آخر وجہ کیا ہے کہ اِس شخص کے گزرنے پر ہر جانب صفِ ماتم بچھی ہے؟ اُن کی رخصتی کوتقریباً ایک ہفتہ گزر گیا ہے، مگر ہنوذ اُن کی یاد میں دلگیر کالم اور مضامین لکھے جارہے ہیں ۔ جو لکھ نہیں سکے، وہ ویڈیو پیغامات ریکارڈ کرکے سامعین و ناظرین تک جانے والے کے لیے اپنے نیک اور اچھے خیالات کا اظہار کررہے ہیں ۔ کئی نجی ٹی ویوں پر ، انیکرز کی جانب سے، اللہ کے حضور پیش ہونے والے کے لیے خوش کن جذبات کا اظہار کیا گیا ہے ۔
جن لوگوں نے بھی رخصت ہونے والے کے لیے اپنی محبتوں کا اظہار کیا، یہ سب لوگ مرحوم کے ہم نظر یا ہم مسلک یا ہم فکر نہیں تھے ۔ اِس کے باوجود ہر جانب سے ، سیاسی و مذہبی مسالک کے تنوع کے باوصف، اُن پر تحسین کے پھول نچھاور کیے جا رہے ہیں ۔ آخر وجہ کیا ہے ؟ شائد ایک وجہ یہ ہے کہ جانے والے نے سیاسی و مذہبی وابستگیوں سے بالا و بلند رہ کر ، خالصتاًانسانیت کی اساس پر ، انسانوں سے محبت کی۔ اُن کا اکرام بھی کیا۔ اُن کی مقدور بھر اعانت بھی کی ۔ جس کا ہاتھ تھامنا چاہیے تھا، اُنھوں نے بغیر جھجک ہاتھ تھاما اور دستگیری کا حق ادا کر دیا ۔
جس کی یاد میں لکھنے والوں کے قلم لرزیدہ اور دل افسردہ ہیں، اُن کا نام امیر العظیم تھا ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اُن کے بارے میں ’’تھا‘‘ لکھتے ہُوئے دل میں گھاؤ سا لگتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں رہے تو جمیعت کے ناظم اور یونیورسٹی یونین کے صدر بن کر اُبھرے۔ ملک بھر میں اُن کا نام گونجتارہا۔ طلبا و طالبات کی مقدور بھر خدمت کی ۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے قیّم ( سیکریٹری جنرل) منتخب ہُوئے تو بھی، اپنے دائرے میں رہ کر، ملک و ملّت اور افراد کی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ۔ زندگی کی معاشی گاڑی کھینچنے کے لیے جس روزی روزگار کو اختیار کیا، جو بزنس شروع کیا، اس میں بھی ترجیح جماعت، ملک اور قومی خدمت کو دی ۔ شعوری زندگی کا بیشتر حصہ خدمت ہی میں گزارا ۔ اب سبھی یاد کررہے ہیں تو یہ اِس امر کی یاددہانی ہے کہ اچھے لوگوں کے اچھے کاموں کو یاد کرنے والوں کی کمی نہیں ہے ۔
ہمارا سماج اور معاشرہ ابھی اتنا بھی کٹھور اور بانجھ نہیں ہُوا کہ قومی و ملّی خدمت گزاروں کی خدمات کو فراموش کر دیا جائے ۔ امیر العظیم صاحب مرحوم کو جس جس نے ، جن جن الفاظ میں، یاد کیا ہے اور کررہے ہیں، یہ بھی ہمارے معاشرے کے زندہ ہنے کی ایک زندہ علامت اور نشانی ہے ۔وزیر اعظم پاکستان ، جناب شہباز شریف، نے بذریعہ فون جماعتِ اسلامی ، امیرِ جماعت اور امیر العظیم صاحب مرحوم کے وارثان اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ جناب وزیر اعظم کو بذاتِ خود منصورہ جا کر تعزیت کرنی چاہیے تھی ، مگر یہ بھی غنیمت ہے ۔اِس کمی کو وزیر داخلہ ، جناب محسن نقوی، نے یوں پورا کیا ہے کہ وہ منصورہ گئے ہیں اور امیرِ جماعت، جناب حافظ نعیم الرحمان، سے مرحوم بارے تعزیت کی ہے ۔ یہ ملاقات اس لیے بھی خاص اہمیت کی حامل ہے کہ اگلے ہفتے ہی (7اگست کو) جماعتِ اسلامی، مہنگائیوں کی بنیاد پر، حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جارہی ہے ۔
پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلبا کی ’’شدت و حدت‘‘ بارے بڑی داستانیں ہیں، مگر امیر العظیم کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ وہ ’’شدید ‘‘ ہیں ۔ مرحوم کس دل و دماغ کے شخص تھے، واضح کرنے کے لیے ایک واقعہ ہی کافی ہے ۔ یہ واقعہ پنجاب یونیورسٹی میں اُن کے زمانہ طالبعلمی سے منسلک ہے ۔ امیرالعظیم صاحب اسلامی جمیعت طلبا کے ناظم بھی تھے اور یونین کے منتخب صدر بھی ۔ اُن کے ایک سینئر اور معتبر جماعتی ساتھی نے مجھے بتایا:’’مجھے معلوم ہُوا کہ امیر العظیم صاحب شام کے وقت ، اکثر، جمیعت کے دفتر جاتے ہیں نہ طلبا سے ملتے ہیں ۔
مجھے تشویش ہُوئی تو مَیں اُن سے ملا اور وجہ پوچھی ۔ ہمیشہ کی طرح شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ بتایا: دفتر بیٹھتا ہُوں تو آنے والے طلبا ساتھیوں کو کبھی کبھار چائے بسکٹ بھی پیش کرنا ہوتے ہیں۔ اس کے لیے نہ میری جیب میں پیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی جماعت مجھے فنڈ دیتی ہے ؛ چنانچہ مَیں نے ایک راہ نکال لی ہے۔ مَیں روزانہ ٹیوشن پڑھانے جاتا ہُوں ۔ اِس سے مجھے جو یافت ہوتی ہے ، اِس سے مطلوبہ ومذکورہ چھوٹے موٹے اخراجات بآسانی نکل آتے ہیں۔‘‘ سچ یہ ہے کہ امیر العظیم صاحب مرحوم ازل سے خدمت گزاری کا جذبہ اور دل لے کر دُنیا میں آئے تھے ۔
موت کی چاپ سُن کر ہم سب کے دل دہل جاتے ہیں۔اسدا للہ خان غالب کے منفرد اور انوکھے مکاتیب میں کہیں لکھا ہے: ’’ مَیں موت سے نہیں ڈرتا ۔ موت آئی تو علی علی کرتا چلا جاؤں گا۔‘‘ امیر العظیم صاحب مرحوم بھی، موت کے بلاوے پر، بے دھڑک اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو گئے۔ وہ جس مرض میں مبتلا تھے ، اس میں ہر وقت موت کا دھڑکا لگا رہتا ہے ، لیکن اُنھوں نے نڈھال ہو کر بستر پر کمر ٹکانے سے انکار ہی کیا ۔ بدستور زندگی بتاتے رہے۔ دستگیری کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا ۔
ایک سابق وزیر اعظم پاکستان کے ’’جمہوری‘‘ دَور میں وطنِ عزیز کے ایک اخبار کی اشاعت کو ناممکن بنا دیا گیا اور اخباری کاغذ تک پہنچ بھی ممکن نہ رہی تو امیر العظیم صاحب نے دلیری سے اخبار کے مالک سے کہا:’’ اگر آپ چاہیں تو آپ کا اخبار ہمارے پریس میں چھپ بھی سکتا ہے اور پورے صفحات کے ساتھ ۔ دیکھتا ہُوں کون مائی کا لعل مجھے اخبار چھاپنے سے روکتا ہے ۔‘‘ اور ہُوا بھی ایسا ہی ۔ آہ ۔ غالب ہی نے تو کہا تھا: ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! واقعہ یہ ہے کہ وہ اسم بامسمیٰ تھے ۔
