کمزور پڑتی امریکی سلطنت

آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا،خاص کر چھوٹی معیشتوں کو جان کنی سے دوچار کر دیاہے۔خلیجی ممالک ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔

امریکا نے اسرائیل کی خاطر اپنے آپ کو دلدل میں پھنسا لیا ہے۔ بڑا چوہدری ہونے کی وجہ سے اسے دلدل نظر نہیں آتی اور ہر گزرتے لمحے وہ گہرا پھنستا بھی جا رہا ہے۔ دوسر ی جنگِ عظیم جونہی ختم ہوئی،جنگ کے دوران اہم اتحادی امریکا اور روس کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی۔یورپی اقوام بدستور طاقتور اور اہم رہیں لیکن امریکا اور روس دو بڑی سپر پاور زکے طور پر اُبھرے،البتہ اس نزاع میں امریکا کو ایک گونہ برتری حاصل رہی۔روس بہت بڑی قوت تھی لیکن سپیس پروگرام کے علاوہ اور کبھی کسی موقعے پر وہ مکمل طور پر امریکا کا ہم پلہ نظر نہ آیا۔

امریکی برتری کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ یہ یورپ،افریقہ اور ایشیا سے بہت ہٹ کر واقع تھا۔یہ دوسری عالمی جنگ میں تو شامل تھا لیکن اس پر کبھی براہِ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔اس کے وسائل بہت زیادہ تھے اور اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے تھے۔ا براہِ راست حملے کی زد میں نہ آنے کی وجہ سے امریکی وسائل محفوظ تھے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد ساری دنیا خاص کر یورپ سے لوگوں نے قسمت آزمانے کے لیے امریکا کا رُخ کیا،یوں وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ امریکی بن گئے۔

امریکا نے اپنے بے پناہ وسائل اور انسانی صلاحیتوں کی وجہ سے خوب ترقی کی اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی قوت بن گیا۔امریکا چونکہ Land of opportunity  تھا اس لیے ہر کہیں سے لوگ اپنے اپنے ممالک کو چھوڑ کر اس کی طرف ہجرت کرتے رہے۔اس ہجرت سے امریکی ریاست کو بھی بہت فائدہ ہوا اور ہجرت کرنے والوں کی بھی بن آئی۔

امریکی سلطنت کو جنگِ عظیم دوم میں اس وقت ایک غالب قوت کے طور پر سامنے آنے کا موقع ملا جب ترقی یافتہ جاپان نے امریکی نیول اڈے پرل ہاربر پر حملہ کر کے امریکا کو براہِ راست چیلنج کر دیا۔جنگِ عظیم دوم تک برطانیہ دنیا کی سپر پاور تھی۔اس کے پاس برِ صغیر پاک و ہند کی عظیم دھرتی کی حکومت اور بے پناہ وسائل تھے۔انگریزوں کے راج سے پہلے ہندوستان ایک بہت بڑی فوجی اور معاشی قوت تھا لیکن شاہانِ دہلی نے وقت کی ضرورت کو یکسر نظر انداز کیا،سائنس اور ٹیکنالوجی میں انویسٹ کرنے سے منہ موڑے رکھا۔ جنگِ عظیم دوم میں برٹش انڈیا نے جنگ کے ایندھن کے طور پر اپنے جوان بڑی تعداد میں مہیا کیے لیکن جنگ کے خاتمے تک برطانیہ اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ امریکی حکمرانوں نے برطانوی حکومت کویہ کہہ کر کہ تمھاری افواج کی تنخواہ تو ہم دے رہے ہیں ،مشورہ دیا، کہ تم چونکہ اب اپنی سلطنت بخوبی سنبھال نہیں سکتے اس لیے ہندوستان کو آزادی دے دو۔یہ بات صحیح تھی۔

برطانوی سلطنت کا سورج گہنا گیا تھا جب کہ امریکی سلطنت کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔جنگِ عظیم دوم کے خاتمے پر ایک طرف ہندوستان دو ریاستوں میں بٹ کر آزاد ہو گیا تو دوسری طرف یورپ جنگ کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکا تھا۔امریکا نے اپنے وسائل سے مارشل پلان ترتیب دیا اور ایک فضائی پل قائم کر کے تباہ حال یورپ کو ری بلڈ بھی کیا اور تباہ حال بھوکے پیاسے مغربی یورپ کے ممالک کو خوراک اور وسائل پہنچا کر موت کے منہ سے نکال لیا۔

