سیاسی اختلاف دشمنی کیوں؟

پاکستان میں سیاسی اختلاف کو دشمنی کا آغاز ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا، محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ سب جانتے ہیں۔


[email protected]

سیاسی اختلافات کو دشمنی نہ بنائیں سیاسی اختلاف ہی رہنے دیں، سیاست میں مخالفت کو اتنا آگے نہیں لے جانا چاہیے، یہی جمہوریت کا حسن ہے مگر ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ ملک میں 1988 سے 1999 تک جو سلوک ہوتا رہا، وہ تاریخ کے صفحات پر لکھا ہے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں۔

پاکستان میں سیاسی اختلاف کو دشمنی کا آغاز ایوب خان کے دور حکومت میں ہوا، محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ سب جانتے ہیں۔ سیاستدانوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ 1973 کے متفقہ آئین کی منظوری کے بعد پہلی پارلیمانی حکومت وزیر اعظم بھٹو کے دور میں بنی تھی جب کہ بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں نیپ اور جے یو آئی نے مل کر حکومتیں اپنی اکثریت کی بنیاد پر بنائی تھیں اور جے یو آئی کے مولانا مفتی محمود اور نیشنل عوامی پارٹی کے عطا اللہ مینگل کو صوبہ سرحد اور بلوچستان کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا مگر ان کی حکومتوں کے خلاف سازشیں شروع ہو گئی تھیں جس کے کچھ عرصے بعد گورنر راج لگا کر عطا اللہ مینگل کی حکومت برطرف کی گئی تو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود احتجاج کے طور پر خود مستعفی ہو گئے تھے اور وزیر اعظم بھٹو نے وہاں بھی اپنی پارٹی کی حکومت قائم کرا دی تھی اور بلوچستان میں بھی گورنر راج ختم کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت بنوائی گئی تھی اور دونوں صوبوں میں اپنی حکومتوں کے قیام کے لیے مختلف طریقوں سے پی پی حکومتوں کو اکثریت دلائی گئی تھی۔بعد میں پی پی حکومت نے نیپ پر پابندی لگا کر اور نیپ کے لیڈروں کو جیل میں بند کردیا تھا۔نیپ کے رہنماؤں پر بھی سیاسی اختلافات کے باعث مقدمات بنائے گئے تھے۔

1977 میں وزیر اعظم بھٹو نے قبل از وقت ملک میں نئے انتخابات کرائے تھے جو پی پی حکومت کے مخالفین نے تسلیم نہیں کیے تھے اور بھٹو حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگا کر انتخابی نتائج مسترد کر دیے تھے۔ بھٹو حکومت کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد نے ملک میں نئے انتخابات کی مہم چلائی تھی جسے بھٹو حکومت نے کچلنے کی کوشش کی تھی۔ تمام مخالف سیاستدان گرفتار ہونے پر بھی نظام مصطفیٰ تحریک نہ رکی۔ ملک میں خونریزی ہوئی، مخالفین پر تشدد کے ساتھ ملک کے تین شہروں میں مارشل لا بھی لگایا گیا اور بھٹو حکومت جولائی میں مارشل لا لگنے سے ختم ہوئی تھی اور ملک میں طویل ترین فوجی حکومت کا ریکارڈ بنا تھا۔ ضیاء الحق نے اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھا۔ مخالف سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا، پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں کو کوڑے مارے گئے، صحافیوں کو بھی کوڑے مارے گئے۔ بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو جیل میں رہیں۔ یوں سیاسی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کردیا گیا ۔

1999 میں جنرل پرویز کا طویل دور ملک نے برداشت کیا۔ 2005 میں جنرل پرویز مشرف کی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف دشمنی کے باعث دونوں پارٹیوں نے سبق سیکھ کر لندن میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ کیا کہ دونوں اقتدار میں آ کر انتقامی تحریک نہیں چلائیں گی اور سیاسی اختلاف کو دشمنی نہیں بنایا جائے گا۔ 2008 میں پی پی اور (ن) لیگ نے پہلی بار مل کر حکومت بنائی، جنرل پرویز کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا جس کے بعد دونوں میں اختلافات ہوئے تو (ن) لیگ پی پی حکومت سے الگ ہوئی جس کی پنجاب میں حکومت تھی جسے صدر زرداری نے گورنر راج کے ذریعے ختم کرایا مگر عدلیہ نے بحال کر دیا جس کے بعد (ن) لیگ اور پی پی میں اختلافات بڑھے۔ پی پی حکومت کی مدت پوری ہونے پر (ن) لیگ کی حکومت منتخب ہوئی جس کے خلاف پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کا اسلام آباد میں دھاندلی کے نام پر طویل دھرنے سے (ن) لیگ حکومت ختم کرانے کی سازش کی گئی تاہم عمران خان ناکام رہے پھر 2017 میں پی پی نے پی ٹی آئی کی مدد سے بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت ضرور ختم کرائی تھی اور دونوں پارٹیوں میں اختلاف بڑھا مگر دشمنی نہیں ہوئی تھی۔

 پی ٹی آئی کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے منشور پر عمل کی بجائے (ن) لیگ اور پی پی کے خلاف اپنے اختلافات کو سیاسی دشمنی بنا کر انتہا کر دی جس پر (ن) لیگ اور پی پی پھر متحد ہوئیں اور 2022 میں پہلی بار وزیر اعظم کو آئینی طور ہٹایا گیا تھا۔

2024 سے (ن) لیگ اور پی پی مشترکہ اقتدار میں ہیں اور دونوں کا اتحاد آزاد کشمیر انتخابات میں دھاندلی کے الزام لگا کر بلاول بھٹو نے متاثر ضرور کیا جس پر نواز شریف کو کہنا پڑا کہ امید تھی کہ پی پی سے شکایت کا موقعہ نہیں ملے گا اور انھوں نے سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ بنانے کا کہا مگر حقیقت یہ ہے کہ تینوں بڑی جماعتوں پی پی، (ن) لیگ اور پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہ کر جمہوریت کو آگے نہیں بڑھایا۔ سیاسی مفاد کے لیے سیاسی اختلاف کو دشمنی بنایا جو ملک اور جمہوریت کے مفاد میں نہیں اور تینوں ہی کو اب اس سلسلے میں باہمی اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