تبسم کے پیکر امیر العظیم

میرے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ کینسر بھی شدید نوعیت کی مہلک اور تکلیف دہ بیماری ہے لہذا اس میں فوت ہونے والا شخص بھی شہید حکمی ہے


[email protected]

موت بر حق، اٹل حقیقت اور ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے مگر بعض لوگوں کی موت پر دل شدید غمزدہ مضطرب اور روح اداس ہوجاتی ہے، میرے لیے امیر العظیم بھائی ان میں سے ایک ہیں۔ جب ان کے مخصوص تبسم کو یاد کرتا ہوں اور چاروں طرف دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ مسکراہٹ روٹھ گئی اور پردہ فرما گئی۔ وہ سب کے تھے مگر میرے لیے وہ ایک مہربان بڑے بھائی جیسے تھے وہ کینسر جیسے موذی مرض سے خندہ پیشانی سے لڑتے لڑتے ہم سے بچھڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، زندگی کے دوران اور موت کے بعد وہ مجسم تبسم تھے موت بھی اس کے چہرے سے مخصوص تبسم اور مسکراہٹ نہیں چھین سکی۔

نبی رحمت العالمین حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "جو شخص طاعون میں مرجائے یا ڈوب کر مرجائے یا جل کر مرجائے یا پیٹ کی بیماری سے مرجائے یا ذات الجنب بیماری سے مرجائے یا دب کر مرجائے یا عورت دردِ زہ کی وجہ سے مرجائے تو یہ سب شہید ہیں"۔ میرے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ کینسر بھی شدید نوعیت کی مہلک اور تکلیف دہ بیماری ہے لہذا اس میں فوت ہونے والا شخص بھی شہید حکمی ہے۔

اسی نسبت سے امیر العظیم بھائی بھی ان شہدا حکمی میں شامل ہوگئے۔ اسلامیہ کالج پشاور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ جمعیت کے تمام ذمے داران سے قریبی تعلق رہا مگر جماعت اسلامی میں جانے کے بعد پتہ نہیں ان کی اکثریت کیوں بدل اور ایک نظر نہ آنے والی خلیج درمیان میں حائل ہوجاتی تھی مگر امیر العظیم بھائی اسلامی جمعیت طلباء کے ان چند ذمے داران میں سے تھے جن کے ساتھ میرا قلبی تعلق جماعت اسلامی کے خلیج سے بچا رہا۔ ان کا بچھڑنا اپنے عزیز اور جگری دوست کے بچھڑنے کے مترادف ہے اور لگتا ہے کہ ان کی جدائی سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ شاید کبھی پْر نہ ہو سکے۔

پنجاب یونیورسٹی کے دور طالب علمی میں ان کے ساتھ تعلق محمد علی درانی صاحب کی وساطت سے بنا ان خوبصورت یادوں سے لے کر اب تک مختلف مراحل میں ان کی شفقت، زندہ دلی اور مخلصانہ ساتھ ہمیشہ ایک سایہ دار درخت کی طرح قائم رہا۔ میرا جماعت اسلامی کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں بلکہ شدید نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہے مگر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ نڈر سیماب صفت انسان، دوستی اور محبت کے انمول پیکر تھے میں سمجھتا ہوں کہ امیر العظیم بھائی کی دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ نے جماعت اسلامی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا کر دیا اور یہ خلا پْر کرنا شاید اب کسی کے بس کی بات نہیں، یقیناً وہ جماعت اسلامی کے کارکنوں اور قیادت کے لیے ایک گہرا زخم چھوڑ گیا جس پر وہ ہمدردی اور دعا کے مستحق ہیں۔

جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کی تاریخ میں امیر العظیم مرحوم کا نام ایک ایسے جرات مند رہنما، باصلاحیت منتظم اور دردِ دل رکھنے والے مربی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنھوں نے اپنی پوری زندگی اپنی جماعت سے وفاداری، عوامی حقوق کی بحالی اور مظلوموں کی آواز بننے کے لیے وقف کر دی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری امیرالعظیم کا دارِ فانی سے دارِ بقا کوچ کر جانا جماعت اسلامی کی قیادت اور ان کے تمام وابستگان کے لیے ایک عظیم اور نا قابلِ تلافی نقصان ہے۔

امیر بھائی 1958 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی سفر اسلامیہ اسکول سنت نگر سے شروع ہوا، میٹرک کے بعد انھوں نے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی اور اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے فزکس و ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی کیا۔ بعد ازاں انھوں نے برصغیر کے عظیم جامعہ پنجاب سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، ان کا تعلیمی پس منظر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ نہ صرف سیاسی و نظریاتی شعور رکھتے تھے بلکہ جدید علوم اور انتظامی امور پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔

