جب ہماریGen Zاُٹھے گی !

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف ہمارے نوجوانوں کا غصہ ، بوجوہ، روز افزوں ہے ۔


[email protected]

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکمرانوں کے خلاف ہمارے نوجوانوں کا غصہ ، بوجوہ، روز افزوں ہے ۔ اِن نوجوانوں کو آپ اور ہم ’’کاکروچ‘‘ کہہ لیں یا ’’نئے شاہین‘‘ یا Gen Zکا نام دے دیں، بات ایک ہی ہے۔

حکمرانوں کے خلاف حضرت مولانا فضل الرحمن بھی آئے روز برس رہے ہیں اور غصے میں عوامی شاعر ، حبیب جالب، کے انقلابی اشعار بھی پڑھ رہے ہیں ( یہ وہی حبیب جالب مرحوم ہیں جن کی ایک صاحبزادی، طاہرہ حبیب، کو اگلے روز لاہور میں ریڑھی لگانے کے ’’جرم‘‘ میں نئے تہ بازاری والوں نے تہ کرکے رکھ دیا ۔ اِس افسوس ناک واقعہ کے پیش منظر میں بھی حکمرانوں کے خلاف عوامی غصے میں اضافہ اور سخت احتجاج دیکھنے میں آیا ہے ۔

جولائی2026ء میں بھارت میں اُٹھنے والی نوجوانوں کی منہ زور تحریک نے بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، اور اُن کی نوجوان دشمن مقتدر پارٹی ، بی جے پی، کو اپنی عدم تشدد تحریک کے زور پر شکست دے ڈالی ۔ کہا جاتا تھا کہ مودی جی کسی سیاسی طاقت کے سامنے نہیں جھکتے ، مگر بھارتی نوجوانوں نے اُنہیں یوں جھکایا کہ مودی کے وزیر تعلیم (دھرمیندر پردھان) کو مستعفی ہونا پڑا ۔ یہی احتجاجی بھارتی نوجوانوں کا بنیادی مطالبہ تھا۔

بھارت میں NEETکے امتحانی پرچے لِیک ہُوئے تو نوجوان حکومت اور وزیر تعلیم کے خلاف بھڑک کر اُٹھ کھڑے ہُوئے کہ نوجوان انہیں اِس لیکیج کا ذمے دار سمجھتے تھے ۔ بھارتی نوجوان حکومت کے خلاف بپھرے تو بھارتی چیف جسٹس (سوریا کانت) نے اُنہیں تحقیراً ’’کاکروچ‘‘ (لال بیگ) قرار دے ڈالا ۔ مگر احتجاج کناں بھارتی نوجوانوں نے اِس تحقیر کو بھی اپنے سر کا تاج بنا لیا اور بھارتی مقتدر پارٹی (بھارتی جنتا پارٹی، بی جے پی) کے مقابل (طنزاً) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) بنا ڈالی ۔

سی جے پی کا بانی و خالق ایک بھارتی نوجوان ہی ہے : ابھیجت ڈیپکے! وہ امریکی یونیورسٹی (بوسٹن) کا فارغ التحصیل ہے ۔ جب انڈین چیف جسٹس نے بھارتی نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہا تو ڈیپکے بوسٹن ہی میں تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اُس نے سوشل میڈیا پر’’ کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ لانچ کی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں بھارتی نوجوان و طلبا اور طالبات نے اِس کی رکنیت اور شرکت اختیار کر لی ۔بوسٹن سے فارغ ہو کر ڈیپکے واپس آیا تو نئی دہلی میں احتجاجی طلبا اور ’’سی جے پی‘‘ کے وابستگان کی جانب سے اُس کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ اِس سے مودی حکومت سخت پریشان ہُوئی ۔چیف جسٹس آف انڈیا نے بھی بین السطور اپنے لفظ کی معافی مانگی ۔ مگر تب تک دیر ہو چکی تھی ۔

ڈیپکے نے دہلی سمیت بھارت کے کئی شہروں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی’’ سی جے پی‘‘ کی قیادت کی ۔ احتجاجی کاکروچ جنتا پارٹی پر مودی حکومت نے بے حد تشدد کیا ، مگر وہ پسپا نہ ہُوئے ۔ آخر کار مودی حکومت کو ندامت میں پسپا ہونا پڑا ۔ مودی کے مرکزی وزیر تعلیم ( دھرمیندر پردھان) کو استعفیٰ دے کر گھر کی راہ لینا پڑی ۔ ابھیجت ڈیپکے کی برپا کردہ تحریک سے متاثر ہو کر ایک اور بھارتی ریاست ’’جھاڑ کھنڈ‘‘ کے طلبا بھی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہُوئے اور اپنے مطالبات منوا کر رہے ۔ مودی حکومت کو یہ دوسری سیاسی شکست کہی گئی ہے ۔

 پہلے بنگلہ دیش کی Gen Z، بعد ازاں نیپال کے نوجوانوںاور پھربھارتی ’’کاکروچوں‘‘ کی فتوحات کی گونج اور بازگشت ساری دُنیا میں سنائی دی گئی ہے ۔ اِس کے اثرات ہمسایہ ممالک میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں ۔

