طالبان رجیم کی غیرجمہوری پالیسیوں کے باعث افغانستان عالمی تنہائی کا شکار

ٹرمپ انتظامیہ نے2025 کے وسط سے افغانستان کیلئےتمام امریکی امداد بند کررکھی ہے

(فوٹو: فائل)

انتہاپسندانہ اقدامات اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےباعث دنیا کے کسی بھی ملک نے اب تک طالبان رجیم کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پالیسی ساز افغانستان کو اپنی ترجیحات سے خارج کر چکےاوراب اسےمحض ایک ناکام ریاست اور ماضی کا قصہ قرار دے رہے ہیں۔

معروف عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2021میں افغانستان سے انخلا کے بعد سے اب تک امریکہ نے طالبان رجیم کوجائز حکومت کے طور پرتسلیم نہیں کیا۔

امریکہ افغان شہریوں کیلئےاسپیشل امیگرنٹ سمیت تمام اقسام کے ویزوں کا اجرا بھی معطل کر چکا ہے ، امریکہ نے طالبان کی جانب سے اپنے شہریوں کی گرفتاریوں کو"یرغمال سفارت کاری" قرار دیا تھا۔

افغانستان کو واشنگٹن کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی2025اور نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی 2026 دونوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں  تعینات امریکی سفیرمائیک والٹز کے مطابق امریکا ایسے گروہ کیساتھ پُر اعتماد تعلقات قائم نہیں کر سکتا جو بے گناہ امریکیوں کو قید رکھے اورافغان عوام کو نظرانداز کرے۔

Load Next Story