امریکا سپر پاور بننے سے لے کر آج تک حالتِ جنگ میں ہے اور کیوں نہ ہو اسے ثابت کرتے رہنا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے ماڈرن،مضبوط اور بڑی فوج رکھتا ہے۔بڑی اور غالب قوت بننے اور رہنے کے لیے جنگ لڑتے رہنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اپنے سے کمزور ممالک پر دہشت طاری رہے،ہتھیاروں میں بہتری آتی رہے،ہتھیار آزمائے جاتے رہیں،امیر لیکن فوجی طور پر کمزور ممالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ جنگی اخراجات پورے کریں،بظاہر دشمن ممالک کے خلاف جنگ کی تیاری جاری رہے اور معیشت کو سہارا ملتا رہے۔امریکا کی بدقسمتی ہے کہ وہ جنگوں میں خاص کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ اس کی ہر جنگ کا خاتمہ امریکی رسوائی میں نکلا۔ویت نام کی طویل جنگ میں ویت نام کو بہت مار پڑی،بہت تباہی ہوئی لیکن آخرکار امریکا کو ویت نام سے بھاگتے بنی۔افغانستان کی بیس سالہ جنگ کا خاتمہ بھی کچھ اسی طرح ہوا اور امریکی افواج بے ترتیبی سے رخصت ہوئیں۔ عراق ، شام ، لیبیا، سوڈان اور صومالیہ کو تباہ کرکے چھوڑ دیا گیا، کیمرون اور افریقہ کے کئی ممالک میں امریکا کی افواج موجود ہیں، اب ایران کے خلاف جنگ جاری ہے۔دیکھتے ہیں اس کا خاتمہ کیسے ہوتا ہے لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ جنگ میں اب تک امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے سے بہت دور ہے۔

حالیہ امریکا ایران جنگ میں امریکا کو کئی سرپرائزز ملے ہیں ۔ مغربی یورپ جو ہمیشہ امریکی لائن ٹوہ کرتا رہا ہے،اس نے خاطر خواہ مدد نہیں کی۔صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انھیں یورپی ممالک نے بہت مایوس کیا ہے۔یہ اس سے پہلے ممکن نہیں تھا ۔ یورپی رویہ اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ یورپین یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اب واحد غالب قوت کا مقام کھو بیٹھا ہے۔یورپی اقوام روسی انرجی اور روس کے دوسرے وسائل پر بہت انحصار کرتے تھے۔امریکا اور یوکرین کی وجہ سے یورپی اقوام سستی اور قابلِ اعتماد انرجی سے تقریباً محروم ہو گئے ہیں۔موجودہ یورپی قیادت نے یہ بھی سوچنا شروع کردیا ہے کہ امریکا کمزور ہو رہا ہے اور وہ خود روس کے پڑوس میں ہیں۔اگر روس نے یوکرین سے فارغ ہو کر مغربی یورپ کا رخ کر لیا تو چاہے جنگ کا نتیجہ کوئی بھی نکلے،یورپ کا خانہ خراب ضرور ہو جائے گا۔اسی لیے اب وہ امریکا کی ہر ہاں میں ہاں ملانے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔خلیج کی عرب ریاستیں حالیہ امریکا،ایران جنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا،خاص کر چھوٹی معیشتوں کو جان کنی سے دوچار کر دیاہے۔خلیجی ممالک ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔ان کا تیل، گیس اور ان کی فرٹیلائزر ایکسپورٹ ہونے میں مشکلات ہیں۔یہ ممالک اب شاید کبھی بھی جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آ سکیں گے۔یہ اب امن کا گہوارہ نہیں رہے کہ دنیا کے ہر کونے سے انویسٹرز سرمایہ لیے بھاگے آئیں۔ انھی وجوہات کی وجہ سے وہ امریکا سے التجا کر رہے ہیں کہ جنگ کو طول دینے کے بجائے بات چیت سے حل نکالا جائے۔ البتہ امریکا ابھی تک بدلتی صورتحال اور کمزور پڑتی قوت کو ماننے سے انکاری ہے۔وہ چیزیں جو امریکا کو دنیا کی نمبر ون قوت و معیشت بنائے ہوئے تھیں،وہ کم ہوتی جا رہی ہیں۔ خلیج میںامریکی ریڈارز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

ایک مریکی اڈے سے تمام نفری کو ہٹا کر خالی کر کے اسے امریکا سے آن لائن چلایا جا رہا ہے۔نقصان زدہ ایکیوپمنٹ کو ری پلیس کرنے میںلمبا عرصہ درکار ہو گا۔ موجودہ دہائی میں امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کی بدولت،امریکی بجٹ سے فنڈ کی جانے والی 15ہزار ایسی اسامیوں کو ختم کر دیا گیا ہے جن پر قابل ترین سائنس دان ریسرچ کرتے اور امریکا کو ایڈوانٹیج دلاتے تھے۔ اس غلط پالیسی کی وجہ سے امریکا کچھ ہی عرصے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہنا شروع کر دے گا ۔امریکی فوجی و معاشی قوت کے پیچھے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی تھی۔اس پر انویسٹمنٹ میں کمی خطرناک نتائج کی حامل ہو گی اور امریکی سلطنت کمزور سے کمزور پڑتی چلی جائے گی۔

Load Next Story