بارشیں اور فلیش فلڈ، الخدمت کے رضاکاروں کو عوامی خدمت کیلیے تیار رہنے کی ہدایت
پاکستان کی معروف فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ملک میں مون سون سسٹم کے تحت ہونے والے حادثات کے پیش نظر اپنے رضاکاروں کو عوامی خدمت کیلیے الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے شعبۂ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈاکٹر حفیظ الرحمان کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا
اجلاس میں چیئرمین ڈیزاسٹر مینجمنٹ اعجاز اللہ خان، صدر الخدمت وسطی پنجاب اکرام الحق سبحانی سمیت مرکزی، ریجنل اور ضلعی ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک بھر میں بارشوں کی صورتحال، ممکنہ خطرات اور امدادی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین ڈیزاسٹر مینجمنٹ اعجاز اللہ خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلسل بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں اور ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رضاکاروں اور ریسکیو ٹیموں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ رواں سال یکم جنوری سے اب تک 1,852 افراد کو ایمرجنسی رسپانس اور حادثات سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے جبکہ یکم مئی 2023 سے اب تک مجموعی طور پر 6,720 افراد اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کر چکے ہیں۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ موجودہ صورتحال قابو میں ہے، تاہم الخدمت کی تمام ٹیمیں اور رضاکار کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الخدمت کی ریسکیو اور ریلیف ٹیموں کا ضلعی انتظامیہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم ہے، جبکہ عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی جاری ہے۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے ہدایت کی کہ نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر تمام ٹیمیں مکمل الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آلات، کشتیاں، خیمے، ترپال، مچھر دانیاں اور دیگر ضروری امدادی سامان پہلے ہی ملک بھر میں قائم رسپانس سینٹرز تک پہنچا دیا ہے جبکہ رضاکار چوبیس گھنٹے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ الخدمت کے رضاکار اور فیلڈ ورکرز ہمارے حقیقی ہیرو ہیں، جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ یہی جذبۂ ایثار الخدمت کی اصل طاقت اور سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