شمسی طوفانوں سے متعلق سائنس دانوں کا انتباہ جاری!

نئی تحقیق کے مطابق ان طوفانوں کے اثرات اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شمسی طوفانوں اور شدید خلائی موسم کے اثرات ہماری سابقہ توقعات سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

خلائی موسم زمین کے مقناطیسی میدان اور اس کی بالائی فضائی تہوں میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوتا ہے۔

ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں کہ شدید شمسی طوفان سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کا سبب بن سکتے ہیں۔

تاہم، نئی تحقیق کے مطابق ان طوفانوں کے اثرات اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شمسی طوفانوں کے مقابلے میں زمین کے ردعمل کی ایک حد موجود ہے۔ مگر نئی تحقیق نے اس تصور کو غلط قرار دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ غلط فہمی شمسی ہواؤں کی طاقت کو سمجھنے میں ہونے والی ایک بنیادی سائنسی غلطی کے باعث پیدا ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو وہ قدرتی تحفظ حاصل نہیں جو اب تک سمجھا جاتا تھا اور مستقبل میں شدید خلائی موسم ہماری ٹیکنالوجی، مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے پر پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ ماریا والاخ کا کہنا تھا کہ زمین کا مقناطیسی میدان ہمیں خلائی موسم کے بیشتر اثرات سے مؤثر انداز میں محفوظ رکھتا ہے، اسی لیے اکثر ان کے اثرات معمولی تکنیکی خرابیوں یا خوبصورت قطبی روشنیاں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ تاہم، بعض انتہائی شدید حالات میں سیٹلائٹس اچانک زمین کی جانب گرنے لگتے ہیں، جبکہ مواصلاتی نظام اور جی پی ایس سگنلز بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story