اب عمران خان اور بلاول کا مستقبل کیا ہوگا؟

رحمت علی رازی  ہفتہ 30 جولائ 2016
rehmatraazi@hotmail.com

[email protected]

اسے پیپلزپارٹی کی سیاسی چال کہا جائے یا مستقبل کی حکمتِ عملی؟ سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے پیچھے متوقع طور پر کیا راز پنہاں ہو سکتا ہے؟ اس سارے معاملہ میں رینجرز، ایف آئی اے اور نیب کے خلاف صوبائی خودمختاری کی آڑ میں محاذآرائی کی نیت شامل ہے یا پھر آزاد کشمیر میں ہزیمت آمیز شکست کے نتیجہ میں دبئی سلطنت کے مغلِ اعظم نے پارٹی میں موجود پِٹے اور تھکے ہوئے گھوڑوں کو فارغ کر کے کراچی سے کشمیر تک پیپلزپارٹی کی ازسرِنو تنظیم سازی کا صدقِ دل سے قصد کر لیا ہے۔

قائم علی شاہ کی وفاداری اور کارگزاری تو اظہرمن الشمس ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ کے نومنتخب وزیراعلیٰ کونسی نئی پارٹی پالیسی لے کر وارد ہوتے ہیں۔ سندھ اور وفاق کے درمیان بہت اہم اختلافی معاملات ہیں جس پر مراد علی شاہ بطور وزیر خزانہ مقدمات لڑتے رہے ہیں، اطلاع ہے کہ کابینہ میں تبدیلی پارٹی چیئرمین بلاول زرداری کے اصرار پر ہوئی۔ قائم علی شاہ کی تبدیلی کی وجہ ان کی بڑی عمر ہو سکتی ہے، پارٹی قیادت نئے چہرے اور تازہ دم شخصیت لانا چاہتی ہے لیکن کسی بامعنی تبدیلی کا تو پاکستان بھر میں تصور ہی نہیں ہے، اس قسم کے اقدام سے تبدیلی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔

پچھلے آٹھ سال میں بدقسمتی سے سندھ نیچے کی طرف گیا ہے، سندھ میں کوئی چیز بھی بہتر نہیں ہوئی، اس کا اثر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی ہوا، بلاول نے خود وہاں جا کر الیکشن مہم چلائی، اس کے باوجود صرف 2 سیٹیں حاصل ہوئیں، ممکن ہے آزادکشمیر الیکشن کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے مشورہ ہوا ہو کہ جب تک پیپلزپارٹی کا چہرہ سندھ میں اچھا نظر نہیں آئیگا، پاکستان کے لوگ ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہونگے۔ سندھ کا نیا وزیراعلیٰ شاید ہی اس بگاڑ کی اصلاح کر سکے جو سائیں سرکار نے  8سال میں برپا کیا۔

آصف زرداری اور فریال تالپور کی گروہ بندی نے پیپلزپارٹی کے آخری سیاسی گڑھ سندھ میں بھی پارٹی کا برسراقتدار رہنا مشکل بنا دیا ہے۔ قائم علی شاہ کی تبدیلی کی دو بڑی وجوہ نظر آتی ہیں، ایک تو آزادکشمیر الیکشن اور دوسرا لاڑکانہ کا واقعہ، جسکا کسی نہ کسی کو خمیازہ بھگتنا تھا اور وہ قائم علی شاہ کو لے ڈوبا، انھیں جس انداز میں عہدے سے ہٹایا گیا وہ اس سے بہت زیادہ دلبرداشتہ ہیں، ان کے ساتھ دبئی میں ایسا سلوک ہوا جیسے کوئی جج ملزم کو بلاتا ہے اور ایک شارٹ آرڈر پڑھ کر سنا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں آئیگا، ان سے مشورہ بھی نہیں کیا گیا کہ ان کے بعد کس کو عہدے پر فائز کیا جائے۔

