سعودی عرب میں حوثی حملوں میں 1 پاکستانی شہید جبکہ 6 زخمی ہوئے ہیں، وزیر خارجہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب میں حوثی حملے میں ایک پاکستانی کی شہادت اور 6 کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔
عمانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں محفوظ اور آزادانہ جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ ان واقعات میں ایک پاکستانی شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ نائب وزیراعظم نے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت، غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور مسئلہ جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پُرامن حل پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پاکستان کی آبی، غذائی اور توانائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
عمانی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔ جس میں پاکستان اور عمان نے تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرلیا۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، کاروباری روابط مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ تجارت، زراعت، تیل و گیس، محنت اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے، سفارتی، خصوصی سروس اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنیٰ سمیت اطلاعات،مواصلات، آئی ٹی، آرکائیوز اور میڈیا تعاون کے شعبوں میں بھی معاہدے کیے جائیں گے۔
محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری طبقوں کے درمیان روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک فورم جلد پاکستان میں منعقد کرنے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ پاکستانی ہنرمند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
عمانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے تاریخی تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، غذائی تحفظ، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سراہا۔