وزیراعظم نوازشریف کا زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان
زلزلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 6 لاکھ، جب کہ زخمیوں کوایک ایک لاکھ روپےمعاوضہ فراہم کیا جائیگا، وزیراعظم
کہ ایسی ناگہانی میں صوبائی اور مرکزی حکومت کو الگ الگ نہیں چلنا چاہیے، وزیر اعظم نواز شریف فوٹو: فائل
OMAHA:
وزیراعظم نوازشریف نے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان پر پوری قوم افسردہ ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ زلزلے کی شدت 2005 کے زلزلے سے زیادہ ہونے کے باوجود نسبتاً کم نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں جب کہ زلزلے کے زخمیوں اور تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر صوبائی حکومت خاص طور پر وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا مشکور ہوں، امدادی کاموں میں مصروف اداروں، کارکنوں اور افواج پاکستان کا بھی مشکور ہوں۔
وزیراعظم نواز شریف نے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ناگہانی آفت میں مرکزی اور صوبائی حکومت شانہ بشانہ ہیں اور زلزلہ متاثرین کے پیکج کا 50 فیصد وفاقی حکومت جب کہ 50 فیصد صوبائی حکومت ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس 6 لاکھ روپے جب کہ زخمی ہونے والوں کو فی کس ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، اس کے علاوہ زلزلے میں جن لوگوں کے جسم کا کوئی عضو متاثر ہوا ہے انھیں 2، 2 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ زلزلے میں جن لوگوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں انھیں 2، 2 لاکھ جب کہ جزوی تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کو ایک ایک لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امدادی چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ پیر سے شروع کردیا جائے گا جب کہ جمعرات تک امدادی چیک تقسیم کردیے جائیں گے تاکہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں کی مرمت کا کام شروع کردیں، تمام اضلاع میں ایک ساتھ ہی چیک کی تقسیم کا کام شروع کیا جائے گا اور چیک کی تقسیم سے قبل متاثرین کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
پشاور کے بعد وزیراعظم نے چترال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اس موقع پر زلزلہ متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہاں کے عوام کے جذبات سے کھیلا گیا لیکن ہم زلزلے سے متاثرہ افراد سے اظہار ہمدری اور نقصان کا ازالہ کرنے آئے ہیں جب کہ متاثرین کو خوراک سمیت دیگر ضروری اشیا جلد مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں جاری مختلف منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے اور چترال سے شندور تک سڑک بنائی جائے گی جب کہ چترال میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کردیں گے اس سے قبل قوم کا جتنا بھی پیسہ ضائع ہوا اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف پشاور پہنچے تو گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں این ڈی ایم اے حکام کی جانب سے انھیں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں اور امدادی کارروائیوں پر بریفکنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی شریک تھے۔
https://www.dailymotion.com/video/x3bdesk_pm-nawaz_news
وزیراعظم نوازشریف نے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
پشاور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان پر پوری قوم افسردہ ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ زلزلے کی شدت 2005 کے زلزلے سے زیادہ ہونے کے باوجود نسبتاً کم نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں جب کہ زلزلے کے زخمیوں اور تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر صوبائی حکومت خاص طور پر وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا مشکور ہوں، امدادی کاموں میں مصروف اداروں، کارکنوں اور افواج پاکستان کا بھی مشکور ہوں۔
وزیراعظم نواز شریف نے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ناگہانی آفت میں مرکزی اور صوبائی حکومت شانہ بشانہ ہیں اور زلزلہ متاثرین کے پیکج کا 50 فیصد وفاقی حکومت جب کہ 50 فیصد صوبائی حکومت ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس 6 لاکھ روپے جب کہ زخمی ہونے والوں کو فی کس ایک لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، اس کے علاوہ زلزلے میں جن لوگوں کے جسم کا کوئی عضو متاثر ہوا ہے انھیں 2، 2 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ زلزلے میں جن لوگوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں انھیں 2، 2 لاکھ جب کہ جزوی تباہ ہونے والے مکانات کے مالکان کو ایک ایک لاکھ روپے فراہم کئے جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امدادی چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ پیر سے شروع کردیا جائے گا جب کہ جمعرات تک امدادی چیک تقسیم کردیے جائیں گے تاکہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہوئے ہیں وہ اپنے گھروں کی مرمت کا کام شروع کردیں، تمام اضلاع میں ایک ساتھ ہی چیک کی تقسیم کا کام شروع کیا جائے گا اور چیک کی تقسیم سے قبل متاثرین کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
پشاور کے بعد وزیراعظم نے چترال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اس موقع پر زلزلہ متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہنا تھا کہ یہاں کے عوام کے جذبات سے کھیلا گیا لیکن ہم زلزلے سے متاثرہ افراد سے اظہار ہمدری اور نقصان کا ازالہ کرنے آئے ہیں جب کہ متاثرین کو خوراک سمیت دیگر ضروری اشیا جلد مہیا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں جاری مختلف منصوبے جلد مکمل کیے جائیں گے اور چترال سے شندور تک سڑک بنائی جائے گی جب کہ چترال میں بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کردیں گے اس سے قبل قوم کا جتنا بھی پیسہ ضائع ہوا اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف پشاور پہنچے تو گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں این ڈی ایم اے حکام کی جانب سے انھیں زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں اور امدادی کارروائیوں پر بریفکنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بھی شریک تھے۔
https://www.dailymotion.com/video/x3bdesk_pm-nawaz_news