اس سے پہلے بھی پارٹی قیادت ڈاکٹر عاصم کیس میں ان سے ناراض رہی ہے کیونکہ انھوں نے اس معاملے پر وہ پوزیشن نہیں لی جو اُن سے توقع کی جا رہی تھی، معلوم نہیں پارٹی کی اعلیٰ قیادت ان سے کیا توقع کر رہی تھی کہ وہ کورکمانڈر، ڈی جی رینجرز کے سامنے کیا کہیں، کیونکہ جب پارٹی کے لوگوں کے سامنے فائل رکھی جاتی تھی وہ بے بس ہو جاتے تھے، پارٹی ان سے اس لیے بھی ناراض رہی کہ انھوں نے اپنے لوگوں کا دفاع نہیں کیا۔ قائم علی شاہ کی پیپلزپارٹی میں موجودگی وفاداری بشرطِ استواری پر قائم تھی، جو پچھلے 3 سال میں قائم علی شاہ نے حکومت کی ہے بالکل ویسے ہی پچھلے 5 سال کے دورِ حکومت میں کی تھی، فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت مرکز پی پی کے پاس تھا اور سندھ کے تمام معاملات قائم علی شاہ کے سپرد تھے۔

جب پی پی سندھ میں سمٹی تب بھی انھوں نے حکومت بالکل اسی طریقے سے چلائی، جیسے پہلے چلایا کرتے تھے، ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے رینجرز کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ ہو گئے تھے اور معاملات کو سنبھالنے کے لیے قائم علی شاہ فِٹ نہیں تھے، ان کی حکومت پر گرفت کم جب کہ سندھ میں اصل حکمرانی بڑے ناموں کے پیچھے چھپے بڑے مافیا کر رہے تھے اور یہ طرزِعمل پیپلزپارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہا تھا اور قائم علی شاہ اس صورتحال کے حوالہ سے ڈھال بنے نظر آ رہے تھے، دوسری جانب انتظامی محاذ پر بھی قائم علی شاہ اور ان کی حکومت کی رِٹ نہ ہونے کے برابر تھی جسکا ثبوت کراچی میں روزبروز بگڑتی امن و امان کی صورتحال تھی۔

افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ قیامِ امن کے لیے جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں حکمران ان سے عدم تعاون کر رہے ہیں، اسی وجہ سے وہ یکطرفہ ہی یہ سب کچھ کر رہے ہیں، اگر عوام اور حکمران بھی تعاون کرتے تو اب تک صوبہ سندھ میں امن و امان قائم ہو چکا ہوتا۔ رینجرز کے اختیارات کا معاملہ جلد یا بدیر حل ہونا ہے لیکن جلد یا بدیر ایک نیا تنازع پھر کھڑا ہو گا کیونکہ قائم علی شاہ نے اپنے اقتدار کے آخری لمحوں میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی فائل پر دستخط کیے بغیر صوبائی سطح پر فائل واپس بھجوا دی تھی، اس کا مطلب یہی ہے کہ تنازع ختم نہیں ہوا اور اب یہ نیا چیلنج نئے وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کی کابینہ کو بھی درپیش ہو گا۔

جہاں تک یہ سوال کہ سیاسی تبدیلی کیوں ناگریز تھی، تو یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ سندھ حکومت ڈلیور نہیں کر پائی، بدیں وجہ دبئی میں موجود پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو سمجھوتہ کرنا پڑا۔ آنیوالے چند دنوں میں یہ پتہ چل جائے گا کہ نوجوان، پرعزم شاہ، معمر روایتی شاہ کی ڈگر پر قائم رہتا ہے یا پیپلزپارٹی نے سندھ میں نئے راستے کا انتخاب کر لیا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد جب قائم علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ مقرر کیا گیا، اس وقت پیپلزپارٹی کے اندر کراچی ٹارگٹڈ ایکشن اور اس کے نتائج کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

بدقسمتی سے حسنِ حکمرانی اور حسنِ انتظام پر عوام کے لیے کچھ کرنے کے بجائے اپنی غربت مٹانے کے علاوہ پیپلزپارٹی نے کبھی توجہ نہیں دی جس سے کرپشن کا تاثر بھی مزیدگہرا ہوتا چلا گیا، اپنے تمام تر عملی مقاصد کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کو باہر سے چلایا جاتا رہا اور قائم علی شاہ کو ’’ڈکٹیشن‘‘ پر عمل کرنا پڑا، اپنے بعض وزراء اور مشیروں کی کرپشن کے حوالے سے سنگین شکایات سے بھی قائم علی شاہ متنازعہ ہو گئے، جب آپریشن شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سوچا تک نہ تھا کہ خود ان کا صوبہ (بشمول آصف زرداری) ان کے لیے ’’نوگوایریا‘‘ بن جائے گا۔

