تعارف: کراچی، پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پانی کو ترستی صنعتی و تجارتی رگ، جہاں روزانہ پانی کی طلب 1.2 بلین گیلن ہے اور رسد بمشکل 650 ملین گیلن۔ اس 550 ملین گیلن کے خلا کو پاٹنے کے لیے حکومت نے 2014 میں ایک عظیم منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا: کے فور یا گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم۔لیکن بیس سال بعد، یہ منصوبہ اپنی بے پناہ تاخیر، لاگت میں اضافے اور سب سے بڑھ کر پانی کے بنیادی وسیلے کی خشکی کی وجہ سے ایک مہنگی یادگار بنتا جا رہا ہے۔ میں نے اس منصوبے کے تکنیکی اور مالی پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، اور یہاں میں اپنے مشاہدات پیش کر رہا ہوں۔
کینجھر جھیل: وہ ذخیرہ جو کم پڑگیا:یہ منصوبہ ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل سے پانی لے کر کراچی پہنچانے کا ہے۔ جھیل کی موجودہ ذخیرہ اندوزی صرف 260 MGD (ملین گیلن یومیہ) کے لیے کافی ہے، جو منصوبے کے پہلے مرحلے کے برابر ہے۔ دوسرے اور تیسرے مراحل کے لیے جھیل کو بڑھانا ضروری ہے، جس پر ابھی تک کام شروع نہیں ہوا۔ورلڈ بینک سے 300 ملین ڈالر کی مدد سے جھیل کی گنجائش بڑھانے کا منصوبہ تو بنایا گیا ہے، لیکن جب تک جھیل ہی چھوٹی رہے گی، وہاں کیا ذخیرہ ہوگا؟
پہاڑی راستہ اور پمپنگ کا چیلنج: کینجھر جھیل سے کراچی تک پانی پہنچانے کے لیے 128 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ کرتھر رینج جیسے پہاڑی سلسلے سے گزرتا ہے۔ یہ راستہ انجینئرنگ کے لحاظ سے انتہائی پیچیدہ ہے، جہاں پائپوں کے ساتھ سرنگیں، پل اور بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی آلات درکار ہیں۔ چوںکہ کینجھر جھیل کراچی کی سطح سے نیچے واقع ہے، اس لیے پانی کو شہر تک پہنچانے کے لیے اسے اونچائی پر اٹھانا (lift) پڑتا ہے۔ اس کے لیے دو پمپنگ اسٹیشن تعمیر کیے جا رہے ہیں، ہر ایک 260 MGD کی صلاحیت کے ساتھ۔ یہ پمپس جرمنی سے درآمد کیے جا رہے ہیں اور کام 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن یہ پمپس صرف پانی کو دباؤ دے کر اوپر پھینکیں گے، اور اس کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہے۔
بجلی کا بھاری بل: 50 میگاواٹ اور 14 ارب روپے۔۔۔پانی کو پہاڑ پر چڑھانے کے لیے 50 میگاواٹ (MW) بجلی کی ضرورت ہیْ اتنی بجلی جتنی ایک چھوٹے شہر کو چلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ سندھ کابینہ نے اس بجلی کے انتظامات کے لیے 13.9 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی ہے، جس میں 132 kV کا گرڈ سٹیشن، 26 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن، اور 11 kV ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک شامل ہے۔ اس کے علاوہ عملے کی رہائش کے لیے کالونی بھی تعمیر ہورہی ہے۔ اور یہ صرف ابتدائی سیٹ اپ لاگت ہے۔ آپریشنل مرحلے میں ماہانہ بجلی کے بل کا تخمینہ 1 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ یہ رقم شروع میں صوبائی حکومت ادا کرے گی، لیکن کیا پانی کی قلت کے دور میں یہ طویل مدتی برداشت کر سکے گا؟
