کچھ سانحات اپنی خبر خود نہیں بناتے، وہ پورے نظام کی خبر بن جاتے ہیں۔ پمز کی نرسری میں اٹھنے والا دھواں بھی ایسا ہی ایک سوال بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے جس سے نظریں چرانا آسان نہیں۔ جن بچوں نے ابھی دنیا کو آنکھ بھر کر دیکھا بھی نہ تھا، وہ ایک ایسے اسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے جہاں انھیں ریاست کی سب سے مضبوط حفاظتی دیوار میسر ہونی چاہیے تھی۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ آگ لگی، المیہ یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد وہ تمام انتظامات، جنھیں پہلے سے موجود ہونا چاہیے تھا، کہیں دکھائی نہیں دیے۔ دو منٹ میں ایک نرسری کا شدید دھوئیں سے بھر جانا حادثے کی رفتار بیان کرتا ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ہمارے ادارہ جاتی نقائص بے نقاب ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کو پیش کی گئی عبوری تحقیقاتی رپورٹ نے اس واقعے کو محض ایک بدقسمت حادثہ قرار دینے کی گنجائش تقریباً ختم کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آگ صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نمایاں ہوئی اور انتہائی سرعت سے پھیل گئی۔ فائر فائٹرز کو لاک شدہ دروازے توڑ کر اندر داخل ہونا پڑا، جب کہ نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے لیے مناسب مشقیں، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے واضح ایس او پیز اور مطلوبہ تربیت کا فقدان بھی سامنے آیا۔ نرسری جیسے حساس مقام پر یہ کوتاہیاں معمولی انتظامی خامیاں نہیں بلکہ ایسے خطرات ہیں جو کسی بھی لمحے انسانی جانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
حکومت نے آٹھ افسران کو معطل کرنے، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کرنے اور سیکیورٹی کمپنی کے ذمے داران کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اقدام بلاشبہ ضروری ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لانے کی ہدایت بھی شفافیت کی سمت ایک درست قدم ہے، لیکن یہاں اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ معطلی انصاف کا اختتام نہیں، تفتیش کا آغاز ہے، اگر چند ہفتوں بعد معاملہ فائلوں میں دب گیا تو موجودہ کارروائی بھی اسی روایتی ردعمل کا حصہ بن جائے گی جس کے بعد اگلے سانحے کا انتظار کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بڑے حادثات کا ایک افسوس ناک طریقہ کار بن چکا ہے۔ پہلے قیامت ٹوٹتی ہے، پھر سیاسی بیانات آتے ہیں، کمیٹی تشکیل پاتی ہے، متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کا بندوبست کیا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد قومی توجہ کسی نئے سانحے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس پورے عمل میں ہم اکثر ’’کس کو سزا دی جائے‘‘ کا سوال تو پوچھتے ہیں، مگر ’’وہ نقص کیوں موجود رہا جس نے یہ حادثہ ممکن بنایا‘‘ کا سوال ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، یہی خلا ایک سانحے کو دوسرے سانحے کی تمہید بنا دیتا ہے۔ پمز کا واقعہ اسی لیے زیادہ اہم ہے کہ یہ کسی دور افتادہ، وسائل سے محروم مرکز صحت میں نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری اسپتال میں پیش آیا، اگر یہاں فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا، انتظامی نگرانی اور تکنیکی دیکھ بھال کے بنیادی تقاضے پورے نہیں تھے تو ملک کے ان چھوٹے اسپتالوں کا تصور کیا جا سکتا ہے جہاں وسائل محدود، نگرانی کمزور اور تکنیکی سہولتیں مزید ناقص ہیں۔ پمز کو ایک منفرد استثنا سمجھنا خود فریبی ہوگی، اسے پورے قومی نظام صحت کے لیے ایک وارننگ سمجھنا ہوگا۔ اس سانحے نے اسپتال انتظامیہ کے بارے میں ہماری ایک بنیادی غلط فہمی بھی آشکار کی ہے، ہم عموماً اسپتال کو ڈاکٹر، نرس، دوا، مشین اور بستر کے مجموعے کے طور پر دیکھتے ہیں، حالانکہ جدید اسپتال ایک انتہائی پیچیدہ انتظامی اور تکنیکی نظام ہوتا ہے۔ مریض کا علاج صرف آپریشن تھیٹر یا وارڈ کے اندر نہیں ہوتا، اس کے پیچھے بجلی، متبادل توانائی، ایئر کنڈیشننگ، وینٹی لیشن، میڈیکل گیسز، پانی، نکاسی، لفٹس، آئی ٹی، سیکیورٹی، فائر الارم اور ہنگامی اخراج کا پورا ڈھانچہ مسلسل کام کر رہا ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی ایک نظام کی سنگین خرابی براہ راست انسانی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا ڈاکٹر لازماً ایک اچھا اسپتال منتظم نہیں ہوتا۔ پورے ادارے کے آپریشنل نظام کے لیے انجینئرنگ، رسک مینجمنٹ، مالیاتی نظم، خریداری، انسانی وسائل، سیکیورٹی اور ایمرجنسی پلاننگ کی الگ مہارتیں درکار ہوتی ہیں۔ ہمارے سرکاری اداروں میں اکثر یہ سب ذمے داریاں ایک انتظامی عہدے کے گرد جمع کر دی جاتی ہیں اور پھر حادثہ ہونے پر اسی شخص کو مکمل نظام کی ناکامی کا ذمے دار قرار دے دیا جاتا ہے، یہ طریقہ احتساب سے زیادہ انتظامی سہل پسندی ہے۔
اصل ذمے داری کا تعین اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ کس شخص یا ادارے کو کون سا حفاظتی نظام فعال رکھنے کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔ برقی نظام کی دیکھ بھال کس کے سپرد تھی؟ فائر الارم اور ایمرجنسی راستوں کا معائنہ کس نے کیا؟ حفاظتی آلات کس حالت میں تھے؟ عملے کی فائر ڈرل کب ہوئی؟ حساس وارڈ کے انخلا کا منصوبہ کس نے منظور کیا؟ سیکیورٹی کمپنی کے معاہدے میں ہنگامی صورت حال کے لیے کیا ذمے داریاں طے تھیں؟ ان سوالات کے جواب ہی حقیقی احتساب تک پہنچا سکتے ہیں، اگر تحقیقات صرف چند عہدوں تک محدود رہیں تو نظام کے ان حصوں تک رسائی نہیں ہوگی جہاں غفلت کی اصل جڑ موجود ہوسکتی ہے۔نوزائیدہ بچوں کے وارڈ کی نوعیت عام وارڈ سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کو فوری طور پر منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ بہت سے بچے طبی آلات، آکسیجن یا دیگر معاون نظام سے منسلک ہوتے ہیں۔ اس لیے وہاں ہنگامی انخلا محض ایک دروازہ کھولنے کا نام نہیں، بلکہ پہلے سے آزمائے ہوئے مکمل منصوبے کا تقاضا کرتا ہے۔ کون بچہ اٹھائے گا، کون طبی آلات سنبھالے گا، کون راستہ صاف کرے گا، کون فائر سروس کو رہنمائی دے گا اور کس مقام پر بچوں کو منتقل کیا جائے گا،یہ سب فیصلے حادثے کے وقت نہیں کیے جا سکتے۔ انھیں پہلے ہی طے اور بار بار مشق کیا جانا چاہیے۔ہنگامی مشقوں کی اہمیت بھی اسی تناظر میں سمجھنی ہوگی۔