لاڑکانہ میں اسد کھرل اور صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال کے بھائی طارق سیال کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے قائم علی شاہ کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ اب مراد علی شاہ قائم علی شاہ کی جگہ لے چکے ہیں لیکن انھیں بھی اپنے پیشرو کی طرح یکساں مسائل کا سامنا ہو گا۔ آیندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں، اب ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے کہ پارٹی میں بڑے پیمانے پر نمایاں تبدیلیاں لائی جائیں اور ایسے لوگوں کا وزارتوں اور بیوروکریسی میں تقرر کیا جائے جو غربت مٹانے والوں کے بجائے دیانتدار اور مثبت سوچ کے حامل، خوفِ خدا رکھنے والے ہوں۔

مراد علی شاہ کو بڑی آزمائش کا سامنا ہو گا، سندھ کا بنیادی مسئلہ کرپشن ہے، پولیس سیاست زدہ اور کوئی ایک محکمہ بھی ایسا نہیں جو کرپشن سے پاک ہو، ان تمام معاملات کو درست کرنے کے لیے مراد علی شاہ کو اپنی حکومت کو احتساب کے لیے کھلے بندوں جوابدہ بنانا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ چہرے تبدیل ہوئے ہیں یا سیاست میں تبدیلی آئی ہے، قائم علی شاہ ہوں یا مراد علی شاہ جب تک لندن یا دبئی سے پارٹی چلائی جاتی رہے گی پیپلزپارٹی کا امیج اور کارکردگی کا گراف زمیں بوس ہوتا جائے گا۔

قائم علی شاہ زرداری اور فریال تالپور کی آواز پر لبیک کہتے تھے، زرداری جو انھیں سمجھاتے اور ڈیل کا کہتے تھے، وہ قائم علی شاہ نہیں کر پا رہے تھے، رینجرز اختیارات کے معاملے پر پی پی پی پر زبردست پریشر تھا اس لیے زرداری کسی سخت آدمی کو لانا چاہتے تھے، ایم کیو ایم کے لیے بھی کوئی ٹھنڈا بندہ چاہیے تھا جو اُن کے ساتھ ڈیل کرا سکے، اس طرح انھیں احساس تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ بھی مسائل ہونگے۔ سندھ حکومت کے بارے میں جو ایک تاثر ہے کہ وہ سست ہے وہ آج کا نہیں ہے وہ تو پچھلے آٹھ سال سے ہے۔

سندھ میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ دبئی میں کیا گیا تاہم ایسا نہیں کہ یہ فیصلہ راتوں رات کیا گیا بلکہ کئی ماہ اس پر غور اور مشاورت جاری رہی۔ بلاول بھٹو دو برس پہلے سے چاہتے تھے کہ مراد علی شاہ وزیراعلیٰ بنیں، تبدیلی کے اعلان کے بعد سندھ کی سیاست میں ہلچل آئی ہے، سیاسی رابطے، جوڑ توڑ ایک بار پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ جب حکومت اور صوبہ بہن بھائی چلاتے ہیں تو کیو اے شاہ ہو یا ایم اے شاہ، بات تو ایک ہی ہے۔

ایک ذرایع کے مطابق مراد علی شاہ کو بچانے کے لیے وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے کیونکہ کچھ منسٹرز کے خلاف ایکشن ہونے والا تھا، ہمیں نہیں لگتا کہ بلاول کو مکمل اختیارات دیے جائینگے کیونکہ تمام فیصلوں کے لیے دبئی میں میٹنگ کرنا پڑتی ہے، بلاول کو نہ تو فری ہینڈ دیا گیا اور نہ ہی اپنی ٹیم منتخب کرنے کی اجازت ہے، ان کے اردگرد بھی ان لوگوں کو نتھی کر دیا گیا ہے جو کرپشن میں پی ایچ ڈی ہیں، جب نعرے لگانے کی ضرورت پڑتی ہے تو بلاول کو استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر صوبہ قائم علی شاہ نے اچھا نہیں چلایا تو مراد علی شاہ بھی ان کے ہی وزیر تھے تو انھوں نے تب استعفیٰ کیوں نہ دیا، اب وہ وزیراعلیٰ ہو گئے ہیں تو حالات اور بھی بدتر ہو جائینگے، ان کے فرنٹ مینوں نے آدھے سپرہائی وے پر قبضہ کر لیا ہے، اربوں روپیہ خوردبرد ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ نئے ہوں یا پرانے، کراچی آپریشن کی جو ترجیحات آغاز میں رکھی گئی تھیں اس جانب توجہ نہیں دی جا رہی، اس میں پہلی ترجیح یہ تھی کہ شہر کو اسلحے سے پاک کیا جائے، اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ یہ سب چیزیں اس لیے ہو رہی ہیں کیونکہ اسلحہ تک رسائی آسان ہے۔

