انتخابات کے بعد ایران پر قیامت خیز حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کی نئی جنگی تیاریوں کا انکشاف

کارروائی کے حتمی وقت اور فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی

واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل اور امریکا میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، امریکی جریدے بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں نئے حملوں کے امکانات کی نشاندہی کردی۔

بلومبرگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور امریکی فوجی تیاریوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف مزید حملوں کے امکانات پر غور کر رہی ہے تاہم کارروائی کے حتمی وقت اور فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات متوقع ہیں، جبکہ امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ امریکی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 35 نشستوں کے لیے مقابلہ ہوگا، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔

بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق امریکی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

اس صورت حال سے صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

جریدے کے مطابق ٹرمپ نے پہلے مشرق وسطیٰ کی جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کی امید ظاہر کی تھی، لیکن خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور اضافی عسکری وسائل کی تعیناتی سے کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں تیسرے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے اور مزید 10 ہزار میرینز کی خلیجی خطے کی جانب روانگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بعض امریکی فوجی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کی تعداد کم کی گئی ہے، خصوصاً ان مقامات پر جہاں ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے ایک ماہر کے مطابق موجودہ حالات جنگ دوبارہ شروع ہونے اور بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مشرق وسطیٰ کے ماہر علی واعظ نے خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی سیاسی مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ سمجھ سکتے ہیں، لیکن ایسا فیصلہ ان کے لیے الٹا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق جس جنگ سے سیاسی مستقبل محفوظ بنانے کی امید ہو، وہی بالآخر سیاسی مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

 

بلومبرگ کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں اور امریکا کی داخلی سیاست کے درمیان تعلق مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف کسی نئی بڑی کارروائی کا حتمی فیصلہ یا اس کے وقت کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

متعلقہ

Load Next Story