اگلے ہفتے جب جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم سے مہنگائی کی چکی میں عوام کو پیسنے والوں کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے، ہمیں جماعتِ اسلامی کے سابق سیکریٹری جنرل ، جناب امیر العظیم مرحوم، کی یاد شدت سے آ رہی ہے ۔ ابھی چند دن پہلے ہی جب اُنہیں اللہ کی طرف سے بلاوا آیا تو وہ دیوانہ وار اِس بلاوے پر لبیک لبیک کہتے ہُوئے اپنے خالق و مالک کے حضور پہنچ گئے ۔
کیسا شاندار ، ہمہ وقت متبسم چہرے کا مالک شخص تھا ! اعانت کے لیے ہر وقت تیار ۔ زمانہ طالبعلمی سے لے کر آخری سانس لینے تک ایک ہی جماعت سے وفاداری اور وابستگی میں زندگی نبھا دی ۔اُنہیں جاننے پہچاننے والوں نے دل کھول کر اُن کی رخصتی پر آنسو بہائے ہیں ۔ محبت و دلبستگی کی یاد آفرینی کی گئی ہے ۔ وہ جماعتِ اسلامی کے ہر احتجاج ، کانفرنس اور جلسے جلوس کے لیے بامقصد پمفلٹ تیار کرتے ۔ اشتہار بناتے ۔ فکری رہنمائی کرتے ۔ نجانے اب جماعتِ اسلامی میں اُن کی جگہ کوئی ،کیسے سنبھالے گا؟ 7اگست کو جماعتِ اسلامی کے احتجاج کے موقع پر امیر العظیم مرحوم کی کمی شدت سے محسوس ہو گی ۔
امیر العظیم صاحب مرحوم ایسا متحمل مزاج اور صابر شخص راقم نے کم کم دیکھا ۔ وہ صحافیوں اورصحافت کے بھی دوست ، چارہ سازاور غمگسار تھے ۔ لاہور سے شائع ہونے والے ایک معروف انگریزی ہفت روزہ جریدے کے مدیر اگلے روز نجی ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ1999میں حکومت نے اُن کے جریدے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ پرچہ کوئی لاہوری پریس چھاپنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ ایسے میں امیر العظیم صاحب دستگیری کو آگے بڑھے اور مدیر موصوف سے از خود کہا:’’ آپ کا پرچہ ہمارے پریس میں پرنٹ ہوگا، دیکھتا ہُوں کون روکتا ہے ۔‘‘جماعتِ اسلامی سے وابستہ معروف دانشور، جریدہ ترجمان القرآن کے مدیر اور کئی کتابوں کے مصنف ، جناب سلیم منصور خالد ، نے مجھے امیر العظیم مرحوم کی استقامت ، ملتِ اسلامیہ سے محبت ، جمیعت و جماعت سے کمٹمنٹ اور لوگوں کی خدمت کے ایسے ایسے واقعات سنائے کہ یکدم خیال آیا : صرف68سال کی عمر میں یہ شخص جلد رخصت نہیں ہوگیا؟ وہ برسہا برس جس صبر ، ہمت اور خاموشی سے سرطان کے موذی مرض کا مقابلہ کرتے رہے ، یہ مردِ مومن کی نشانی ہے ۔وہ اللہ ہی کے سہارے صبر کرکے جیتے رہے۔ مومن خان مومن کہتے ہیں: چارئہ دل سوائے صبر نہیں /سو تمہارے سوا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ جانے والے کی مغفرت فرمائے اور اُن کے چاروں صاحبزادگان( منیب، شہیر، فصیح ، وجیح) کو صبرِ جمیل عنائت فرمائے ۔