روس کو نہ روکا گیا تو مزید خونریزی ہوگی اور کوئی محفوظ نہیں رہے گا؛ یوکرین
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کے خلاف جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور اگر انہیں روکا نہ گیا تو مزید خونریزی ہوگی۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
یوکرینی صدر نے اس بیان پر امریکی صدر کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ صرف روسی صدر پیوٹن ہی ہیں جو اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں جس کا مقصد مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے سے آگے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا ہے۔
یوکرینی صدر نے روس کے ساتھ جنگ میں شمالی کوریا کی مبینہ معاونت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ شمالی کوریا کے فوجی روس بھیجے جا رہے ہیں تاکہ روسی فوج کے کمزور محاذوں کو سہارا دیا جاسکے۔
زیلنسکی نے پیوٹن کو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے بڑی جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس پر دباؤ برقرار رکھا جائے۔
انہوں نے روس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ روس کی آمدنی کو ہدف بنائے رکھنا ضروری ہے۔ روس کی تیل کی صنعت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور تاریخ میں پہلی بار یہ صنعت دھویں کے سہارے چل رہی ہے۔
یوکرینی صدر نے مصنوعی ذہانت سے لیس ہتھیاروں کی تیز رفتار ترقی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیار پہلے ہی عالمی خطرہ بن چکے ہیں اس لیے ان کی ترقی کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو سفارت کاری اور طاقت دونوں کی ضرورت ہے اور کیف دونوں شعبوں میں موجود خلا کو بتدریج کم کر رہا ہے۔
انھوں نے چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے امکان پر بات کی ہے۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ روس بھی یوکرین کے توانائی نظام کو نشانہ بنانا بند کرے۔