فلٹریشن اور اسٹوریج: ایک اور بھاری خرچ:پانی کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے تین فلٹریشن پلانٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں (ایک 130 MGD اور دو 65 MGD صلاحیت کے)۔ اس کے علاوہ تین بڑے اسٹوریج لگونز (تالاب) بھی بنائے جا رہے ہیں تاکہ پانی کو عارضی طور پر ذخیرہ کیا جا سکے۔ یہ سارا ڈھانچا اتنا وسیع ہے کہ اس کی تعمیر میں پائپ لائن سے بھی زیادہ لاگت آ رہی ہے۔
٭لاگت کا بم: 25 ارب سے 224 ارب روپے:
اب آتے ہیں سب سے چونکا دینے والے اعدادوشمار پر:
مرحلہ / شے رقم (ارب روپے)
٭ 2014 میں ابتدائی تخمینہ 25.5
٭ 2022 میں نظرثانی شدہ تخمینہ 126
٭ 2026 کا موجودہ تخمینہ 224 سے 253
٭ پائپ لائن اور سول ورکس ~80
٭ پاور انفراسٹرکچر 13.9
٭ پمپنگ سٹیشن، فلٹریشن، لگونز ~124
٭ کل لاگت (ممکنہ) 253
یعنی صرف ایک دہائی میں لاگت 10 گنا بڑھ چکی ہے، اور منصوبہ اب بھی مکمل نہیں۔ اس لاگت میں اضافے کی وجوہات میں ڈیزائن میں 42 تبدیلیاں، 22 بار راستے کی تبدیلی (realignment)، اور وفاق و صوبے کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان شامل ہیں۔
سب سے بڑا سوال: پانی ہے کہاں؟: سب سے اہم نکتہ، جب دریائے سندھ میں ہی پانی نہیں ہوگا تو یہ سارا نظام کس چیز کو سپلائی کرے گا؟
آئیے حقائق دیکھتے ہیں: کلری بھگار فیڈر ( Feeder KB) کی ڈیزائن صلاحیت 9,100 کیوسک ہے، لیکن یہ نہر خراب ہوچکی ہے اور فی الحال صرف 7,600 کیوسک پانی لے جا رہی ہے۔ اس نہر کو پختہ (lining) کرنے کا کام تو ہو رہا ہے، لیکن اس سے پانی کی مقدار نہیں بڑھے گی، صرف رساو کم ہوگا۔
سکھر بیراج پر دریائے سندھ سے ریلیز ہونے والا پانی صرف 27,700 کیوسک ہے، جو معمول سے بہت کم ہے۔
IRSA (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) نے K-IV منصوبے کو واٹر کوٹا ہی نہیں دیا تھا۔
یعنی ہم وہی غلطی کر رہے ہیں: مسئلے کی علامت (پانی کی سپلائی) پر اربوں خرچ کر رہے ہیں، جب کہ بنیادی بیماری (دریا کا خشک ہونا) کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
مستقبل کا تاریک امکان: کچھ عرصے بعد سارا نظام بیٹھ جائے گا:جب دریا میں یہ صلاحیت نہیں ہوگی کہ وہ ریگولرلی اتنے پانی کو کراچی تک پہنچاسکے، تو پھر وہی صورت حال ہوگی کہ آپ کے پاس پانی ہی نہیں ہے۔ کہاں سے اسٹور ہوگا اور کہاں سے سپلائی ہوگا؟ کچھ عرصے بعد یہ سارا سسٹم بیٹھ جائے گا۔
مکمل اعدادوشمار کا خلاصہ:
٭ مسئلہ حقیقت
٭ پانی کی طلب (کراچی) MGD 1,200
٭ موجودہ رسد MGD 650
٭ K-IV کی مجوزہ رسد MGD 650 (مکمل ہونے پر)
٭ دریا میں موجود پانی کی سطح خطرناک حد تک کم
٭ جھیل کی ذخیرہ گنجائش صرف پہلے مرحلے کے لیے کافی
٭ آپریشنل بجلی کی ماہانہ لاگت 1 ارب روپے
٭ منصوبے کی موجودہ لاگت (253 ارب) سے کیا ہوسکتا تھا؟ 10 نئے ڈیم یا پوری سندھ میں واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس۔
نتیجہ: کیا K-IVکراچی کی پیاس بجھائے گا یا ایک مہنگی یادگار بن کر رہ جائے گا؟
میں کسی کو مایوس نہیں کرنا چاہتا، لیکن حقائق کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ K-IV ایک ضروری منصوبہ ہے، لیکن بغیر پانی کے منبع کے یہ صرف کاغذوں کا ڈھیر ہے۔ ہمیں سب سے پہلے درج ذیل کام کرنے ہوں گے:
دریائے سندھ میں پانی کی سطح کو بچانا – نئے ڈیم، واٹر شیڈ مینجمنٹ، اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے قومی حکمت عملی۔
