اسلام آباد ہائیکورٹ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، آن لائن تحفظ کیلئے درخواست دائر
فوٹو: فائل
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ یحییٰ فرید خواجہ کی جانب سے پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال اور آن لائن تحفظ کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق اہم سوالات اجاگر کر دیے گئے ہیں۔
ایڈووکیٹ یحییٰ فرید خواجہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا مؤثر قدغن لگانے اور حکومت و متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے جامع اقدامات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق آج کے بچے تعلیم، تفریح، رابطے اور سماجی میل جول کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کر رہے ہیں، تاہم سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر بلنگ، ہراسانی، آن لائن گرومنگ، استحصال، نقصان دہ مواد، غلط معلومات اور پرائیویسی کی خلاف ورزی جیسے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کم عمری اور محدود فہم کے باعث بچے ان خطرات اور اپنی آن لائن سرگرمیوں کے طویل مدتی نتائج کو مکمل طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
وکیل کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکلز 9، 14، 25، 25 اے، 35 اور 37 زندگی، عزت، رازداری، مساوات، تعلیم، خاندان اور سماجی بہبود سے متعلق بنیادی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ایسے میں ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کا تحفظ بھی ان کے مجموعی بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ صرف سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنا کافی نہیں بلکہ پاکستان کو ایک جامع چائلڈ آن لائن سیفٹی فریم ورک کی ضرورت ہے، جس میں عمر کی تصدیق، والدین کی شمولیت، پلیٹ فارمز کی جواب دہی، پرائیویسی کا تحفظ اور ڈیجیٹل تعلیم شامل ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نابالغ صارفین کے لیے مضبوط پرائیویسی سیٹنگز، مؤثر عمر کی تصدیق اور سائبر بلنگ، گرومنگ، بلیک میلنگ اور دیگر نقصان دہ مواد کے خلاف فوری شکایتی نظام فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی دیے جانے کی ضرورت ہے۔
عالمی سطح پر بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں، آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کی قانون سازی کر چکا ہے جبکہ دیگر ممالک بھی عمر کی تصدیق اور والدین کے کنٹرول سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر یہ درخواست پاکستان میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک وسیع تر پالیسی بحث کا آغاز بن سکتی ہے، اب ذمہ داری حکومت، ریگولیٹرز، والدین، تعلیمی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ بچوں کی سلامتی، عزت اور رازداری کو بھی یقینی بنایا جائے۔