میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی کارروائی، بزنس پارٹنرز اور پولیس افسر کے بیانات ریکارڈ
میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن کی کارروائی شروع ہوئی، کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر عابد فاروق کو روسٹرم پر طلب کیا۔
کمیشن نے استفسار کیا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں؟ عابد فاروق نے بتایا کہ مختلف کام ہیں، انویسٹمنٹ، کیٹل فارمنگ اور موبائل فون امپورٹ کا کام بھی ہے، میر رضا کے ساتھ بزنس میں پارٹنرشپ بھی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کی انویسٹمنٹ صرف میر کے ساتھ تھی یا احمد کے ساتھ بھی تھی؟ عابد فاروق نے بتایا کہ دونوں ساتھ آئے تھے، پیمنٹ لینے کے وقت۔ کمیشن نے میر رضا سے تعلق کے بارے میں پوچھا تو عابد نے بتایا کہ میر رضا گریجویشن کے بعد بچوں کو ٹیوشن پڑھانے آتا تھا۔
عابد فاروق نے بتایا کہ میر رضا کے والد کے بزنس میں اگست 2025 میں میر رضا کے کہنے پر پارٹنرشپ کے لیے پہلے 50 لاکھ روپے اور مارچ 2026 میں ایک کروڑ روپے کی انویسٹمنٹ کی تھی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کو سرمایہ کاری پر منافع مل رہا تھا؟ عابد نے بتایا کہ اپریل 2026 سے پہلے منافع ٹھیک تھا، اپریل کے بعد منافع کچھ کم ہوا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ نے پولیس کو بتایا کہ اپریل کے بعد سے کوئی پیمنٹس نہیں مل رہی تھیں۔ عابد نے بتایا کہ میر رضا اور احمد نے کہا تھا کہ کچھ دیں، پیمنٹ مل جائے گی۔ عابد کے مطابق میر رضا کے ساتھ بہت دوستانہ تعلق تھا، انہوں نے کبھی کسی پریشانی یا مشکل کا ذکر نہیں کیا۔
کمیشن نے عابد سے میر رضا کے بزنس میں نقصان سے متعلق معلومات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کسی اور بزنس میں بھی نقصان کی معلومات نہیں۔ عابد نے بتایا کہ اپریل کے بعد میر رضا سے بہت ملاقاتیں ہوتی رہیں، بقرہ عید پر جانور خریدنے بھی ساتھ گئے، میر رضا نے کبھی مالی دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔
کمیشن نے پوچھا کہ میر رضا نے گمشدگی سے قبل تین کروڑ مانگے، آپ کو علم ہے کیوں مانگے ہوں گے؟ عابد نے کہا کہ مجھے علم نہیں، رضا سے گفتگو میں کبھی ایسی بات نہیں ہوئی۔ عابد کے مطابق پولیس نے شاید 16 اگست کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلایا تھا، پولیس کو سرمایہ کاری سے متعلق بیان بھی دیا۔
عابد فاروق نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کرپٹو، بزنس پارٹنر احمد اور میر رضا سے متعلق سوالات کیے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کی میر رضا سے ہونے والی واٹس ایپ چیٹ پولیس نے لی ہے؟ عابد نے بتایا کہ پولیس نے مجھ سے چیٹ کا ریکارڈ نہیں کیا۔
عابد نے بتایا کہ وہ مدینہ میں تھا جب میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع ملی، بعد میں شیری نے میر کی باڈی ملنے کا بتایا۔ کمیشن نے پوچھا کہ فیملی سے ملاقات کی؟ عابد نے بتایا کہ پولیس کو بیان دینے کے موقع پر فیملی سے ملاقات ہوئی تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ نے اتنی انویسٹمنٹ کی، کیا وجہ ہے فیملی سے ملنے گھر نہیں گئے؟
