غزہ میں بے گھر فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں بے گھر فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تقریباً 9300 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن میں سے نصف سے زائد خان یونس میں سامنے آئے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق بے گھر افراد کے کیمپوں میں گنجان آبادی، کچرے کے ڈھیر، صاف پانی کی محدود دستیابی اور سیوریج کے نظام کی تباہی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں، جس کے باعث چکن پاکس اب ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں سانس اور جلد کی بیماریاں اب بھی سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے طبی مسائل ہیں جبکہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر خان یونس کے علاقے میں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے چکن پاکس، بیرونی جلدی طفیلی انفیکشن اور امپیٹیگو سمیت مختلف جلدی بیماریوں کے 18 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ غزہ کا صحت کا نظام جنگ کے باعث شدید متاثر ہوا ہے، جہاں اسپتالوں اور طبی ڈھانچے کو نقصان پہنچا جبکہ ادویات، ایندھن اور طبی سامان کی شدید قلت بھی برقرار ہے۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 73 ہزار 250 فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 73 ہزار 751 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ علاقے کے تقریباً 90 فی صد شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