قندیل بلوچ قتل مفتی عبدالقوی پولیس کو جواب نامہ جمع نہ کراسکے
آج نماز جنازہ پر جارہا ہوں کل سوالنامہ پُر کرکے پولیس کے حوالے کردوں گا، مفتی عبدالقوی
ملزم حق نواز نے دوران تفتیش ماڈل قندیل کے قتل میں دیگر 4 رشتہ داروں کے ملوث ہونے اعتراف کیا ہے، پولیس حکام : فوٹو؛ فائل
قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی نے پولیس کی جانب سے بھجوائے گئے سوالنامے کے جواب جمع نہیں کراسکے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کو اپنے تحریری جواب پولیس کو فراہم کردیں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملتان پولیس کی جانب سے قندیل بلوچ قتل کیس میں شامل تفتیش مفتی عبدالقوی کو سوالنامہ فراہم کیا تھا اور تاکید کی گئی تھی کہ پوچھے گئے سوالات کے واضح تحریری جواب دیں تاہم انہوں نے اب تک پولیس کا سوالنامہ پُر نہیں کیا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ قتل؛ مفتی عبدالقوی کو سوالنامہ مل گیا
مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ آج کسی کی نماز جنازہ پر جارہا ہوں، کل سوالنامہ پر کرکے پولیس کے حوالے کردوں گا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی آج کی میڈیا بریفنگ ملتوی کردی ہے اور وہ اس بارے میں اتوار کے روز میڈیا کو بھی آگاہ کردیں گے۔
دوسری جانب چوہدی محمد آصف ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم مقتولہ کے بھائی وسیم کی معاونت کرنے والے ملزم اور مقتولہ کے کزن حق نواز کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی ہے۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ملزم نے اپنی سابقہ درخواست کی بنا پر آج کی تاریخ تک ضمانت لے رکھی تھی تاہم آج عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ کی دو بھابھیاں بھی گرفتار
اس سے پہلے ملزم حق نواز نے تھانہ شاہ صدرالدین میں جاکر خود گرفتاری دے دی تھی جبکہ ملزم نے 30 جولائی تک عبوری ضمانت بھی کرارکھی تھی اور آج ضمانت ختم ہونے پر ملزم حق نواز نے اپنے وکیل کے ذریعے ایڈیشنل انیڈ سیشن جج کی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دی جسے عدالت نے ملزم کے عدالت کے روبرو پیش نہ ہونے کے باعث خارج کردیا ہے۔ ملزم حق نواز پر ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کی قتل میں معاونت کا الزام ہے۔
اس خبرکو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ کو بھائی نے گلا دبا کرقتل کیا
دوسری جانب قندیل بلوچ کے بھائی وسیم ،عارف اور کزن حق نواز کے بعد اب مزید 4 افراد کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم حق نواز نے دیگر 4 رشتہ داروں کے ملوث ہونے اعتراف کیا ہے اور پولیس نے بھی ان افراد کے نام گرفتاری تک ظاہر نہ کرنے کا کہا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیں گے جس سے کیس میں مزید پیش رفت ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملتان پولیس کی جانب سے قندیل بلوچ قتل کیس میں شامل تفتیش مفتی عبدالقوی کو سوالنامہ فراہم کیا تھا اور تاکید کی گئی تھی کہ پوچھے گئے سوالات کے واضح تحریری جواب دیں تاہم انہوں نے اب تک پولیس کا سوالنامہ پُر نہیں کیا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ قتل؛ مفتی عبدالقوی کو سوالنامہ مل گیا
مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ آج کسی کی نماز جنازہ پر جارہا ہوں، کل سوالنامہ پر کرکے پولیس کے حوالے کردوں گا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی آج کی میڈیا بریفنگ ملتوی کردی ہے اور وہ اس بارے میں اتوار کے روز میڈیا کو بھی آگاہ کردیں گے۔
دوسری جانب چوہدی محمد آصف ایڈیشنل سیشن جج ملتان نے قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم مقتولہ کے بھائی وسیم کی معاونت کرنے والے ملزم اور مقتولہ کے کزن حق نواز کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی ہے۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ملزم نے اپنی سابقہ درخواست کی بنا پر آج کی تاریخ تک ضمانت لے رکھی تھی تاہم آج عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کی جاتی ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ کی دو بھابھیاں بھی گرفتار
اس سے پہلے ملزم حق نواز نے تھانہ شاہ صدرالدین میں جاکر خود گرفتاری دے دی تھی جبکہ ملزم نے 30 جولائی تک عبوری ضمانت بھی کرارکھی تھی اور آج ضمانت ختم ہونے پر ملزم حق نواز نے اپنے وکیل کے ذریعے ایڈیشنل انیڈ سیشن جج کی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دی جسے عدالت نے ملزم کے عدالت کے روبرو پیش نہ ہونے کے باعث خارج کردیا ہے۔ ملزم حق نواز پر ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کی قتل میں معاونت کا الزام ہے۔
اس خبرکو بھی پڑھیں: قندیل بلوچ کو بھائی نے گلا دبا کرقتل کیا
دوسری جانب قندیل بلوچ کے بھائی وسیم ،عارف اور کزن حق نواز کے بعد اب مزید 4 افراد کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم حق نواز نے دیگر 4 رشتہ داروں کے ملوث ہونے اعتراف کیا ہے اور پولیس نے بھی ان افراد کے نام گرفتاری تک ظاہر نہ کرنے کا کہا ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیں گے جس سے کیس میں مزید پیش رفت ہوگی۔