وفاقی و صوبائی لا افسران کی تعیناتی کے لیے لازمی اہلیت کی تفصیلات سامنے آگئیں
فوٹو: فائل
وفاقی اور صوبائی لا افسران کی تعیناتی کے لیے لازمی اہلیت کی تفصیلات سامنے آگئیں ۔
دستاویزات کے مطابق وفاق میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کے لیے سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی اہلیت ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح پنجاب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ ہونا لازمی ہے۔
پنجاب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے ہائی کورٹ میں 10 سال کی وکالت کا تجربہ لازمی ہے۔ سندھ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے ہائی کورٹ میں تجربہ 7 سال سے کم نہ ہو جب کہ بلوچستان میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے ہائی کورٹ کا جج بننے کی اہلیت لازمی ہے۔
اسی طرح بلوچستان میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے لیے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے طور پر 3 سال کا تجربہ لازمی ہے۔
علاوہ ازیں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ماہانہ مراعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں ۔
دستاویزات کے مطابق سندھ میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 7 لاکھ 26 ہزار روپے ہیں۔ پنجاب میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 6 لاکھ 90 ہزار روپے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 5 لاکھ 76 ہزار روپے ہیں۔ وفاق میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کی ماہانہ مراعات 3 لاکھ 90 ہزار روپے ہیں۔ بلوچستان میں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 3 لاکھ 10 ہزار 400 روپے ہیں۔
اسی طرح پنجاب میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 5 لاکھ 70 ہزار روپے ہیں۔ سندھ میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 4 لاکھ 94 ہزار روپے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 4 لاکھ 22 ہزار روپے ہیں۔ بلوچستان میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی ماہانہ مراعات 2 لاکھ 30 ہزار روپے ہیں اور وفاق میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی ماہانہ مراعات 2 لاکھ 4 ہزار روپے ہیں۔