عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر کے نزدیک دھماکا
ایران کی بچھائی بارودی سرنگ سے دو آئل ٹینکرز ٹکرا گئے
سلطنتِ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کے نزدیک دھماکے کی اطلاع کے بعد خطے میں بحری سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو گیا۔
برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ ایک تجارتی جہاز نے اپنے قریب زور دار دھماکے اور سمندر میں بڑے پانی کے چھینٹے کی اطلاع دی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شہر خصب سے تقریباً 21 ناٹیکل میل تقریباً 39 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا جو آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس بحری راستے کے قریب واقع ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ٹینکر کے قریب ہوا تاہم جہاز کو کسی قسم کے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی عملے کے زخمی ہونے کی کوئی خبر سامنے آئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کس چیز کی وجہ سے ہوا یا اس کے پیچھے کون ذمہ دار تھا۔
ادارے نے آبنائے ہرمز اور اطراف میں سفر کرنے والے تمام تجارتی اور مال بردار جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی، دھماکے یا خطرے کا سامنا ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار روزانہ گزرتی ہے۔