جامعہ پنجاب میں قیام کے دوران وہ طلباء کے محبوب رہنما بنے اور پنجاب یونیورسٹی طلباء یونین کے منتخب صدر رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں جب طلبہ یونینز پر پابندی عائد کی گئی تو امیر العظیم نے یونین کی بحالی کے لیے تاریخی لانگ مارچ کیا، قیادت کی پاداش میں جیل کی سخت ترین صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی سرفروشی اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں قید کے دوران ہی اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظمِ اعلیٰ منتخب کر لیا۔ طلبہ سیاست سے فراغت کے بعد انھوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔

وہ طویل عرصے تک جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رہے اور صحافتی و سیاسی حلقوں میں جماعت کا مؤقف نہایت احسن انداز میں پیش کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے جماعت اسلامی لاہور کے سیکریٹری جنرل اور امیر کے فرائض انجام دیے جب کہ بعد میں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کی حیثیت سے بھی خدمات نبھائیں۔ 2019ء میں اپنے دوسرے انتخاب کے بعد امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مشورے سے انھیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا۔

انھوں نے وکلاء تحریک اور چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ میں انتہائی فعال اور تاریخی کردار ادا کیا۔ اسی تحریک کے دوران پولیس کی جانب سے کی جانے والی شدید شیلنگ کے نتیجے میں آنسو گیس کا ایک شیل براہِ راست ان کے سر پر لگا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے ماتھے پر موجود اس گہرے گھاؤ کا نشان ان کی حریت اور جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کی روشن علامت بنا رہا۔

2002کے ضمنی انتخابات میں انھوں نے لاہور کی صوبائی نشست پر متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا۔ اس انتخاب میں اس وقت کی آمریت کے زیرِ سایہ بننے والی حکمران جماعت کے امیدوار کے خلاف ان کی جاندار اور پرجوش انتخابی مہم سے متاثر ہو کر مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار ان کے حق میں دستبردار کرا لیا۔ اگرچہ بدترین حکومتی دھاندلی کے ذریعے ان کی واضح جیت کو شکست میں بدل دیا گیا لیکن عوامی حلقوں میں ان کی مقبولیت اور عزیمت کا نقش اور گہرا ہو گیا۔ سیاسی اختلاف کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر اپنانے کے لیے جماعت اسلامی کے جن چند رہنماؤں نے لوگوں کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی ان میں ایک نام امیرالعظیم کا بھی ہے جنھوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسلامی تعلیمات کی پیروی کی اہمیت لوگوں پر واضح ہو سکے۔

وہ فکر محمدی کے علمبردار تھے وہ سیاست میں رواداری اور احترام و اعتدال کے علمبردار تھے۔ امیر العظیم ملک میں جمہوری سیاسی نظام کے فروغ، عادلانہ معاشی نظام، انسانی حقوق کے تحفظ اور پاکستانی شہریوں کو مذہب و مسلک اور زبان و علاقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر سہولیات کی فراہمی پر یقین رکھتے تھے۔ پاکستان میں اسلامی نظام کی جدوجہد، قرارداد مقاصد کے عملی نفاذ، ختم نبوت کی تحریک، آئین پاکستان کی بالادستی، اتحاد امت اور خدمت خلق کے حوالے سے امیرالعظیم بھائی کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد میں انھوں نے جو گراں قدر خدمات انجام دیں، اللہ انھیں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

سیاسی میدان کی سخت گیریوں کے باوجود امیرالعظیم فیوچر ویژن کمیونیکیشن کے چیف ایگزیکٹو تھے اور اپنے نرم مزاج، خوش اخلاقی اور بہترین تعلقات کی وجہ سے سیاسی، سماجی و صحافتی حلقوں میں یکساں محترم سمجھے جاتے تھے۔ وہ ایک باصلاحیت منتظم اور بہترین مربی تھے، جن کے فکری و تربیتی خطابات سے جماعت اسلامی کے کارکنان ہمیشہ رہنمائی اور فکری جلا حاصل کرتے تھے۔

ان کی رحلت سے پاکستان ایک جرات مند صاحب بصیرت رہنما اور شفیق انسان سے محروم ہو گیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کی بشری کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معاف، ان کی تمام دینی و ملی خدمات، قربانیوں اور ان کی حسنات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انھیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