حفاظتی نظام کی خرابی کا تعلق صرف عملے کی غفلت سے نہیں، بجٹ اور ترجیحات سے بھی ہے۔ ہمارے ہاں نئی عمارت تعمیر کرنے، نئی مشین خریدنے اور افتتاح کرنے کے لیے وسائل نکال لیے جاتے ہیں، مگر موجودہ عمارت کے برقی نظام، فائر سیفٹی، وائرنگ، وینٹی لیشن اور ہنگامی راستوں کی مسلسل دیکھ بھال کو ثانوی سمجھا جاتا ہے۔ تعمیر ایک بار دکھائی دیتی ہے، دیکھ بھال روزانہ درکار ہوتی ہے؛ شاید اسی لیے سیاسی اور انتظامی ترجیحات میں اس کی کشش کم رہتی ہے، مگر انسانی زندگی کے لیے یہی غیر نمایاں اخراجات سب سے اہم ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری انسانی حوصلے کی قدر افزائی ہے۔ اس بہادری کو سلام کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے لمحوں میں کسی فرد کی جرات کئی زندگیوں کے درمیان فرق پیدا کرسکتی ہے، مگر ریاست کو ایسا نظام بھی بنانا ہوگا جس میں ہر سانحے کے وقت غیر معمولی بہادری کی ضرورت کم سے کم ہو۔ ایک محفوظ ادارہ وہ ہے جہاں زندگی بچانے کا انحصار کسی ایک فرد کے غیر معمولی حوصلے پر نہیں بلکہ پورے نظام کی تیاری پر ہو۔متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دینا بھی ریاستی ذمے داری ہے، مگر معاوضہ زندگی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ بچے کھونے والے والدین کے لیے رقم شاید فوری مشکلات کم کردے، لیکن ان کے بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ جس جگہ ان کے بچے محفوظ ہونے چاہیے تھے وہاں حفاظتی نظام ناکام کیوں ہوا۔ انھیں صرف چیک نہیں، انصاف اور شفاف معلومات بھی درکار ہیں۔ تحقیقات کہاں تک پہنچیں، کس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی اور آیندہ کیا تبدیلیاں کی جارہی ہیں، یہ سب عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔اب حکومت کے سامنے اصل ضرورت ایک وقتی ایکشن نہیں بلکہ مستقل قومی پالیسی کی ہے۔ تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، خصوصاً حساس وارڈز، کا آزاد تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ لازمی کیا جائے۔ برقی اور مکینیکل نظام کی باقاعدہ جانچ، فائر الارم، سپرنکلر اور دھوئیں کے اخراج کے نظام کی تصدیق، ایمرجنسی راستوں کی نگرانی اور باقاعدہ انخلا مشقوں کو قانونی تقاضا بنایا جائے۔ ایسی رپورٹس کو صرف فائلوں میں بند رکھنے کے بجائے عوامی سطح پر دستیاب کیا جائے۔ جو ادارہ بنیادی حفاظتی معیار پر پورا نہ اترے، اسے اصلاح کی واضح مدت دی جائے اور تکمیل کی آزادانہ تصدیق کی جائے۔
اس کے ساتھ اسپتالوں کی انتظامی ساخت پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ طبی خدمات اور غیر طبی آپریشنل انتظام کو واضح ذمے داریوں کے ساتھ منظم کیا جائے اور بڑے اسپتالوں میں ہیلتھ کیئر مینجمنٹ، انجینئرنگ، فائر سیفٹی اور رسک مینجمنٹ کے ماہرین کو فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار دیا جائے۔ احتساب بھی اسی اصول پر ہونا چاہیے کہ جس شعبے کی جو ذمے داری تھی، اس کی ناکامی کا جواب بھی وہی دے۔
پمز کی نرسری میں بجھا ہوا ہر ننھا چراغ ریاست سے یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کیا ہم اس سانحے کو بھی چند معطلیوں، کچھ معاوضوں اور چند روزہ شور کے بعد بھلا دیں گے، یا اسے اپنے نظام کی اصلاح کا نقطہ آغاز بنائیں گے؟ اگر جواب پہلا ہوا تو یہ حادثہ آخری نہیں ہوگا، اگر دوسرا ہوا تو شاید یہ المناک واقعہ ہمیں وہ سبق دے جائے جسے ہم برسوں سے نظر انداز کرتے آئے ہیں۔