سمندر برد ہونے والے طیارے کے بلیک باکس سگنلز خاموش ہونے کا خدشہ

30 روز مکمل ہونے کے بعد انڈر واٹر لوکیٹر بیکنز کے سگنلز بند ہو جائیں گے، ماہر ہوابازی

(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

کراچی:

سمندر برد ہونے والے طیارے کے بلیک باکس کے سگنلز خاموش ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ماہر ہوابازی عمران اسلم خان  کے مطابق سمندر میں گرنے والے طیارے فلائٹ 1732 کے بلیک باکس کے سگنلز 6 اگست کو خاموش ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے سرچ آپریشن فوری طور پر گہرے سمندر تک منتقل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 30 روز مکمل ہونے کے بعد انڈر واٹر لوکیٹر بیکنز کے سگنلز بند ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں بلیک باکس اور ملبے کی تلاش انتہائی مشکل، مہنگی اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

عمران اسلم خان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سطح سمندر پر تلاش مؤثر ثابت نہیں ہو رہی، کیونکہ قوی امکان ہے کہ طیارے کا اصل ملبہ سمندر کی تہہ میں موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ اورماڑہ کے قریب تقریباً 3 ہزار میٹر گہرائی میں سونار سرچ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملبے تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔

ماہر ہوابازی کے مطابق 30 روز بعد بلیک باکس کے لوکیٹر بیکنز کے سگنلز بند ہو جائیں گے، جس کے بعد ملبے کی تلاش انتہائی دشوار ہو جائے گی، لہذا اورماڑہ کے قریب گہرے سمندر میں آپریشن ضروری ہے۔
✈️
1732
متاثرہ فلائٹ نمبر
📅
6 اگست
سگنلز کی آخری تاریخ
30 دن
بیکنز کی کل مدت
🌊
3,000 میٹر
اورماڑہ سمندری گہرائی
📡
سونار سرچ
تلاش کا جدید طریقہ
🤖
خودکار گاڑیاں
انڈر واٹر روبوٹکس
⏱️
12 گھنٹے
ابتدائی سرچ رسپانس
ماہر ہوابازی نے زور دیا کہ وقت ضائع کیے بغیر گہرے سمندر میں جدید سرچ آپریشن شروع کیا جائے تاکہ بلیک باکس کے سگنلز بند ہونے سے پہلے اہم شواہد تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے پاکستانی سرچ ٹیموں کی جانب سے حادثے کے بعد ابتدائی 12 گھنٹوں میں ملبہ تلاش کرنے کی کوششوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

Load Next Story