چین کی فوجی مشقوں میں ہتھیار سے لیس روبوٹ کتے کی شمولیت

ایسے روبوٹ خطرناک علاقوں میں ابتدائی جاسوسی کر سکتے ہیں

چین کی فوجی مشقوں میں ہتھیار سے لیس روبوٹ کتے کی شمولیت نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

چین اور کمبوڈیا کی مشترکہ "گولڈن ڈریگن" فوجی مشقوں کے دوران ایک چار ٹانگوں والا روبوٹ کتا دکھایا گیا جس کی پشت پر خودکار رائفل نصب تھی۔ یہ روبوٹ شہری علاقوں میں لڑائی کے دوران انسانی فوجیوں کے آگے جا کر نگرانی، دشمن کی نشاندہی اور بعض حالات میں فائرنگ جیسے کاموں کے لیے پیش کیا گیا۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق ایسے روبوٹ خطرناک علاقوں میں ابتدائی جاسوسی کر سکتے ہیں۔ انسانی فوجیوں کے لیے خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور عمارتوں اور تنگ راستوں میں داخل ہو کر معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

مزید برآں یہ  روبوٹ دیگر بغیر پائلٹ نظاموں جیسے ڈرونز کے ساتھ مل کر بھی کام کر سکتے ہیں۔ 

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس قسم کے روبوٹ جدید ٹیکنالوجی کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ان کے عملی استعمال، قابلِ اعتماد کارکردگی اور اخلاقی و قانونی پہلوؤں پر ابھی بھی بحث جاری ہے۔

Load Next Story