کراچی آپریشن کو لے کر چلنے کی ہماری ترجیحات صحیح طرح استوار نہیں ہوئیں۔ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں پائی جاتی، ایک کھنچاؤ پایا جاتا ہے، سندھ حکومت ان سے عدم تعاون کا ثبوت دے رہی ہے، اس کو کم کرنا پڑیگا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ترجیحات طے کرنا ہونگی، متعلقہ اداروں کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی ہونی چاہیے، اس صورتحال میں قوم کو، میڈیا کو اور ہم سب کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ ایک جنگ کی ہی شکل چل رہی ہے۔

کراچی کے حالات میں کافی بہتری آئی ہے لیکن ہمارے بیچ ٹارگٹ کلرز چھپے بیٹھے ہیں جن سے کسی بھی وقت کام لیا جا سکتا ہے، ملک کے اندر سے بھی اور ملک کے باہر سے بھی، مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ یہ نہ سمجھئے کہ آپ نے کراچی کو پرامن بنا دیا۔ دوسری بات یہ کہ جہاں ریاست اور اسٹیک ہولڈرز کے مفادات آپس میں ہم آہنگ نہیں ہونگے وہاں پر ترجیحات بھی ہم آہنگ نہیں ہونگی، نئے وزیراعلیٰ کو سب سے پہلے آپریشن کی ملکیت لینا ہو گی، وزیراعلیٰ کی ذات سے کوئی فرق نہیںپڑتا، اس آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عوام کا تعاون بہت ضروری ہے، اس کے بغیر کبھی بھی اس میں کامیابی نہیں ملے گی،ہمیں نہیں لگتا کہ ہم نے بطور ملک اپنی اندرونی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی آئیڈیل اور ٹھوس پالیسی بنا کر اس کا نفاذ کیا ہے، بظاہر تو کراچی آپریشن میں کافی بڑی کامیابی ہوئی ہے۔

گزشتہ وزیراعلیٰ موثر کپتان نہیں تھے، نئے وزیر اعلیٰ کو موثر قیادت فراہم کرنا ہو گی، اب نئے وزیراعلیٰ کے ساتھ سول انتظامیہ کو بھی چارج لینے کی ضرورت ہے، سٹریٹ کرائمز کے لیے آپ فوج یا رینجرز کو نہیں لگا سکتے، یہ کام پولیس کے ذمے لگانا ہو گا اور اس کی مانیٹرنگ رینجرز اور حکومت کو کرنا ہو گی لیکن دیانتدار، طاقتور اور سیاست سے پاک پولیس کہاں سے آئیگی، انھیں ٹارگٹ دیے جانے چاہئیں، جو پورے نہ کر پائیں انھیں سزائے موت والی چکی میں بند کر دینا چاہیے، پھر ہی کچھ ہو سکتا ہے۔ سندھ میں گورننس کے حوالے سے اچھی مثالیں موجود نہیں ہیں۔