بعد ازاں کمیشن نے دوسرے پارٹنر آصف کو بھی روسٹرم پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کچھ اور کہنا چاہتے ہیں؟ آصف نے کہا کہ میر رضا سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کا بھی یہی بیان ہے جو آپ کے بھائی عابد نے بتایا؟ آصف نے کہا کہ ہم بھائی ساتھ ہی ہوتے تھے۔
کمیشن نے عابد سے پولیس کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے بیان سے متعلق پوچھا کہ کیا بیان پڑھ کر سنایا گیا؟ عابد نے بتایا کہ ہمارا بیان کیمرے میں ریکارڈ کیا گیا، کبھی پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ کے پولیس کو دیے بیان میں پیسے کے علاوہ کچھ اور نہیں لکھا، آپ کے بیان میں کرپٹو کا ذکر ہے نا، احمد سے متعلق کچھ ہے؟ عابد نے بتایا کہ مجھ سے پولیس نے کرپٹو اور احمد کے بارے میں سوالات کیے تھے، مجھے علم نہیں وہ بیان میں شامل کیوں نہیں۔
کمیشن نے گواہ فیض الرحمان کو بھی روسٹرم پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے کہا کہ آپ کا ذکر گزشتہ کارروائی میں گواہ علی شاز نے کیا تھا۔
فیض الرحمان نے بتایا کہ ان کا کافی شاپ اور چائنیز فوڈ کا بزنس ہے۔ میر رضا کو 2015-16 میں ایونٹس میں ملاقاتوں کے دوران جانتے تھے، جب میر نے بزنس شروع کیا تو ملنا زیادہ ہوگیا۔
فیض نے بتایا کہ جون 2025 میں میر رضا نے دو لاکھ روپے لیے تھے۔ میر نے بتایا کہ آن لائن فوڈ ڈیلیوری کی پیمنٹ عید کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ میر رضا نے 30 جون کو پیمنٹ واپس کردی تھی۔ ایک ماہ بعد میر نے مزید مدد مانگی، تاہم رقم نہیں بتائی اور انہوں نے معذرت کرلی۔
کمیشن نے کہا کہ علی شاز نے اگست 2025 میں ایک کروڑ روپے مانگنے کا بتایا تھا۔ فیض نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر تھا اور 20 اگست کو واپس آیا، 25 اگست کو پولیس نے کال کرکے بلایا۔ کمیشن نے کہا کہ آپ نے بیان میں پولیس کو بتایا کہ میر رضا علی شاز اور عاقب سے پیسے مانگ رہا ہے؟ فیض نے بتایا کہ مجھے پولیس نے یہ بات بتائی تھی، مجھ سے ایک دن پہلے علی شاز کو پولیس نے بلایا تھا۔
فیض نے بتایا کہ میر نے عاقب سے 10 لاکھ روپے مانگے تھے، عاقب نے بھی سرمایہ کاری سے معذرت کرلی تھی۔ جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے عاقب کا بیان فیض سے منسوب کردیا ہے۔
کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے پولیس کو بتایا کہ نجی بلڈر کے بیٹے سے بھی رقم مانگی تھی؟ فیض نے کہا کہ میں نے پولیس کو کبھی نہیں بتایا، مجھ سے میر رضا نے بلڈر کے بیٹے احسن کا نمبر مانگا تھا۔ احسن کی اہلیہ سوشل میڈیا انفلوینسر ہیں۔
فیض نے کہا کہ علی شاز کا مجھ سے منسوب بیان غلط ہے۔ میر رضا نے میرے بعد میرے بھتیجے سے بھی 10 لاکھ روپے کی درخواست کی تھی۔ میر نے بھتیجے سے کہا کہ فیملی ایشوز کی وجہ سے 10، 15 دن کے لیے پیسے چاہییں ہوں گے، میرے بھتیجے نے بھی پیسے دینے سے معذرت کرلی تھی۔
کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے علی شاز سے کہا کہ میر رضا سب سے پیسے مانگ رہا ہے؟ فیض نے کہا کہ علی شاز نے شاید اپنی طرف سے ایسی بات کی، مجھے علی شاز سے رقم مانگنے کا علم ہی نہیں تھا۔ مجھ سے بھی نارمل انداز میں پیسوں کا ذکر کیا تھا۔
