امریکی سینیٹ میں ہنگامہ، ڈیموکریٹ سینیٹر نے ٹرمپ کی ایران جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دے دیا
واشنگٹن: امریکا میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے لیے فنڈنگ سے متعلق سینیٹ کی سماعت کے دوران سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جہاں ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تلخ جملوں کا تبادلہ اس وقت ہوا جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سامنے ایران جنگ سے متعلق حکومتی پالیسی اور اخراجات پر بریفنگ دے رہے تھے۔
سماعت کے دوران سینیٹر گیری پیٹرز نے وزیر دفاع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اصل ناکامی محاذ پر لڑنے والے امریکی فوجی نہیں بلکہ ان کی قیادت ہے۔
انہوں نے کہا، ’ناکام آپ ہیں، نہ کہ وہ مرد و خواتین جو محاذ پر اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر کوئی مؤثر اور کامیاب جنگی حکمت عملی موجود نہیں تو ان فوجیوں کو ان کے رہنماؤں نے ناکام بنایا ہے۔‘
سینیٹر پیٹرز نے مزید کہا کہ امریکی فوجی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، لیکن اگر واضح اور مؤثر حکمت عملی موجود نہ ہو تو انہیں غیر ضروری خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ سماعت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکی کانگریس میں جنگی اخراجات، فوجی حکمت عملی اور اس کے نتائج پر شدید سیاسی بحث جاری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس میں ہونے والی یہ سخت تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں پر امریکی سیاسی قیادت کے اندر اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔
In a tense exchange during Defense Secretary Pete Hegseth’s Senate hearing over funding for the war in Iran, Democratic Sen. Gary Peters of Michigan characterized the Trump administration’s war strategy as a failure.
— CBS News (@CBSNews) July 22, 2026
“You, sir, are the failure. Not the men and women who are on… pic.twitter.com/QxtSOkZryu
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا مقصد امریکی مفادات اور اتحادیوں کا دفاع کرنا اور تہران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