قائم علی شاہ کے 8 سالہ دور کے دوران سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کا جو حال ہوا اور کراچی سمیت اندرونِ سندھ میں جو صورتحال ہے وہ کسی بھی اعتبار سے اطمینان کا باعث نہیں، یہ صورتحال پیپلزپارٹی اور اس کے مستقبل اور سندھ کے شہریوں کے لیے ہرگز اطمینان بخش نہیں، قائم علی شاہ کے دور میں کرپشن کی بے پناہ کہانیاں سامنے آئیں، اس میں سارا قصور قائم علی شاہ کا نہیں ہے، قائم علی شاہ کا شمار پیپلزپارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے، سندھ کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی پر کرپشن کے الزامات لگے لیکن قائم علی شاہ کا اپنا دامن صاف رہا، وہ ایک بے بس اور کمزور وزیراعلیٰ کے طور پر دیکھے گئے، آگے کیا ہونے والا ہے، اس حوالے سے سنگین چیلنجز ہیں۔

اس کے علاوہ مراد علی شاہ کے لیے اہم ٹارگٹ ہیں، انھیں پونے دو سال میں کچھ ڈلیور کرنا ہے جو 8 سال میں قائم علی شاہ نہیں کر سکے، ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ اپنی وزارتِ اعلیٰ کی رِٹ برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ چیلنج قائم علی شاہ کو بھی درپیش رہا، وہ وزیراعلیٰ تھے مگر ان کے اختیارات میں کئی لوگوں کی مداخلت رہی، دبئی اجلاس میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ ہو گیا لیکن پیپلزپارٹی کے اہم ترین لیڈر خورشید شاہ کہتے ہیں اس کی اطلاع انھیں میڈیا سے ملی، اس حوالے سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے انھیں اس قابل نہیں جانا کہ ان سے بھی مشاورت کی جاتی۔ پیپلزپارٹی کی چین آف کمانڈ تبدیل نہیں ہوئی، اختیار نہ تو قائم علی شاہ کے پاس تھا نہ ہی مراد علی شاہ کے پاس ہو گا، زرداری پس پردہ بیٹھے ہیں جب کہ بلاول مارکیٹنگ فیس ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ مراد علی شاہ سابق وزیراعلیٰ سندھ عبداللہ شاہ کے بیٹے ہیں جن کے دور میں مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہوا۔ سندھ میں کرپشن کی صورتحال بدترین ہے، نئے وزیراعلیٰ کیا کر پائیں گے جب کہ ان کے پاس ٹیم تو وہی پرانی ہے۔ بلاول کے پاس اب دو سال کا وقت ہے کہ وہ گڈگورننس کو عملاً ثابت کریں کیونکہ عوام اب نتائج چاہتی ہے۔ نئے وزیراعلیٰ اور کابینہ کو اس بات کو پیش نظر رکھ کر چلنا ہو گا کہ اب کوئی بہانے بازی نہیں چلے گی جو قائم علی شاہ کی پیرانہ سالی کے باعث چل جاتی تھی۔ آصف زراری نے اگر اب بھی ماضی کی طرح کٹھ پتلی حکومت چلانے کی کوشش کی اور فریال تالپور نے عملاً صوبہ چلایا تو پھر بہتری کی کوئی اُمید نہیں اور ایک شاہ کے جانے اور دوسرے کے آنے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا۔

نئے وزیراعلیٰ کے لیے سب سے بڑا چیلنج کراچی شہر میں امن و امان کا قیام ہے، کراچی میں سکیورٹی اہلکاروں پر دہشتگردانہ واردات نے، جس میں دو جوانوں کی شہادت ہوئی، ایک بار پھر فزوں تر انتہا پسندی کو عیاں کر دیا ہے۔ شہر قائد کے امن پر پڑنے والے سوالیہ نشان کے پس منظر میں سندھ میں رینجرز کو خصوصی اختیارات کی مدت میں عدم توسیع ہے۔ رینجرز کی واپسی نے ایک بار پھر دہشت گردوں کو ریاستی اداروں کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے نتائج یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے رینجرز کے اختیارات میں توسیع انتہائی ناگزیر ہے، جن کیوجہ سے کراچی میں امن ممکن ہوا ہے۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے اویس شاہ کی بازیابی بھی رینجرز اور آرمی کے تعاون سے ہی ممکن ہوئی۔ پیپلزپارٹی نے جتنا زور وزیراعظم کو پاناما لیکس کے ذریعے بلیک میل کرنے پر لگایا ہے، اتنا دھیان اگر وہ پارٹی کی کارکردگی اور تنظیمِ نو پر دیتی تو آزاد کشمیر میں انھیں شکست ِ فاش کا سامنا نہ کرنا پڑتا، پی پی کے ساتھ ساتھ تحریکِ انصاف کی پالیسی بھی اَزحد دگرگوں رہی اور انھوں نے ہر سیاسی معاملے پر کچھ پانے کے بجائے بہت کچھ کھویا ہے۔