کمیشن نے کہا کہ علی شاز نے آپ سے منسوب کرکے بتایا تھا کہ میر رضا کرپٹو کے نقصان پورے کرنے کے لیے پیسے مانگ رہا ہے۔ فیض نے بتایا کہ پولیس نے بھی مجھ سے کرپٹو سے متعلق بات کی تھی۔ ہماری دوستی اچھی تھی لیکن ہمارا ملنا اتنا نہیں ہوتا تھا، مجھے میر رضا کے کرپٹو کے بارے میں علم نہیں۔
فیض نے بتایا کہ اسے علم نہیں علی شاز نے اس سے منسوب کرکے ایسی بات کیوں کی۔ علی شاز نے اس سے پوچھا تھا کہ میر رضا نے کس کس سے پیسے لیے۔ علی شاز نے بتایا کہ ان کے بھائی کے بیچ میٹ پولیس افسر کیس کی تحقیقات کررہے ہیں اور وہ پولیس افسر کے پاس مدد کرنے جارہا ہے۔
فیض کے مطابق علی شاز نے کہا کہ پولیس نے یہ سوالات پوچھنے کے لیے کہا تھا۔ پولیس کے مطابق گلستان جوہر میں کوئی گھر ہے جہاں میر جاتا تھا۔ میر کے کرپٹو سے متعلق سوالات بھی پوچھنے کے لیے پولیس نے علی شاز کو کہا تھا۔ علی شاز نے یہ سب 6 اگست کو رات کو میسج کرکے پوچھا تھا۔ فیض نے بتایا کہ اسے پولیس سے پہلے علی شاز کی کال آئی تھی۔
فیض نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے بھی ماتحت افسران سے پوچھا تھا کہ اس کو کیوں بلایا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ پولیس نے آپ کے بیان میں لکھا ہے کہ میر رضا نے آپ سے 70، 80 لاکھ روپے مانگے، پولیس نے آپ کے بیان میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ ایسے بزنس نہیں ہوتا۔ فیض نے کہا کہ 70، 80 لاکھ روپے والی بات میر نے احمد راجہ سے کہی تھی، میں نے میر کو سمجھایا تھا کہ بزنس سوچ سمجھ کر کرنا۔
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے فیض سے علی شاز یا اس کے بیان سے متعلق کچھ نہیں پوچھا اور پولیس نے عبوری چالان میں علی شاز کو گواہ نہیں بنایا ہے۔
بعد ازاں میر رضا کیس کی تحقیقات سے متعلق اے ایس پی بہادر آباد ندا کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ندا نے بتایا کہ وہ اے ایس پی بہادر آباد ہیں، ان کا دفتر فیروز آباد تھانے میں ہے اور انہوں نے سی ایس ایس کے بعد 2023 میں سندھ پولیس جوائن کی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے اس کیس پر کس اتھارٹی سے کام کیا؟ ندا نے بتایا کہ وہ پورے زون میں واحد خاتون اے ایس پی تھیں۔
ندا نے بتایا کہ پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے خواتین کے انٹرویوز لینے کے لیے ہدایت کی تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ سمیع اللہ سومرو نے مناسب نہیں سمجھا کہ آپ کو ٹیم میں شامل کرنے کے بجائے صرف زبانی ہدایات دی جائیں؟ گواہ علی شاز خاتون نہیں، وہ آپ کے پاس کیوں آئے، آپ تو ٹیم میں بھی نہیں تھیں؟
ندا نے بتایا کہ ان کے پاس سینئر کولیگ اے ایس پی لاہور شاہ زیب کی کال آئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کیس ان کے سب ڈویژن کا نہیں۔ اے ایس پی شاہ زیب نے بتایا کہ ان کے بھائی کی میر رضا سے اچھی دوستی ہے، ان کا بھائی ابھی ملک میں نہیں لیکن جب واپس آئے گا تو اس کو کہیں گے کہ وہ ان کے پاس آئے۔
