سوات اور ہنگو میں دہشت گردی کے واقعات میں 11 اہلکار و سویلین شہید، 18 خارجی دہشت گرد ہلاک

ہنگو میں خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے بعد رات گئے تک آپریشن جاری ہے

(فوٹو : فائل)

سوات اور ہنگو میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلہ میں ڈی ایس پی، پولیس اور ویلج ڈیفنس کمیٹی کے رضاکاروں سمیت 11 افراد شہید اور 8 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ 18 خارجی دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق شمالی وزیرستان میں مسجد پر کواڈ کاپٹر حملے سے ایک شہری شہید ہو گیا جبکہ کوہاٹ میں مسجد کے اندر دھماکا سے مسجد کے دو کمرے زمین بوس ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سوات کے بالائی علاقوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف محکمہ انسدادِ دہشت گردی اور خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے مشترکہ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن مکمل کر لیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران شدید جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار اور چار ویلیج ڈیفنس کمیٹی کے ارکان شہید ہوگئے جبکہ چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے، جنہیں ان کے ساتھی اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔

سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں میں عمر حیات ولد محمد شیر، گل زیب ولد عقل مند، محمد کریم ولد سیدا جان اور اختر زیب شامل ہیں، جن کا تعلق سوات کے مختلف علاقوں سے تھا۔

محمد کریم سابق وی ڈی سی رکن بھی رہے تھے اور علاقے میں امن و امان کے قیام کیلئے خدمات انجام دیتے رہے۔ جھڑپ میں پولیس اہلکار گلفام بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہداء کی میتیں مقامی اسپتال منتقل کی گئیں، جہاں ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں خزینہ بانڈہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

ڈی پی او ہنگو طارق حبیب کی قیادت میں دہشت گردوں کے خلاف پولیس کا آپریشن جاری ہے، ڈی پی او کے مطابق آپریشن میں 12 خارجی 12 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے شدید تبادلے میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت 5 اہلکار شہید اور ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 8 اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان ثاقب کے مطابق حملے کے بعد صورتحال پر قابو پانے کیلئے آنے والی اضافی پولیس نفری پر بھی راستے میں فائرنگ کی گئی، جس سے بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا۔ آپریشن کے دوران ڈی پی او ہنگو طارق حبیب کی گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا، تاہم ڈی پی او محفوظ رہے۔

اسی دوران شمالی وزیرستان میں مسجد پر نامعلوم سمت آنے والے کواڈ کاپٹر کے حملہ سے ایک شخص حکیم جاں بحق ہو گیا، تحصیل میران شاہ کے علاقہ تپی بنگش خیل میں مسجد پر حملہ کیا گیا۔

مقامی پولیس نے واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ دریں اثناء کوہاٹ میں بھی ایک مسجد میں بھی دھماکہ کیا گیا، جس سے مسجد کے دو کمرے شہید ہو گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کوہاٹ کے علاقہ لاچی کے گاﺅں درملک ہرناتو میں گزشتہ شب مسجد ابوبکر میں دھماکا سے دو کمرے مکمل طور پر شہید ہو گئے۔ مقامی پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا سمیت دیگر شخصیات نے ہنگو میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شہدا کے درجات کی بلندی کیلیے دعا کی۔

Load Next Story