میں امریکہ تمام دیگر محاذوں کے مقابلے میں آبنائے تائیوان کو ترجیح دے گا۔
٭دوسرا نکتہ: یہ تبدیلی اشارہ کرتی ہے کہ بھارت کو اُس بنیادی ہنگامی صورتحال سے باہر نکالا جا رہا ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے یعنی تائیوان۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے پیپلز لبریشن آرمی کو ہدایت کی ہے ، وہ ضرورت پڑنے پر 2027 ء تک تائیوان پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے لیے تیار رہے۔ ٹرمپ انتظامیہ غیر جانبدار یا منافق رہنے والوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ یہ ان اتحادیوں کو ترجیح دے رہی ہے جیسے جنوبی کوریا اور فلپائن جو اس طرح کام کرتے ہیں جیسے ’’فرنٹ لائن پر رہ رہے ہوں،‘‘ جیسا کہ ہیگستھ نے کہا۔ بھارت کسی بلاک کا حصہ نہیں اور واشنگٹن اب یہ ُامید نہیں لگا رہا کہ کسی دن وہ اس میں شامل ہو جائے گا۔
٭تیسرا نکتہ – اور سب سے دلچسپ:امریکہ اب بھارت کو ایک سٹریٹجک مرکز کے بجائے ایک عام شراکت دار کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔یوں واشنگٹن کو بھارت کے روایتی حریف، پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں زیادہ لچک حاصل ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ گفت و شنید کرنے کی خاطر ایک اہم بیک چینل کے طور پر پاکستان کا رخ کیا ۔ 2025 ء کا پاک-بھارت بحران ٹھنڈا کرنے کے لیے پاکستانی حکومت پر بھروسہ کیا اور اسے ابراہیمی معاہدے کی توسیع پر بات چیت کے لیے بھی مدعو کیاگیا۔
پاکستان کی اہمیت بھارت نہیں بلکہ چین کے مغرب کی طرف جھکاؤکی وجہ سے ہے۔ گزشتہ 15 سال میں چین نے بحرِ ہند کے راستوں، جیسے آبنائے ملاکا اور ہرمز پر بحری توانائی کا اپنا انحصار مسلسل کم کیا ہے۔وہ اس کے بجائے وسطی ایشیا کے زمینی پائپ لائنوں کے نیٹ ورک کی طرف منتقل ہوا ہے۔ یوریشیا کی طرف چین کے اِس جھکاؤ کا جواب دینے اور سمجھنے میں بھارت نہیں بلکہ پاکستان ایک زیادہ متعلقہ شراکت دار بن کر ابھرتا ہے۔
طاقت کا استعمال بدل رہا
’’ پیسیفک کمانڈ‘‘ کی طرف واپسی انہی سٹریٹجک حقائق کی عکاس ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ چین کے ساتھ امریکی مقابلے کا تعین جغرافیائی پھیلاؤ یا مبہم اقدار پر مبنی گٹھ جوڑ نہیں بلکہ سٹریٹجک واضح پن سے ہوگا۔ اور یہ ایک درست اقدام ہے۔تاہم تجزیہ کار اس پیشرفت کو بھارت کے لیے ایک اور سفارتی دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس سے قبل’’ معرکہ بنیان مرصوص‘‘میں پاکستان نے عسکری طور پہ کہیں زیادہ طاقتور، بھارت کو کاری ضرب لگا کر اسے سخت دھچکا پہنچایا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے خلاف لڑا گیا یہ معرکہ بین الاقوامی تعلقات کی عصری درسی کتب میں ایک خاص مقام کی حقدار ہے۔ اس لیے نہیں کہ معرکے نے طاقت کے بارے میں ہمارے تمام معلوم نظریات الٹ دئیے، بلکہ اس لیے کہ یہ ظاہر کرتاہے ،دنیا میں طاقت کا استعمال کس طرح بدل رہا ۔
ریاستوں کے مابین تعلقات کے کلاسیکی (روایتی) طریقے اب بھی اہمیت رکھتے ہیں اور طاقت کا توازن ختم نہیں ہوا ۔ فوجی برتری کی اب بھی اہمیت ہے، لیکن طاقت استعمال کرنے کے نتائج پہلے کے مقابلے میں کم قابلِ پیشن گوئی ہو چکے کیونکہ جبر یا دباؤ اب سیدھے اور یکساں نتائج پیدا نہیں کرتا۔ یہ بات نہ صرف براہِ راست فوجی مداخلت پر لاگو ہوتی ہے،جیسا کہ ایران کے معاملے میں دیکھا گیا بلکہ پابندیوں اور دباؤ کی دیگر شکلوں پر بھی صادق آتی ہے۔