کمیشن نے پوچھا کہ آپ کو یہ عجیب نہیں لگا کہ لاہور سے ایک اے ایس پی آپ کو کال کررہے ہیں؟ کمیشن نے کہا کہ علی شاز کہتے ہیں کہ وہ میر رضا کے قریبی دوست نہیں تھے، ان کے مطابق صرف تین بار ملاقات ہوئی۔ کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز آپ کے پاس کب آئے؟
ندا نے بتایا کہ علی شاز 6 اگست کو علی الصبح ان کے دفتر آئے تھے، انہوں نے ان کو نہیں بلایا تھا۔ وہ رضاکارانہ طور پر معاونت فراہم کرنا چاہتے تھے اور علی شاز نے میر رضا کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ندا نے بتایا کہ علی شاز فیملی کے پاس تعزیت کے لیے بھی نہیں گئے تھے۔ علی شاز نے بتایا کہ میر رضا سے آخری بات دسمبر 2025 اور آخری ملاقات کافی وقت پہلے ہوئی۔
ندا نے بتایا کہ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے تفتیشی افسر سے ملنے اور معاونت کرنے کی ہدایت کی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ کا تعلق نہیں تھا کیس سے پھر بھی آپ نے آڈیو نوٹ لینا مناسب سمجھا؟ ندا نے بتایا کہ مجھے مناسب لگا کہ یہ شواہد ہوسکتا ہے، اس لیے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو فارورڈ کردیا تھا۔
کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز تفتیشی افسر کے پاس گئے تھے؟ ندا نے کہا کہ مجھے علم نہیں، میں نے دوبارہ چیک نہیں کیا۔ ندا نے بتایا کہ وہ 14 اگست کو بیرون ملک ٹریننگ کے لیے گئی تھیں اور یکم ستمبر کو واپس آئیں۔
کمیشن نے پوچھا کہ علی شاز نے آپ کو کہا کہ ان کا نام آڈیو نوٹ سے نکال دیں؟ ندا نے کہا کہ مجھے ایسا کچھ یاد نہیں، علی شاز نے مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ کمیشن نے کہا کہ مطلب علی شاز نے کمیشن میں جھوٹ بولا۔
کمیشن نے کہا کہ آپ نے آڈیو نوٹ کو ضابطے کے مطابق محفوظ نہیں بنایا، آپ نے علی شاز سے آڈیو نوٹ سے آگے پیچھے کی کوئی بات نہیں پوچھی۔ ندا نے بتایا کہ علی شاز نے چیٹ دکھاتے ہوئے بتایا تھا کہ میر رضا سے آخری بار بات دسمبر 2025 میں ہوئی تھی۔
کمیشن نے ندا سے کہا کہ آپ بھی دانستہ بیانیہ بنانے میں سہولت کار تھیں؟ آپ کا کیس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، اے ایس پی لاہور آپ کو فون کرکے بھائی کو بھیجتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اتنا حساس آڈیو غیر قانونی طور پر حاصل کرکے ایس ایس پی کو بھیجا گیا، اہم کیس میں دوسرے صوبے کا اے ایس پی آپ کو پرائیویٹ شخص کو بھیج رہا ہے، دوسرے صوبے کا افسر آپ کو ہدایت دے رہا ہے، یہ روٹین ہے؟ آپ کو جاری تحقیقات میں مداخلت کا اختیار ہے؟
کمیشن نے کہا کہ یہ اقدام آپ کو مشکوک بنا رہا ہے۔ ندا نے کہا کہ علی شاز سے تحقیقات کے لیے عام ملاقات تھی۔ کمیشن نے کہا کہ آپ علی شاز کو آڈیو نوٹ کے لیے تفتیشی افسر کے پاس بھیج سکتی تھیں۔ کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیروز آباد تھانہ وائٹ ہاؤس نہیں ہے، آپ خود علی شاز کو لے کر افسران کے پاس جاسکتی تھیں۔
کمیشن نے کہا کہ تفتیشی ٹیم کی ذمہ داری تھی گواہ کا بیان ریکارڈ کرنے کی، آپ کیوں پردہ ڈالنے کی کوشش کررہی ہیں؟ کمیشن نے کہا کہ ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ نے میڈیا کو وہ آڈیو نہیں بھیجی۔ کمیشن نے کہا کہ ہم ابھی تک سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آپ نے ایک میسج بھیجنے کی ضرورت کیوں محسوس کی، وہ آڈیو نوٹ کورٹ میں کیسے قابل قبول ہوگا؟
