گمنام غلاموں کا خون

یہ ویسا ہی دھوکہ تھا جو ان قبروں میں دفن غلاموں کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں آزادی کی امید دلا کر ایک نئے اہرام کی تعمیر میں لگا دیا تھا۔


زمرد نقوی August 31, 2026
www.facebook.com/shah Naqvi

یہ ویسا ہی دھوکہ تھا جو ان قبروں میں دفن غلاموں کے ساتھ ہوا تھا۔ انھیں آزادی کی امید دلا کر ایک نئے اہرام کی تعمیر میں لگا دیا تھا۔ یہ باتیں واقعی رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ انسانیت نے سفر طے کرتے کرتے ہزاروں سال گزار دیئے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی لیکن ہماری کہانی کا مرکزی خیال آج بھی وہی ہے۔

بس ایسا ہی تھا کل بھی ۔ سچ پوچھئیے تو شاید آج بھی۔ ہم اس فکری سفر کو آہستہ آہستہ وہاں لے آتے ہیں جہاں یہ ہماری آج کی زندگی21 ویں سنچری سے ٹکراتا ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر شریعتی کی یہ تحریر کسی لائبریری کے کونے میں رکھی ہوئی کوئی بوسیدہ کتاب نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ ڈاکیومنٹ ہے۔ جو ہمارے آج سے سوال کر رہا ہے۔ اگر ہم اس پورے تجزیے کو اپنی ماڈرن سوسائٹی سے جوڑیں تو ہمیں اصلیت سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی۔ آج ہم مصر کے عظیم اہرام کے لیے ڈھائی ٹن کے پتھر دھوپ میں نہیں اٹھا رہے۔ ہم آج کئی قسم کی غلامی کا شکار تو نہیں؟۔ ایک ایسی ذہنی یا معاشی غلامی جہاں انسان اپنی پوری زندگی ایک ایسے نظام کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے جس کا بنیادی مقصد صرف چند نئے فرعونوں کی دولت اور طاقت کو مزید بڑھانا ہے۔ یعنی آج کی غلامی زیادہ Invisible ہے۔

جی ہاں۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ اور ہمارے پاس چوائسز ہیں لیکن ان چوائسز کا Menue کس نے بنایا ہے۔ وہ مینیو اسی طاقتور نظام نے بنایا ہے۔ یہ ایک Illusion کا فریڈم ہے۔ آزادی کا عجیب سا فہم ہے۔ یہ سب سے تکلیف دہ سوال ہے۔ ہم روشن خیالی کے دور میں ہیں۔ AI اور ٹیک Driven دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ "لیکن اگر ہم غور کریں تو روحانی اور فکری طور پر شاید ہم آج بھی اسی عظیم صحرا اسی تپتی دھوپ میں کھڑے ہیں جہاں وہ گمنام غلام کھڑا تھا۔ واقعی وہی صحرا اور وہی دھوپ" ۔

جہاں تک فہم کی بات ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اس غلام کو پتہ تھا کہ وہ غلام ہے ۔ اس کی زنجیریںلوہے کی ۔ اور اسے دکھائی دیتی تھیں۔ لیکن ہمیں یہ فہم دے دیا گیا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ کیونکہ "ہماری زنجیریں ڈیجیٹل ہیں معاشی ہیں اور بالکل Invisible ہیں"۔ اور یہ فہم اور یہ Illusion ہی ہماری سب سے بڑی زنجیر ہے اور ڈاکٹر شریعتی کی یہ کتاب ہمیں اسی فہم کو اس بھیڑ کی ذہنیت کو توڑنے کی دعوت دیتی ہے۔ وہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اس پتھر کو دیکھیںجو ہم صبح سے شام تک اٹھا رہے ہیں۔ چاہے وہ ہماری جاب ہو۔ چاہے وہ ہمارا لائف اسٹائل ہو۔ یا ہماری اندھی تقلید ہو۔ اور یہ سوچیں کہ ہماری یہ محنت آخر کس کی عظیم عمارت کو مکمل کر رہی ہے۔ کیا ہم حق اور انصاف کی عمارت بنا رہے ہیں یا کسی نئے ظلم کا اہرام کھڑا کر رہے ہیں۔ ٹروتھ جسٹس اور فریڈم کیا ہیں۔ اصل میں؟ آج کے سفر میں اس تفصیلی گفتگو میں ہم نے تاریخ کی ان گمنام چیخوں کو سنا جو اہرام کی بنیادوں میں دبا دی گئی تھیں۔ ہم نے سمجھا کہ کیسے عقائد کو استحصال کا ٹول بنایا جاتا ہے۔

کیسے آزادی کی چابیوں کو زنجیروں میں بدلا جاتا ہے۔ کیسے ایک تنہا مفکر اپنے پانچ ہزار سال پرانے غلام دوست کے ساتھ اپنا درد بانٹتا ہے۔ یہ سفر خود کو پہچاننے کا سفر تھا۔ یہاں پر ایک لمحے کو رکیں اور اس ایک سوال کو اپنے دماغ میں گھونجنے دیں۔ سب اپنے آپ سے پوچھیں آج جب ہم اس چمکتی ہوئی دنیا ، ان اونچی عمارتوں ، اس رونق اور اس مسلسل بھاگ دوڑ کو دیکھتے ہیں تو سوچیئے گا ضرور ۔ کیا انسان واقعی اپنی روح کی آزادی اور اپنے مقصد حیات کے لیے کام کر رہا ہے۔ یا ہم سب بھی شاید انجانے میں کسی نئے فرعون کے بنائے ہوئے چمکتے ہوئے اہرام کی صرف ایک معمولی سے اینٹ ہیں۔ "اگر کسی بھی وقت کسی کو لگتا ہے کہ وہ آزاد ہے تو ٹھنڈے دماغ سے سوچیئے گا کہ کہیں آزادی کا یہ تصور ہی کسی اور کا تو بنایا ہوا نہیں؟

علی شریعتی 1933؁ء میں خراسان کے ایک چھوٹے سے گاؤں مدینان میں پیدا ہوئے۔ یہ اتنا چھوٹا گاؤں ہے کہ آج بھی اس کی آبادی ڈیڑھ ہزار ہے۔ علی شریعتی نے دیکھاکہ کیپٹلزم تو انسان کا خون چوس رہا ہے۔ اور سوشلزم برابری اور انصاف کا نعرہ لگا رہا ہے۔ تو انھوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ اسلام کو سوشلزم کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیا۔اتنا آگے بڑھ گئے کہ انھوں نے صحابی رسول ؐ حضرت ابوذر غفاریؓ کی بہت تعریف کی۔ یہ ایک بڑی جسارت تھی۔ اس کے لیے ان کے پاس اپنی دلیلیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جو معاشی ، سماجی اور سیاسی استحصال سے پاک ہو۔