اگر وہ لفاظی اور بیانیہ ہٹا کر دیکھا جائے جو تمام فریقین کو اپنے اندرونی سیاسی مقاصد پانے کے لیے درکار ہوتا ہے، تو تصویر بالکل واضح ہے۔ ایک ایسا ملک ، بھارت جو واضح طور پر ہر لحاظ سے زیادہ مضبوط تھا ، اپنے وہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا جو اس نے بظاہر کمزور حریف کے خلاف فوجی مہم شروع کرتے وقت طے کیے تھے: یعنی دنیا والوں کو یہ بتانا کہ پاکستان عسکری طور پہ کمزور مملکت ہے اور بھارت اب ایک بڑی فوجی طاقت بن چکا۔
مقصد ایک ایسی حکومت پر تیز رفتار اور کاری ضرب لگانا تھا جسے معاشی مسائل ، بیرونی دباؤ اور اندرونی اختلافات کی وجہ سے کمزور سمجھا جا رہا تھا۔یہی وجہ ہے، بھارتی وزیراعظم، نریندر مودی نے بڑے غرور و تکبر سے پاکستان پہ حملے کا آغاز کیا۔بھارتی حکمران طبقے نے پہلے ہی فرض کر لیا تھا کہ پاکستان ان کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا اور کوئی بڑی جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس اور حملہ آور فریق کی برتر افواج کا سامنا غیر متوقع طور پر شدید مزاحمت سے ہوا۔ بھارت کے ابتدائی حملے کامیاب رہے مگر پاکستان بکھرا نہیں، بلکہ اس نے بڑی تیزی سے خود کو منظم کر کے متحرک کیا اور بھارتی جنگی طیارے یکے بعد دیگرے مار گرائے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اس دوران پاکستان نے ان بہت سی پابندیوں اور رکاوٹوں کو پسِ پشت ڈال دیا جنہوں نے پہلے اُس کا ردعمل محدود کر رکھا تھا۔
یہیں سے نئے دور کی ایک نمایاں خصوصیت سامنے آئی جسے ’’غیر متناسب جوابی کارروائی‘‘ کہا جا رہا ہے۔ پاکستان روایتی طاقت میں بھارت اور اس کے حمایتیوں جیسے اسرائیل وروس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، لیکن اسے ایسا کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ کیونکہ اس نے اپنے پاس موجود وسائل اِس انداز میں استعمال کیے جس نے دشمن کے بہت سے فوائد بے اثر کر ڈالے۔یہ یقینی ہے کہ معرکہ بنیان مرصوص سے افواج ایران نے بھی اہم سبق حاصل کیے ۔پاکستان کی طرح ایرانیوں نے بھی امریکہ واسرائیل کے تابڑتوڑ حملوں کا بخوبی مقابلہ کیا اور پھر اپنے وسائل اِس انداز میں استعمال کیے کہ دشمن کے بہت سے کاری وار بے اثر کر ڈالے۔
ایران کے اقدامات
پہلا یہ کہ اس نے سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم آبنائے ہرمز بند کرنے کی طرف قدم بڑھایا۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جسے انجام دینے کی وہ طویل عرصے سے دھمکی دے رہا تھا لیکن پہلے کبھی ایسا کرنے کی جرات نہیں کی تھی۔ دوسرے ایران نے خطّے میں نہ صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ امریکہ کے اہم شراکت داروں کے اثاثوں پر بھی وار کیے۔ تیسرا یہ کہ ہتھیاروں کے ایک بڑے ذخیرے پر انحصار کیا جو اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کم تر لیکن ایسے ممالک کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی تھا جو اِس طرح کے وار سہنے کے عادی نہیں تھے۔ چوتھا یہ کہ ایران نے نقصان برداشت کرنے کا ایسا حوصلہ اور صلاحیت دکھائی جو اس کے دشمنوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