کمیشن نے کہا کہ ایک قتل ہوا ہے، آپ نے روٹین میں میسج ایس ایس پی کو بھیج دیا۔ آپ روٹین میں یہی کرتے ہیں، کمیشن میں یہ بات سامنے آرہی ہے۔ کمیشن کے مطابق اس آڈیو سے قرضے کے بیانیے کی شروعات ہوئی۔ کمیشن نے پوچھا کہ اگر آپ کو یہ خاص نہیں لگا تو ایس ایس پی کو کیوں بھیجا؟
جبران ناصر نے بتایا کہ علی شاز کی آڈیو سے گفتگو کے ساتھ اسکرین شاٹس بھی وائرل ہوئے۔ ندا نے کہا کہ علی شاز نے صرف ایک وائس نوٹ بھیجا تھا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا وہ اسکرین شاٹ بھی آپ نے بھیجا تھا؟ ندا نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آپ نے بھیجا ہے۔ کمیشن نے ندا سے کہا کہ آپ کمیشن کو بہت ہلکا لے رہی ہیں، آپ کا کیریئر اسٹیک پر ہے۔
کمیشن نے ندا سے کہا کہ آپ کو نہ فون ملا، نہ فون آپ کی تحویل میں تھا۔ کمیشن نے مزید سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ 5 اگست کی پولیس سرجن کی میٹنگ میں آپ شامل تھیں؟ آپ لوگ کیوں گئے تھے، آپ کا کیا کام تھا وہاں؟ بچوں سے زیادتی یا ریپ کے کیس میں خاتون افسر کو ساتھ لے جانا سمجھ آتا ہے، آپ کا وہاں کیا کام تھا؟ آپ وہاں اے ایس پی لاہور کے کہنے پر گئی تھیں؟ آپ کس قانون کے تحت وہاں گئی تھیں؟
کمیشن نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے پاس بھی آپ ساتھ گئیں، کس اتھارٹی سے آپ ہر میٹنگ میں شامل تھیں؟ ندا نے بتایا کہ انہیں سینئر افسر کی ہدایت تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ آپ کا سینئر افسر غیر قانونی ہدایت دے گا تو کیا مان لیں گے؟ آپ کو کیا خدشہ تھا کہ این سی سی آئی اے کو کوئی چھیڑ دے گا؟
ندا نے بتایا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے این سی سی آئی اے کے پاس جانے کی ہدایت کی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے بہن کو کہا کہ واٹس ایپ چیٹ یا کرپٹو سے متعلق آئی ڈی آپ کو دیں؟ ندا نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے ساتھ معمول کی ملاقات تھی، سینئر پولیس افسران بھی ساتھ تھے۔
کمیشن نے کہا کہ آپ اس کیس میں خلاف ضابطہ بہت آگے نکلی ہوئی تھیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کیس کی تحقیقات میں آپ کو کیا رول دیا تھا؟ ندا نے بتایا کہ انہیں فیملی کے بیانات میں بیٹھ کر نوٹس لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فیملی کا بیان تفتیشی افسر نے ریکارڈ کیا، میری طرف سے بیان میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔
جبران ناصر نے کہا کہ وہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اے ایس پی ندا نے میر رضا اور احمد کی آخری گفتگو کو عجیب قرار دیا تھا۔ جبران ناصر کے مطابق فیملی نے بھی اے ایس پی ندا کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا، ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کہا کہ اے ایس پی ندا معاونت کے لیے موجود ہیں۔
