نیب قانون ترمیم کیس: اختیار سرنڈر نہیں کیا، 27ویں ترمیم سپریم کورٹ نہیں، پارلیمنٹ نے کی، جج
سپریم کورٹ میں نیب قانون ترمیم کیس کی سماعت ہوئی، وکیل عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل آئینی عدالت جائے گی، ہائیکورٹ سے ضمانت نہ ملنے پر کیس سپریم کورٹ سنے گی، نیب سیکشن 32 کا اطلاق ضمانت کیسز پر نہیں ہوتا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سوال یہ ہے ملزم کو ضمانت دینے پر درخواست کو اپیل میں تبدیل کیا جاتا ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ضمانت درخواست کو اپیل میں تبدیل کرے تو اپیلیٹ فورم بن جائے گی۔
جسٹس محمد علی مظیر نے ریمارکس دیے کہ نیب قانون کے مطابق اپیلیٹ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، ضمانت کیسز میں سپریم کورٹ اپیلیٹ اتھارٹی کیسے بن سکتی ہے، سپریم کورٹ ضمانت کے کیسز سنے اس کیلئے قانونی راستہ دکھائیں۔
عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے انتظامیہ کے خفیہ مقاصد کیلئے اپنا اختیار سرنڈر نہ کرے، سپریم کورٹ کے پاس کوئی اختیار تو رہنے دیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم نے کوئی اختیار سرنڈر نہیں کیا، 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے کی تھی، 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ نے تھوڑی کی ہے۔
عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ قانون نے ضمانت سننے کا اختیار وفاقی عدالت کو نہیں دیا، قانون میں صرف نیب کیس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کا فورم کا فورم آئینی عدالت کو بنایا گیا ہے۔
اس دوران عدالتی کارروائی مکمل ہوگئی اور سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایک یا دو دن میں فیصلہ سنائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت جائے گی، کیا ہم کسی اسکیم یا نئی کھڑکی کھول کر کہہ سکتے ہیں کہ ضمانت ہم سنیں گے، کیا سپریم کورٹ نئی ونڈو کھول کر کہہ سکتی ہے قانون کوئی بھی ہو کیس سپریم کورٹ سنے گی، کیا ایسے کوئی عدالتی نظائر ہیں جہاں اپیل کا فورم نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے کیس سنا ہو، ہم آپ سے بیچ کا راستہ پوچھ رہے ہیں۔
عباد الرحمان لودھی نے کہا کہ نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف مرکزی اپیل وفاقی آئینی عدالت جائے گی، ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ سن سکتی ہے، نیب کے مارچ 2026 ترمیم ایکٹ میں اپیل لفظ استعمال کیا گیا ہے ضمانت کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا ہمارا کوئی اور سپروائزری رول بھی ہو سکتا ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نیب ترمیم ایکٹ میں ضمانت کا تو لفظ ہی نہیں ہے۔
عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اپنایا کہ 5 مارچ کو قانون آیا 18 مارچ کو سپریم کورٹ نے ضمانت دی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت میں بتایا گیا گریس کا مظاہرہ کیا گیا، گریس کا مظاہرہ کیا ہوا، پورا آرڈر پڑھیں سمجھ آجائے گی۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں جہاں فیور دینی ہو وہاں کھڑکی کھلی چھوڑ دی گئی ہو،
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیب قانون کے پیچھے پارلیمنٹ کی نیت کیا تھی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں ضمانت کے مقدمات میں ایسے فیصلے بھی دیے جہاں پورا کیس کھول دیا گیا۔
جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ میں بھی آپکی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، سپریم کورٹ ماضی میں ضمانت کیس میں پورا کیس ہی طے کرتی رہی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ اس کی ایک مثال خواجہ سعد رفیق ضمانت کیس کی دی جاسکتی ہے،
جسٹس مسرت ہلالی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کہیں ایسا تو نہیں نیب ترمیم آپ نے کرائی ہو؟ اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اس کا مختصر ترین جواب ہے، نہیں۔