موجودہ نتیجہ خود بول رہا ہے کیونکہ اُن مسائل میں سے کوئی ایک بھی حل نہیں ہو سکا جن کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل جنگ میں کودے تھے۔ ہر چیز کو ایک بار پھر مستقبل کے مذاکرات پر ٹال دیا گیا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ ایرانی سفارت کاری کی روایت میں مذاکرات کا مطلب مستقل مزاجی اور صبر ہے۔
بنیادی طور پر ایک شدید مسلح تصادم کے بعد جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی تھی، وہی جمود یا ’’سٹیس کو‘‘ بحال کر دیا گیا جو جنگ کے آغاز میں تباہ ہو گیا تھا۔ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا جانا ہے۔ اگرچہ اس کی شرائط مبہم ہیں کیونکہ دونوں فریق اُن کی مختلف تشریح کرتے ہیں۔
روس کا یوکرین پہ حملہ، پاکستان و بھارت کا حالیہ معرکہ اور ایران پہ امریکی واسرائیلی دھاوا ،یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے ذریعے کسی بھی قسم کے مقاصد حاصل کرنے کی گنجائش سکڑرہی ہے۔ کمزور فریق کی مزاحمت کرنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے، جبکہ مضبوط فریق کی سنگین خطرات مول لینے کی خواہش کم ہوئی ہے کیونکہ یوں اسے ملکی استحکام کے سلسلے میں خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات کئی تنازعات پر صادق آتی ہے۔
مثال کے طور پر ایران جنگ کا وسیع تر سیاسی نتیجہ امریکہ کی شکل میں غالب طاقت کا نسبتاً کمزور ہونا ہے۔ ٹرمپ نے یہ دکھایا ہے کہ وہ ایک اور بڑے پیمانے کے فوجی تصادم میں الجھنے سے شدید گریزاں تھے کیونکہ وہ خود اپنی شروع کردہ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ۔ایک طرح سے یہ عام فہم (عقل مندی) کی بات ہے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ جنگ کا اگلا دور بھی ممکنہ طور پر پہلے دور کی طرح تعطل پر ہی ختم ہوگا۔ لیکن دوسری سطح پر یہ عمل دنیا والوں کو ایک سگنل بھیجتا ہے کہ امریکہ اب محض ساکھ بچانے اور اپنا غلبہ برقرار رکھنے کے لیے غیر ضروری خطرات مول لینے کو تیار نہیں ۔ اس کے شراکت دار اب بھی امریکی طاقت ذہن میں رکھیں گے لیکن وہ اب یہ فرض نہیں کر سکتے کہ واشنگٹن ہمیشہ ان کے لیے آخری بوجھ خود اٹھائے گا۔

فریم ورک ہل گیا
یہ ایک عالمی رجحان ہے، محض مشرقِ وسطیٰ کا معاملہ نہیں ۔ یہ اس خطّے میں خاص طور پر نمایاں ہے، لیکن یہی منطق دیگر مقامات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ درمیانی مدت میں اس کا کیا مطلب ہوگا لیکن ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کا وہ پورا فریم ورک ہل کر رہ گیا جس کی تعمیر ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران شروع ہوئی تھی۔ وہ فریم ورک اپنے عرب پڑوسیوں خاص طور پر امیر خلیجی ممالک کے ساتھ اسرائیل کی بتدریج مفاہمت پر مبنی تھا۔ اس کا دارومدار مالیاتی باہمی انحصار، تکنیکی تعاون اور ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کو تنہا کرنے پر تھا۔