کمیشن نے ندا سے پوچھا کہ کیا پولیس نے کبھی آپ کا بیان ریکارڈ کیا ہے؟ کیا آپ کی شمولیت کا کوئی روزنامچہ بنایا گیا؟ ندا نے کہا کہ میرا کوئی بیان نہیں لیا گیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا آپ کو شواہد خراب کرنے یا کسی مخصوص سمت میں لے جانے کے لیے کسی نے احکامات یا دباؤ ڈالا؟
کمیشن نے سوال کیا کہ آپ دو ٹیموں کے ساتھ موجود رہیں، کیا علی شاز کا ذکر آپ نے ٹیم سے کیا؟ آپ نے علی شاز کو کوئی سوالات بھیجے تھے؟ جبران ناصر نے کہا کہ گواہ فیض کے مطابق علی شاز نے بتایا تھا کہ اے ایس پی نے میر رضا کے دوستوں یا کرپٹو سے متعلق سوالات پوچھنے کی ہدایت کی۔ ندا نے کہا کہ میں نے علی شاز کو کوئی سوالات نہیں بھیجے۔
کمیشن نے کہا کہ یہاں جو آرہا ہے اس کو کچھ نہیں پتہ، جو آرہا ہے جھوٹ بول رہا ہے۔ کمیشن نے ندا سے کہا کہ آپ کو مشکوک نہیں لگا کہ ایک شخص آپ سے منسوب ایسی باتیں کررہا ہے؟
جبران ناصر نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کے کسی رکن کا بیان آج تک ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ ہم اپنے مشاہدات حکم نامے میں شامل کریں گے۔ جبران ناصر نے پوچھا کہ کیا ڈاکٹر اسامہ کے نئے بیانات کمیشن کو جمع کروائے گئے؟ کمیشن نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی دستاویز جمع نہیں ہورہے، ہمیں اسی معلومات کی بنیاد پر اپنی رپورٹ بنانی ہے۔ کمیشن نے فوکل پرسن کو کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔
کمیشن کے مطابق ڈی ایس پی سراج لاشاری نے ڈرائیور احسان اللہ سے متعلق رپورٹ طلب کی۔ کمیشن نے کہا کہ اس معاملے پر مزید احکامات کی ضرورت نہیں۔
کمیشن نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے مدت میں 15 اکتوبر تک اضافے کی درخواست کی ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ہم روٹین کے کیسز بھی دیکھ رہے ہیں، بڑی تعداد میں گواہان کے بیانات کی روشنی میں مزید گواہان کے نام آرہے ہیں، کچھ گواہان کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بھی کچھ تاخیر ہے۔
کمیشن نے سیکریٹری صحت طاہر سانگی، موجودہ ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیشن نے فوکل پرسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ڈی جی ہیلتھ کو بیان کے دوران ہی تبدیل کردیا۔
کمیشن نے کہا کہ ہوسکتا ہے آپ کی بددیانتی نہ ہو لیکن عوام سب دیکھ رہے ہیں، لوگ بے وقوف نہیں ہیں۔ لوگ کسی مجبوری کی وجہ سے چپ بیٹھے ہیں، انہیں بے وقوف نہ سمجھیں۔ کچھ تو انتظار کرلیتے، کمیشن کے ختم ہونے کا ہی انتظار کرلیتے۔
کمیشن نے کہا کہ پیر کو تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے نمائندہ کاشف کو بلائیں گے۔ پیر کو ہی اے آئی جی آزاد خان، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو سوالنامے بھیجے جائیں گے۔
کمیشن کے مطابق ڈاکٹر سمیہ نے بدنیتی کی بنیاد پر منفی مہم سے متعلق کمیشن کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر سمیہ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے منفی مہم چلائی جارہی ہے اور مہم کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ ڈاکٹر اسامہ کیا پولیس سرجن کو دھمکیاں دے رہا ہے؟
جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