اس کی اصل وجہ عمران خان کی اتاولی طبیعت اور بے بصیرت مشیروں کی باتوں پر کان دھرنا ہے، وہ ہر ایشو کو بے وجہ متنازعہ بنا دیتے ہیں اور اسی پر بضد ہو جاتے ہیں، ان کے پاس نہ تو میڈیا کی آئیڈیل ٹیم ہے اور نہ ہی تھینک ٹینک ہے جو انھیں کسی بھی خطاب سے پہلے پرکشش تقریر کے لیے مواد فراہم کر سکے اور نہ ہی ایسی کوئی ٹھوس پالیسی بنائی ہے کہ یوتھ ڈسپلن میں آ جائے، بے مہار یوتھ نے سب سے پہلے میڈیا کے اوپر ہی وار کیے جس سے کوئی بھی سنجیدہ اور متاثر کرنیوالے صحافی ان سے خوش نہیں اور نہ انھوں نے میڈیا سے غیرمعمولی تعلقات بڑھانے کی کوشش کی، ہر کوئی ڈسپلن کے دائرے میں آنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت ہی نہیں یہ خود ہی حکمرانوں کی خدمت کر رہے ہیں اور بڑی محنت سے اپنا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ ان کا یہ انداز رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ملکر جو بھی چیز بنے اس کو تسلیم نہ کیا جائے، تاہم سکے کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ممبران پر ان کے احتجاج میں بے پناہ سچائی دکھائی دیتی ہے۔ 22 ویں آئینی ترمیم کے تحت طے پایا تھا کہ ای سی ممبران کے لیے ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس کو جج حضرات پر ترجیح دی جائے گی، 2013ء کے الیکشن سمیت ماضی میں کئی بارالیکشن میں ثابت ہو چکا ہے کہ جج حضرات اس طرح کی ذمے داری کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔

اب پھر اس بات سے انحراف کرتے ہوئے من پسند ججز کو تعینات کیا گیا ہے، یہ بات یقینا نزاع کا باعث بنے گی، تحریکِ انصاف نے بجا طور پر 2 ناموں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے ایک بار پھر عمران اور پاکستان سے ہاتھ کر دیا ہے اور اسحاق ڈار کے ساتھ پس پردہ ملی بھگت کر کے من پسند افراد کے نام منتخب کیے جب کہ باقی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اس سے ثابت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے اسی لیے آزاد کشمیر میں فرینڈلی اپوزیشن کے لیے مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو کامیاب کروا کر یہ ثابت بھی کر دیا کہ اصل میں پی پی اور مسلم لیگ (ن) ایک ہی ہیں۔ مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی کو صحیح معنوں میں اپوزیشن نہیں بننے دیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اسی لیے دورنِ پردہ حکمرانوں کے اشاروں پر جنرل راحیل اور دیگر اداروں سے بھی اپیل کی تھی کہ خدارا سسٹم کو چلنے دیں۔ شاہ جی نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کہ سسٹم چلنے دیں… کرپشن کا، دہشت گردی کا، دھاندلی کا، رشوت کا، ملک سے غداری کا، چائنہ کٹنگ کا، غربت کا، بیروزگاری کا، مہنگائی کا، بے انصافی کا، لوٹ مار کا اور بھتہ خوری کا!! عمران خان فی الوقت تو خاموشی اختیار کر گئے ہیں لیکن ذہنی طور پر وہ الیکشن کمیشن کے نئے مقررہ ممبران سے مطمئن نہیں ہیں۔ اگلے انتخابات سے 22 ماہ پہلے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں اور ان کی وجہ وہی ہے جو 2013ء کے انتخابات کے دھاندلی کے الزامات کے پیچھے تھی۔