پاکستان کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ 30جولائی2026ء کو ہمارے وزیر داخلہ ، جناب محسن نقوی، نے اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہُوئے یہ الفاظ بھی کہے : ’’یہ نظام بیٹھ چکا ہے۔ ہم عوام کو بروقت انصاف نہیں دے پا رہے ۔کاکروچوں کے اکٹھے ہونے سے پہلے ہی نظام درست کر لیں ۔ نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سب اُلٹ سکتے ہیں۔‘‘ نقوی صاحب نے یہ بھی خبردار کیا تھاکہ ’’نوجوانوں کو جو چند ہزار روپے اور چند لیپ ٹاپ دیئے جا رہے ہیں، اِن سے بات نہیں بنے گی ۔‘‘

پہلی بار سرکاری اور وزارتی سطح پر پاکستانی ’’کاکروچوں‘‘ یاGen Z کے انقلابی پوٹینشل کو بین السطور تسلیم کیا گیا ۔ مطلب یہ ہے کہ حکومت بھی باطنی طور پر تسلیم کررہی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں موجودہ ریاستی سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ نوجوانوں کا انقلاب دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔ یہ کسی بھی وقت اُٹھ کر( خدانخواستہ) نظام تہ و بالا کر سکتا ہے ؛ چنانچہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اگلے روز نون لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہُوئے یہ الفاظ کہے:’’اگر پاکستان میں بھی بھارتی کاکروچوں ایسا منظر اُبھرا تو یقین کریں کچھ باقی نہیں بچے گا۔ کچھ بستیوں سے لڑکے ڈنڈے لے کر نکلیں گے اور جو سامنے آئے گا، اُسے کچل دیں گے ۔

بھوک نے، افلاس نے ، بے روزگاری نے اور ناانصافی نے لوگوں کی بس کرا دی ہے۔‘‘یہ الفاظ دراصل مقتدر پارٹی کے ایک اہم فرد کی جانب سے اعترافی بیان بھی ہے اور محسن نقوی صاحب نے اپنے معروف خطاب میں جس بات سے خبردار کیا تھا ، اُس کی تصدیق بھی ۔ یعنی محسن نقوی نے جن کاکروچوں کے اُٹھنے کی قبل از وقت بات کی تھی ، اسے اب اقتداری پارٹی کے ارکان بھی دل سے مان رہے ہیں ۔حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومتی پارٹی کے اکثر وزرا نے محسن نقوی کے مذکورہ بیان بارے خاصی ناگواری کا اظہار بھی کیا تھا ۔ اِس بیان کی حقانیت کو مگر بباطن سب مان رہے ہیں۔

ویسے جن کاکروچوں کے ممکنہ انقلاب کی بات اب کی جارہی ہے ، مدتوں قبل ہمارے عالمی شہرت یافتہ البیلے شاعر ، فیض احمد فیض ، اپنے اشعار میں پہلے ہی اِس بارے پیش گوئی کر چکے ہیں:دربارِوطن میں جب اِک دن سب جانے والے جائیں گے /کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے /اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے/جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اُچھا لیں جائیں گے!! فیض صاحب مرحوم کے اِس ترانے کو حکومتِ وقت اور اس کے پٹھوؤں نے ’’بغاوت‘‘ اور فیض صاحب کو ’’رُوسی ایجنٹ‘‘ قرار دیا تھا ( فیض صاحب کو اُس وقت عظیم لینن ادب انعام مل چکا تھا) وطنِ عزیز کی دائیں بازُو کی طاقتوں نے اِس ترانے کو پاکستان کی سالمیت کے ’’منافی‘‘ تک قرار دے ڈالا تھا ۔

اب مگر حال یہ ہے کہ فیض صاحب کے ترانوں کو ایک طرف جناب شہباز شریف گاتے رہے ہیں اور دوسری جانب مولانا فضل الرحمن صاحب اپنے جلسوں میں لہک لہک کر گاتے ہیں اور اپنے ماننے والوں کا لہو گرماتے ہیں ۔ یہ دراصل کلامِ فیض کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور یہ بھی کہ فیض صاحب نے اپنے انداز و اسلوب میں جس ’’ انقلاب‘‘ کی پیش گوئی کی تھی ، پیہم بدلتے وقت نے اس کی سچائی ثابت کر دی ہے۔ پاکستانی ’’کاکروچوں‘‘ یا Gen Z کے اُٹھنے سے قبل ہی ہمارے صاحبانِ اختیار و اقتدار اپنے طور اطوار درست کر لیں۔

GenZ اُٹھے گی تو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ۔ فضا تو ویسے خاصی ہموار ہو چکی ہے۔حال ہی میںپاکستان میں ہمارے’’ کاکروچ‘‘ یا Gen Z اُٹھے تو اُنہوں نے دباؤ ڈال کر میڈیکل داخلوں کے حوالے سے ٹیسٹ تاریخ تبدیل کروا لی ۔ پہلے یہ تاریخ 16اگست تھی ۔ طلبا نے لاہور ہائی کورٹ دستک دی ، مگر مسترد کر دی گئی ۔ طلبا کا دباؤ بڑھتا گیا تو وزیر اعظم کے حکم پر PMDC نے اب ستمبر2026ء کی تاریخ دے دی۔ یہ فیصلہ دانشمندی کا بھی تھا اور Gen Zکو مزیدمشتعل کرنے سے بچاؤ کی ایک تدبیر بھی ۔