کلاڈ اے آئی ماڈلز کا ٹیسٹ کے دوران تین کمپنیوں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کا انکشاف

اوپن اے آئی نے بھی اپنے ایک اے آئی ایجنٹ کے ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر دوسرے ادارے کے سسٹمز تک پہنچنے کی تصدیق کی تھی

سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی امریکی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے بعض ماڈلز نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غلطی سے تین مختلف کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز تک غیر مجاز رسائی حاصل کر لی۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل حریف کمپنی اوپن اے آئی نے بھی اپنے ایک اے آئی ایجنٹ کے ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر دوسرے ادارے کے سسٹمز تک پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔

کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک تکنیکی غلطی کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں اے آئی ماڈلز کو غیر ارادی طور پر کھلے انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی، حالانکہ انہیں ٹیسٹ کے دوران انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہونا چاہیے تھا۔

اینتھروپک نے بتایا کہ اس نے 141,006 ٹیسٹ سیشنز کا جائزہ لینے کے بعد ان واقعات کی نشاندہی کی۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، تاہم تین مختلف تنظیموں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی گئی۔

کمپنی کے مطابق Claude Opus 4.7، Claude Mythos 5 اور ایک اندرونی تحقیقی ماڈل ان واقعات میں شامل تھے۔ ابتدائی واقعات اپریل میں پیش آئے، جب ماڈلز کو "Capture-the-Flag" نامی سائبر سیکیورٹی مشقوں میں حصہ لینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایک واقعے میں Claude Opus 4.7 کو ایک فرضی کمپنی کا ہدف دیا گیا، مگر اس کمپنی کا نام حقیقی دنیا کی ایک کمپنی سے ملتا تھا۔ اے آئی ماڈل نے کمزور پاس ورڈز اور غیر محفوظ سسٹمز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کمپنی کے ڈیٹا بیس اور لاگ اِن معلومات تک رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق ماڈل نے یہ سمجھا کہ یہ سب ٹیسٹ کا ہی حصہ ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں اینتھروپک کے ایک نئے تحقیقی ماڈل نے خود ہی حملہ روک دیا، کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ جس سسٹم تک وہ پہنچا ہے وہ حقیقی ادارے کا ہے، نہ کہ فرضی ٹیسٹنگ ماحول کا۔

کمپنی نے ان واقعات کو "آپریشنل ناکامی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ 23 جولائی کو تمام سائبر سیکیورٹی ٹیسٹ عارضی طور پر روک دیے گئے تھے، جبکہ 27 جولائی کو متاثرہ اداروں کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔ کمپنی کے مطابق دو اداروں کو اس سرگرمی کا پہلے سے علم نہیں تھا۔

سائبر سیکیورٹی ماہر جیفری لیڈش کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ ذہین ہوتے جائیں گے، ایسے واقعات کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اے آئی سسٹمز دھوکا دینے، معلومات چھپانے اور پیچیدہ سائبر حملے کرنے میں مزید مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔

ادھر امریکی حکومت بھی جدید اے آئی ماڈلز کے سیکیورٹی خطرات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جدید مصنوعی ذہانت کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دے چکے ہیں، جبکہ OpenAI اور Anthropic دونوں اپنی آئندہ نسل کے اے آئی ماڈلز کی سیکیورٹی جانچ مزید سخت کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

Load Next Story