زیرزمین پانی کی ریچارج کو یقینی بنانا۔
واٹر ری سائیکلنگ اور ڈی سیلینیشن پلانٹس لگانا جو سمندر کے پانی کو صاف کرسکیں۔
وفاق اور صوبے کے درمیان ہم آہنگی – اس کے بغیر کوئی بڑا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
جب تک ہم ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کریں گے،K-IV جیسے منصوبے صرف اربوں روپے کا ضیاع ثابت ہوں گے۔ اور جس دن کینجھر جھیل خشک ہوگئی، وہ پمپس اور پائپس ایک عجائب گھر کی نمائش بن کر رہ جائیں گی۔
اب آتے ہیں چوتھے مرحلے کی طرف، جو شاید سب سے اہم اور سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا مرحلہ ہے:
چوتھا مرحلہ: کراچی کے اندر پانی کی تقسیم
فرض کریں کہ کسی معجزے کے تحت:
٭ دریا میں پانی آ گیا (جو کم ہورہا ہے، لیکن چلیے فرض کر لیتے ہیں)۔
٭ ینجھر جھیل کو بڑھا دیا گیا (حالاںکہ ابھی تک کام شروع نہیں)۔
٭ پائپ لائن، پمپس اور بجلی کا نظام مکمل ہو گیا (حالاںکہ لاگت 500 ارب تک جاچکی ہے)۔
٭ اور کوئی تخریبی حملہ بھی نہیں ہوا (حالاںکہ اس کا خطرہ شدید ہے)۔
اب جب یہ پانی کراچی کی سرحدوں تک پہنچے گا، تو سوال یہ ہے کہ اسے شہر کے اندر کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ اور کسے ملے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب نہ تو وفاق کے پاس ہے اور نہ صوبے کے پاس۔
چوتھے مرحلے کے تین بڑے مسائل
1۔ کراچی کا اندرونی پائپ نیٹ ورک تباہ حال ہے۔
کراچی کے اندر پانی کی پائپ لائنیں 50 سے 60 سال پرانی ہیں۔ یہ لائنیں: ٹوٹی پھوٹی ہیں، ہر جگہ سے رساؤ ہورہا ہے۔ اندازوں کے مطابق 30 سے 40 فی صد پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ ان کی صلاحیت بہت کم ہے۔ یہ لائنیں اتنا اضافی پانی لے ہی نہیں سکتیں جوK-IV سے آئے گا۔
نتیجہ: اگر یہ پانی ان پرانی لائنوں میں ڈالا گیا تو دو ہی صورتیں ہیں:
٭ یا تو لائنیں پھٹ جائیں گی (کیوںکہ وہ اتنا دباؤ برداشت نہیں کر سکتیں)۔
٭ یا پانی کا زیادہ تر حصہ راستے میں ہی رساو کے باعث ضائع ہو جائے گا۔
کیا ان لائنوں کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ ہے؟ نہیں۔ سندھ حکومت نے اس پر ابھی تک کوئی کام شروع نہیں کیا۔ اور اگر شروع کیا بھی تو اس پر مزید 200 سے 300 ارب روپے کا اضافی خرچ آئے گا۔
2۔ تقسیم کا کوئی شفاف منصوبہ نہیں ہے
اب تک سرکاری سطح پر کوئی واضح دستاویز موجود نہیں کہ K-IVکا پانی کن کن علاقوں کو دیا جائے گا۔ نہ ہی کوئی پالیسی بنائی گئی ہے کہ غریب اور متوسط علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔
بلکہ خفیہ ذرائع اور زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ:
متمول سوسائٹیاں پہلے ہی تناسب سے زیادہ پانی استعمال کر رہی ہیں۔ انھیں 24 گھنٹے پانی ملتا ہے، ان کے پاس سوئمنگ پول، باغات، اور ایئرکنڈیشنر ہیں۔
٭ نئی متمول سوسائٹیاںK-IV کے پانی پر فروغ پائیں گی۔
٭ ریئل اسٹیٹ لابی نے اس منصوبے کو اس لیے سپورٹ کیا ہے تاکہ ان کی زمینوں کی قیمت بڑھ سکے۔
٭ صنعتی زونز (سائٹ، کورنگی، لانڈھی) کو بھی ترجیح دی جائے گی، کیوںکہ فیکٹریاں پانی کے بغیر نہیں چل سکتیں۔