اس حکمتِ عملی کو 2023 ء میں اس وقت شدید دھچکا لگا جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا اور اسرائیل نے بڑے پیمانے پر طاقت کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ تاہم غزہ جنگ بھی یہ منصوبہ پوری طرح پٹری سے نہ اتار سکی بلکہ صرف اس میں تاخیر پیدا کی۔ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اس معاملے کو زیادہ فیصلہ کن انداز میں طے کرنا تھا۔کئی ماہرین دعوی کرتے ہیں، اس جنگ کے ذریعے اسرائیلی فوجی بالادستی کے تحت خطے کی نئی شکل کو مستقل طور پر ترتیب دینا تھا تاکہ امریکی سرپرستی میں طاقت کا ایک نیا توازن پیدا کیا جا سکے۔ لیکن ایران کو شکست دینے میں ناکامی نے اس پورے کام میں رکاوٹ ڈال دی ۔
تنازع کے موجودہ مرحلے نے کچھ بھی حل نہیں کیا، جس کا مطلب ہے کہ اپنے مقاصد طاقت کے ذریعے پانے کی مزید کوششیں متوقع ہیں۔ لیکن وہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے کم سازگار حالات میں ہوں گی۔ واشنگٹن کی نسبتاً ناکامی اور تہران کی نسبتاً کامیابی…اگرچہ ایران کو پہنچنے والے نقصان کوکم نہیں سمجھا جانا چاہیے،طاقت کا توازن ایران کے حق میں منتقل کر رہی ہے۔
اب بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کی نئی اور نوجوان قیادت جسے جزوی طور پر خود اسرائیل اپنے اقدامات سے سامنے لایا ہے، اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ مزید ہلچل کا خطرہ برقرار ہے کیونکہ کوئی تصفیہ نہیں ہو پایا اور کوئی مستحکم علاقائی نظم و ضبط بھی ابھر کر سامنے نہیں آیا تو تنازع مزید بڑھے گا۔
جنگیں پیچیدہ ہو چکیں
ایران جنگ نے بہرحال ایک نتیجہ واضح کر دیا جسے پہلے روس ویوکرین مجادلہ اور پھر پاک بھارت معرکہ اجاگر کر چکے …یہ کہ وہ دور ختم ہو رہا ہے جس میں اعلیٰ (برتر) عسکری و معاشی طاقت قابلِ اعتماد طریقے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل کر سکتی تھی۔ جنگیں اب مزید پیچیدہ ہورہی ہیں۔ ان کے نتائج کم قابلِ کنٹرول اور نتائج غیر متوقع ہو رہے ہیں۔ امریکہ، روس،بھارت اور اسرائیل اب بھی زبردست فوجی طاقت کے مالک ہو سکتے ہیں، لیکن یوکرین ، پاکستان اور ایران نے جو دکھایا وہ یہ ہے کہ اب محض عسکری طور پہ طاقتور ہونا فتح کی ضمانت نہیں رہا۔
کمانڈ اینڈ اسٹاف کورس میں حصہ لینے والے ہر فوجی افسر کو ایک سبق بار بار سکھایا جاتا ہے: سیاسی اور فوجی مقاصد کا ہمیشہ ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے۔ فوجی طاقت بذاتِ خود کوئی منزل نہیں بلکہ یہ وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ اصول تزویراتی (اسٹریٹجک) سوچ کی بنیاد ہے اور آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ماضی کے دور میں تھا۔
پھر بھی دورِ حاضر کے تنازعات ہمیں ایک تلخ سوال پوچھنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگر فوجی برتری اب کسی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی، تو کیا فوجی کامیابی اور سیاسی نتائج کا باہمی تعلق روایتی تزویراتی سوچ کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ؟ویتنام اور افغانستان سے لے کر یوکرین، غزہ اور خلیج فارس میں جاری محاذ آرائی تک، فوجی طاقت نے بارہا تباہی مچانے، خلل ڈالنے اور بھاری قیمت وصول کرنے کی اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے۔ لیکن جس چیز میں اُسے بڑھتی مشکل کا سامنا ہے، وہ ہے میدانِ جنگ کی کامیابی کو پائیدار سیاسی نتائج میں تبدیل کرنا۔ یہ جدید جنگ کا سب سے بڑا تزویراتی چیلنج ہو سکتا ہے۔
