چیٹ جی پی ٹی کے نئے ماڈل پر بغیر اجازت فائلیں ڈیلیٹ کرنے کا الزام
چیٹ جی پی ٹی کو طاقت دینے والے سسٹم کے ایک نئے اپڈیٹ پر بعض صارفین نے الزام لگایا ہے کہ اس نے ان کے کمپیوٹرز سے فائلیں بغیر اجازت ڈیلیٹ کر دیں۔
گزشتہ ہفتے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے جی پی ٹی-5.6 سول نامی ایک نیا ماڈل متعارف کرایا تھا۔ یہ ماڈل خاص طور پر پیچیدہ کاموں، جیسے کوڈنگ اور سائبر سیکیورٹی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق یہ ماڈل ذہانت اور کارکردگی کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتا ہے اور جدید ترین نتائج حاصل کرتا ہے۔ یہ ماڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی اور این تھروپک کے درمیان دنیا کے طاقتور ترین اے آئی ماڈلز بنانے کی دوڑ مزید تیز ہو چکی ہے۔
تاہم، کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ نیا سسٹم توقع کے مطابق کام نہیں کر رہا اور مبینہ طور پر لوگوں کے کمپیوٹرز سے فائلیں خودکار طور پر ڈیلیٹ کر رہا ہے۔
اے آئی سرمایہ کار میٹ شیومر کے مطابق جی پی ٹی-5.6 سول نے غلطی سے ان کے میک کی تقریباً تمام فائلیں ڈیلیٹ کر دیں۔
انہوں نے اے آئی سسٹم کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر سسٹم نے اعتراف کیا کہ اس کی وجہ سے مقامی ڈیٹا کے ضائع ہونے کا ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔
سافٹ ویئر ڈویلپر برونو لیموس نے بھی دعویٰ کیا کہ جی پی ٹی-5.6 سول نے ان کا پورا پروڈکشن ڈیٹا بیس ہی حذف کر دیا۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔
ان دعوؤں کے بعد صارفین میں نئے اے آئی ماڈل کے حفاظتی نظام اور فائلوں تک رسائی کے طریقہ کار پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