السی کے بیجوں کے حیرت انگیز فوائد، صحت مند زندگی کے لیے قدرتی سپر فوڈ
السی کےبیج اپنے اندر شفا کا خزانہ رکھتےہیں۔ فوٹو: فائل
السی کے بیج صدیوں سے قدرتی غذا کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور ماہرینِ غذائیت انہیں صحت کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہیں۔ پروٹین، فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور یہ ننھے بیج نہ صرف جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ کئی دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
غذائیت سے بھرپور قدرتی خزانہ
السی دنیا کی قدیم ترین فصلوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی دو اقسام، بھوری اور سنہری، غذائیت کے اعتبار سے تقریباً یکساں ہیں۔ اس میں پروٹین، فائبر، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے ساتھ متعدد ضروری وٹامنز اور منرلز بھی موجود ہوتے ہیں، جو مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کینسر سے تحفظ میں ممکنہ کردار
ماہرین کے مطابق السی کے بیج ’’لیگنان‘‘ نامی قدرتی مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں، جنہیں کینسر سے بچاؤ کی خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ بعض تحقیقات میں السی کے باقاعدہ استعمال کو خصوصاً چھاتی کے سرطان کے خطرے میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے۔
ہاضمے کو بہتر بنانے والا فائبر
صرف ایک کھانے کا چمچ پسی ہوئی السی تقریباً دو گرام فائبر فراہم کرتی ہے۔ اس میں حل پذیر اور ناقابلِ حل، دونوں اقسام کا فائبر موجود ہوتا ہے، جو آنتوں کی صحت بہتر بنانے، قبض سے بچانے اور نظامِ ہاضمہ کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
کولیسٹرول کم کرنے میں معاون
تحقیقی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ السی کے بیج خراب کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کی سطح کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں روزانہ تقریباً 30 گرام پسی ہوئی السی استعمال کرنے والے افراد میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو دل کی صحت کے لیے خوش آئند سمجھی جاتی ہے۔
بلڈ پریشر پر بھی مثبت اثرات
ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 12 ہفتے تک روزانہ 30 گرام السی استعمال کرنے سے بلڈ پریشر، جسمانی وزن اور باڈی ماس انڈیکس میں بہتری دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن غذا کے ساتھ السی کا استعمال دل کی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد
السی میں موجود حل پذیر فائبر خون میں شکر کے جذب کی رفتار کو سست کرتا ہے، جس سے بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بعض مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ السی انسولین کی مزاحمت کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم ذیابیطس کے مریض کسی بھی غذائی تبدیلی سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔
وزن کم کرنے والوں کے لیے مفید غذا
اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو السی آپ کی غذا کا مفید حصہ بن سکتی ہے۔ اس میں موجود حل پذیر فائبر معدے کو زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس کراتا ہے، جس سے بھوک کم لگتی ہے اور غیر ضروری کھانے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
السی کو روزمرہ خوراک میں کیسے شامل کریں؟
السی کو اپنی غذا میں شامل کرنا نہایت آسان ہے۔ پسی ہوئی السی کو پانی یا اسموتھی میں شامل کیا جا سکتا ہے، دہی یا ناشتے کے سیریل پر چھڑکا جا سکتا ہے، سلاد پر السی کا تیل استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ مفنز، بریڈ، کوکیز اور دیگر بیکری آئٹمز میں بھی اسے شامل کیا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ انڈے کے متبادل کے طور پر بھی السی اور پانی کا آمیزہ استعمال کرتے ہیں۔
پسی ہوئی السی زیادہ مفید کیوں؟
ماہرین کے مطابق پوری السی کے مقابلے میں پسی ہوئی السی زیادہ آسانی سے ہضم ہوتی ہے، کیونکہ انسانی نظامِ ہاضمہ اس کے سخت بیرونی خول کو مکمل طور پر توڑ نہیں پاتا۔ اسی لیے زیادہ تر غذائی ماہرین پسی ہوئی السی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
روزانہ کتنی مقدار کافی ہے؟
ماہرین کے مطابق روزانہ تقریباً ایک کھانے کا چمچ، یعنی سات گرام پسی ہوئی السی استعمال کرنا اس کے بیشتر ممکنہ فوائد حاصل کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اگر کسی کو کوئی دائمی بیماری ہو یا وہ مخصوص ادویات استعمال کر رہا ہو تو باقاعدہ استعمال سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