غیر یقینی فتح کا دور
تاریخی طور پر فوجی برتری سے سیاسی نتائج حاصل ہونے کی اُمید کی جاتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم اس کی کلاسک مثال ہے۔ جرمنی اور جاپان کو عبرتناک فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا، نتیجے میں واضح سیاسی نتائج برآمد ہوئے۔ یوں فوجی اور سیاسی مقاصد ایک جگہ جمع ہو نے سے کامیابی مل گئی مگر آج کی جنگ مختلف دکھائی دیتی ہے۔امریکا کو ویتنام، عراق اور افغانستان میں زبردست فوجی برتری حاصل تھی پھر بھی وہاں سیاسی نتائج ہاتھ نہ آ سکے۔ تزویراتی فتوحات تو جمع ہوتی گئیں لیکن اسٹریٹجک کامیابی غیر یقینی رہی۔ ایسا لگتا کہ فوجی کامیابیاں اور سیاسی مقاصد بالکل مختلف اوقات اور اکثر اوقات بالکل الگ دائروں میں کام کر رہے ہیں۔
یہ رجحان کسی ایک ملک یا ایک تنازع تک محدود نہیں ، یہ خود جنگ کی نوعیت میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ آج کے دور میں فتح کی تعریف کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ فوجی دستے زمین پر قبضہ، انفراسٹرکچر تباہ اور دشمن کی صلاحیتیں کمزور کر سکتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان کامیابیوں سے سیاسی اطاعت، قبولیت یا استحکام بھی حاصل ہو۔ طاقتور فریق جنگیں تو جیت جاتا ہے لیکن اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتا ہے۔
توازن بدل چکا
اس تبدیلی میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا ہے۔ایٹمی ڈیٹرنس (جوہری روک تھام) نے بڑی طاقتوں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اقتصادی طور پر ایک دوسرے پر انحصار نے طویل تنازعات کی قیمت بہت بڑھا دی ہے۔ عالمی میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس نے عوامی رائے کو ایک تزویراتی دائرے میں بدل دیا جہاں اب روایتی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انفارمیشن وارفیئر (اطلاعاتی جنگ) بھی چلتی ہے۔ اسی کے ساتھ ڈرون، سائبر صلاحیتوں اور گائیڈڈ ہتھیاروں جیسی نسبتاً سستی ٹیکنالوجیوں نے کمزور قوتوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ طاقتور دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچا سکیں۔ نتیجہ یہ کہ فوجی برتری اب بھی اہم تو ہے، لیکن اُس طرح فیصلہ کن نہیں رہی جیسے کبھی ہوا کرتی تھی۔
کمزور فریق کو اکثر اب جیتنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اُسے صرف طاقتور فریق کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے سے روکنا ہوتا ہے۔ یوں محض بقا ہی کامیابی کی ایک شکل بن جاتی ہے۔ اس تبدیلی نے تنازعات کے تزویراتی حساب کتاب کو بنیادی طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
عصری جنگوں کے اسباق