اور عام کراچی والا؟ وہ جہاں رہتا ہے لیاری، اورنگی، بلدیہ، ملیر، گڈاپ، کورنگی، نیو کراچی، نارتھ کراچی، لانڈھی – ان علاقوں کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں آج پانی ہفتے میں دو بار آتا ہے، اور وہ بھی گندا۔ کل کو K-IV کا پانی آئے گا تو وہ ان تک نہیں پہنچے گا۔
3 ۔ ٹینکر مافیا اور کرپشن: کراچی میں پانی کی تقسیم پر ٹینکر مافیا کا قبضہ ہے۔ یہ لوگ سیاست دانوں، بیوروکریٹس اور پولیس کے ساتھ مل کر پانی کی غیرقانونی فروخت کرتے ہیں۔ جب K-IV کا پانی آئے گا، تو یہ مافیا اسے ہائی جیک کر لے گا۔ وہی پرانی کہانی ہوگی:
٭ سرکاری پانی ٹینکروں میں بھرا جائے گا۔
٭ اسے مہنگی قیمت پر غریب علاقوں کو بیچا جائے گا۔
٭ یا پھر وہی لوگ جو آج پانی کے کنکشن رکھتے ہیں (امیر اور بااثر)، کل بھی رکھیں گے۔
کیا حکومت نے اس مافیا کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا ہے؟ نہیں۔ اور نہ ہی کوئی ایسا قانون بنایا گیا ہے جو پانی کی غیرقانونی فروخت کو روک سکے۔
کیا یہ منصوبہ صرف متمول طبقے کی آبادیوں کے لیے ہے؟
مختصر جواب: جی ہاں، بالکل۔
جب کوئی منصوبہ 500 ارب روپے کا بنایا جائے، اور اس کی تقسیم کا کوئی منصوبہ نہ ہو، تو سمجھ لیجیے کہ یہ منصوبہ عوام کے لیے نہیں، چند مخصوص لوگوں کے لیے ہے۔
مذکورہ متمول سوسائٹیوں نے پہلے ہیK-IV کے ساتھ اپنے کنکشن کے لیے زمین اور پیسے لگا رکھے ہیں۔
ان سوسائٹیوں کے اندر نئی پائپ لائنیں بچھائی جاچکی ہیں، جب کہ لیاری اور اورنگی کی لائنیں 50 سال پرانی ہیں۔ اگر واقعی عوام کو پانی دینا مقصد ہوتا تو سب سے پہلے غریب علاقوں کے لیے پائپ لائنز اپ گریڈ کی جاتیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
نتیجہ: جب یہ پانی کراچی پہنچے گا، تو وہ نئی متمول سوسائٹیوں کے سوئمنگ پولز، لانز، اور ایئرکنڈیشنرز میں ضائع ہوجائے گا۔ آپ کے علاقے میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں آئے گی۔
غریب کراچی کا مستقبل:اگر آپ لیاری، اورنگی، بلدیہ، ملیر، گڈاپ، کورنگی، سائٹ، لانڈھی، نیو کراچی، یا نارتھ کراچی میں رہتے ہیں، تو میں آپ کو سچ بتاتا ہوں:
٭ آپ کو اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا۔
٭ آپ کے علاقے کی پائپ لائن پرانی ہے، وہ اتنا پانی لے ہی نہیں سکتی۔
٭ آپ کے علاقے کا کوئی سیاست داں اس بات کی وکالت نہیں کر رہا کہ یہ پانی غریبوں کو ملے۔
٭ ٹینکر مافیا اس پانی کو ہائی جیک کر کے آپ کو مہنگا بیچے گا۔
اور جب آپ احتجاج کریں گے، تو آپ کو بتایا جائے گا،’’یہ منصوبہ تو کام یاب ہوگیا، پانی کراچی کی سرحدوں تک پہنچ گیا ہے۔ اب آپ اپنے علاقے کی پائپ لائن کی وجہ سے پانی نہیں لے سکتے۔ یہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے۔‘‘
یہ وہ کھیل جو آپ کے ساتھ کھیلا جا رہی ہے۔
اس منصوبے کو کراچی کے عام شہری اور غریب بستیوں کے لیے سودمند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کراچی کے اندرونی پانی کی تقسیم کے نظام کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے۔ یہ واضح کیا جائے کہ K-IVکا پانی کن کن علاقوں کو دیا جائے گا، اور اس کی فہرست عوام کے سامنے رکھی جائے۔ غریب اور متوسط علاقوں کو پہلی ترجیح دی جائے۔ ٹینکر مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے اور پانی کی غیرقانونی فروخت بند کی جائے۔ اگر یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، توK-IV منصوبہ روک دیا جائے۔