کان صاف کرنے کے لیے کاٹن بڈز استعمال کرتے ہیں؟ پہلے اس کے نقصانات جان لیں

بعض صورتوں میں کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے

بہت سے لوگ کان صاف کرنے کے لیے روزمرہ معمول کے طور پر کاٹن بڈز یا روئی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ عادت فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق کان کی صفائی کا یہ طریقہ بعض اوقات سننے کی صلاحیت اور کان کے پردے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیشتر کاٹن بڈز کی پیکنگ پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ انہیں کان کی اندرونی نالی صاف کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ یہ صرف کان کے بیرونی حصے کی صفائی کے لیے موزوں ہیں۔ اس ہدایت کے باوجود بہت سے افراد انہیں کان کے اندر تک استعمال کرتے ہیں، جس سے میل مزید اندر دھکیل دی جاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کاٹن بڈز کان کے اندر موجود قدرتی میل (ایئر ویکس) کو باہر نکالنے کے بجائے مزید اندر دھکیل سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں میل جمع ہو کر کان کی نالی بند کر سکتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر ویکس دراصل کان کا قدرتی حفاظتی نظام ہے، جو گردوغبار، جراثیم اور بیکٹیریا کو اندر جانے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ میل غیر مناسب طریقے سے اندر دھکیل دی جائے تو انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاٹن بڈز کان کے اندر بہت زیادہ گہرائی تک چلی جائیں تو کان کا پردہ پھٹنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں شدید درد، خون آنا اور وقتی طور پر سننے کی صلاحیت متاثر ہونے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کان صاف کرنے کے لیے زیادہ محفوظ طریقہ یہ ہے کہ نہاتے وقت نیم گرم پانی سے کان کے بیرونی حصے کو دھو لیا جائے اور صرف چھوٹی انگلی کی مدد سے باہر کی صفائی کی جائے۔ اگر کان میں میل زیادہ جمع ہو جائے تو زیتون کے تیل کے چند قطرے ڈراپر کے ذریعے کان میں ڈال کر کچھ دیر کے لیے چھوڑنا بھی مفید سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے میل نرم ہو کر قدرتی طور پر باہر آنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر کے مشورے سے میڈیکیٹڈ ایئر ڈراپس بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بازار میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، گلیسرین، پیرو آکسائیڈ، بے بی آئل اور دیگر محلول بھی دستیاب ہیں، جنہیں ہدایات کے مطابق استعمال کر کے کان کی میل نرم کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر ویکس کٹس بھی میڈیکل اسٹورز پر دستیاب ہیں، تاہم اگر کان میں درد، مسلسل بندش، سننے میں دشواری یا کسی بھی قسم کی تکلیف محسوس ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے ناک، کان اور گلے کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

Load Next Story