یوکرین کی جنگ یہ حقیقت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ بے پناہ فوجی کوششوں اور وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود کوئی بھی فریق فیصلہ کن سیاسی کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ یہ تنازع اب برداشت، صنعتی صلاحیت، قومی لچک اور سیاسی عزم کا ایک طویل مقابلہ بن چکا ۔اسی طرح غزہ اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات ثابت کرتے ہیں کہ فوجی تسلّط خود بخود سیاسی خاتمے (یا حل) کا باعث نہیں بن سکتا۔ برتر جنگی طاقت بھاری نقصان پہنچا اور اہم فوجی مقاصد حاصل کر سکتی ہے لیکن کامیابیوں کو طویل مدتی سیاسی نتائج میں بدلنا اب بھی مشکل ہے۔
روس و یوکرین ، ایران و اسرائیل اور جاری دیگر تصادم ایک اور سبق دیتے ہیں۔ یہ کہ بڑے پیمانے پر فوجی تبادلوں اور سخت تناؤ کے باوجود مختلف فریقین کے بہت سے اعلانیہ مقاصد تاحال ادھورے ہیں۔ یہ تنازع طاقت کے زور پر بات منوانے کی حدود ظاہر کرتے ہیں۔ فوجی طاقت اہداف تباہ اور نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن خود بخود مطلوبہ سیاسی رویّہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔جدید میدانِ جنگ فیصلہ کن نتائج کے بجائے تیزی سے ’’تزویراتی ابہام ‘‘ پیدا کر رہا ہے۔
جدید عسکریات میں جنم لیتی تبدیلیاں پاکستان کے لیے ایک بڑے تزویراتی فریم ورک کے اندر اپنا کردار پہچانتے ہوئے مضبوط فوجی صلاحیتیں برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔فوجی طاقت ناگزیر ہے۔ ڈیٹرنس کے لیے ساکھ کا ہونا ضروری ہے۔ قومی مفادات کا تحفظ اور سرحدوں کو محفوظ بنانا لازم ہے۔لیکن صرف فوجی طاقت ہی اسٹریٹجک کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ ساتھ ساتھ لچک، سفارت کاری، معاشی طاقت، تکنیکی صلاحیت اور سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔
حالیہ جنگوں کے تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی تیاری اور سیاسی مقاصد کا آپس میں مضبوطی سے جڑا رہنا ضروری ہے۔ اسٹاف کالجوں میں پڑھایا جانے والا اصول آج بھی برقرار ہے، جو چیز بدلی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کی پیچیدگی ہے۔فوجی کمانڈر مواقع تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن وہ تنہا سیاسی یا کسی قسم کے نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔
فتح پر نظرِ ثانی
معاصر تنازعات کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ خود ’’فتح‘‘ کے تصّّور پر ہی نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔فوجی برتری قومی طاقت کا لازمی حصہ ہے۔ تیزی سے غیر یقینی ہوتی دنیا میں اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ جو چیز بدلی ہے وہ یہ مفروضہ ہے کہ برتر فوجی صلاحیت خود بخود سیاسی کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔
مستقبل کے تنازعات طویل ابہام، بیانیوں کی جنگ اور غیر یقینی نتائج سے بھرپور ہوں گے۔ اس لیے ممکنہ جارحیت پسندوں کے لیے دانشمندی یہی ہوگی کہ وہ احتیاط برتنے لگیں۔ تاریخ کبھی ان لوگوں کو انعام دیتی تھی جو یہ سمجھتے تھے ، طاقت فتح کو یقینی بنادے گی۔ جدید جنگ تیزی سے ایسے مفروضوں کو عبرت ناک بنانے لگی ہے۔جدید حکمت عملی کا چیلنج اب محض جنگیں جیتنا نہیں رہا، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ فتح کا اصل مطلب کیا ہے اور کیا طے کیے گئے مقاصد صرف فوجی ذرائع سے حاصل کیے جا سکتے ہیں یا نہیں؟