حوثی حملوں کے خدشات، 6 سعودی آئل ٹینکروں نے افریقا کے گرد متبادل بحری راستہ اختیار کر لیا
تہران: ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی حملوں کے خدشات کے باعث کم از کم 6 سعودی پرچم بردار آئل ٹینکروں نے باب المندب کی بجائے افریقا کے جنوبی حصے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سفر شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سعودی آئل ٹینکروں نے اپنے اصل بحری راستے کو تبدیل کر لیا تاکہ باب المندب کے قریب ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
فارس کے مطابق یہ جہاز پہلے باب المندب آبنائے کے ذریعے اپنی منزل کی جانب جا رہے تھے تاہم بعد ازاں انہوں نے راستہ تبدیل کرتے ہوئے افریقا کے جنوبی سرے کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل بحری راستہ اختیار کیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ یمنی فورسز کی جانب سے بحری جہازوں پر ممکنہ حملوں کا خدشہ ہے تاہم اس حوالے سے سعودی حکام یا متعلقہ شپنگ کمپنیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بحری تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تجارتی اور تیل بردار جہاز بڑی تعداد میں باب المندب کے بجائے متبادل راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کے اخراجات اور عالمی شپنگ لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی اور تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یمن ۶ نفتکش سعودی را به مارپیچ آفریقا انداخت
— خبرگزاری فارس (@FarsNews_Agency) August 3, 2026
تصاویر ماهوارهای و دادههای ردیابی دریایی نشان میدهد که دستکم شش نفتکش حامل پرچم سعودی، مسیر خود را از تنگۀ بابالمندب بهسمت دماغۀ امید نیک در جنوب آفریقا تغییر دادهاند تا از حملات نیروهای یمنی در امان بماند. https://t.co/BjeI9AdNm0 pic.twitter.com/8tL2fPQqza
فارس کی اس رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متعلقہ بین الاقوامی بحری اداروں نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