چیئرمین تحریکِ انصاف نے 2013ء کے انتخابات کے بعد اس وقت کے الیکشن کمیشن پر الزامات لگائے اور ان کے استعفے کے لیے مہم چلائی تھی، اب ایک بار پھر الیکشن کمیشن ممبران پر اعتراض کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے چار ممبران کی تقرری مکمل ہو چکی ہے، عمران خان نے پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن کی تقرری پر سوال اٹھایا ہے، انھوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ 2013ء کے متنازعہ انتخابات کے بعد جوڈیشل کمیشن نے پنجاب کے رکن پر منفی ریمارکس دیے تھے، توقع تھی کہ اس بار پنجاب سے بہتر نامزدگی کی جاتی۔

بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ ممبران کی تقرری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اب اس پر جرح کرنا بے سود ہو گا۔ جس طرح پیپلزپارٹی سندھ میں نئے پر پُرزے نکالنے کی تیاری میں ہے، عمران خان بھی کے پی کے میں کچھ ایسا ہی منصوبہ بنا رہے ہیں، انھوں نے خیبرپختونخوا میں ترقی کے لیے 13 نکاتی پروگرام کا اعلان کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس سے کے پی کے حکومت کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی؟ کچھ ناقدین ان کے بیان کو سنجیدہ نہیں لے رہے، وجہ یہ کہ تین سال کے بعد وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس صوبے کو تبدیل کر دینگے جب کہ وہ کہا کرتے تھے کہ 90 دن کے اندر پتہ چل جاتا ہے کہ حکومت کی سمت درست ہے یا نہیں۔

عمران خان کے غیرروایتی سیاسی رویوں سے انحراف، اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ، لیکن ملک کے سیاسی منظر نامے پر جتنے بھی سیاستدان ہیں، ان میں عمران خان وہ واحد آدمی ہیں جو کسی بنیادی، بامعنی، حقیقی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں، وہ ایماندار آدمی ہیں، اور کے پی کے میں بہتری لا سکتے ہیں۔ جہاں تک ایم پی ایز کے فنڈز بند کرنے کی بات ہے، یہ جھگڑا وزیراعلیٰ، 5 ایم این ایز اور 8 ایم پی ایز کے درمیان چل رہا ہے، ان کا الزام ہے کہ پرویز خٹک فنڈز کا غلط استعمال کر رہے ہیں، اسے روکا جائے، جس پر سب کا فنڈ بند کر دیا گیا ہے تا کہ پارٹی میں جو بنیادی جھگڑا تھا وہ ختم کیا جا سکے۔

چونکہ عمران خان احتساب کی تحریک چلانے جا رہے ہیں تو انھیں دوبارہ سے اپنی حکومت کو ایک اچھا تاثر دینا ہے، اس کے باوجود پرویز خٹک کے رویے سے جھلکتا ہے کہ عمران خان کے 13 نکات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن کے پی کے میں تبدیلی کی کرن نظر نہیں آتی۔ اس سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ کیا عمران خان کی پریس کانفرنس آزاد کشمیر الیکشن میں ہونے والی  ناکامی سے توجہ ہٹانا تھی یا اس پریشانی سے، جو پارٹی میں دَر آئی تھی؟ یہ وہ چیزیں ہیں جسکا جواب عمران خان یا ان کی کورکمیٹی ہی دے سکتی ہے۔

عمران خان نے اسد قیصر سمیت بہت سے لوگوں کو نظرانداز کر کے پرویزخٹک کو وزیراعلیٰ بنا دیا تھا اور اسی وجہ سے وہ سب پرویز خٹک پر تنقید کرتے تھے۔ یہ 13 نکات تو عمران خان کو 3 سال پہلے بھی معلوم تھے، سوال یہ ہے کہ ان نکات پر پہلے عملدرآمد کیوں نہ ہوا؟ لیکن اصلیت یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اُمید دے رہا ہے تو اس کے ساتھ چلنا چاہیے۔ عمران خان نے کے پی کے میں جو اصلاحات پیش کی ہیں ان پر عملدرآمد ہو گیا تو پی ٹی آئی اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر لے گی۔ چلو اتنا تو ہوا کہ کسی جماعت نے تو ممبران اسمبلی کے اصل کام کی جانب توجہ مبذول کرائی اور ترقیاتی فنڈز ان سے واپس لینے کی بات کی۔

حقیقت بھی یہی ہے، ممبرانِ اسمبلی کاکام قانون سازی ہوتا ہے نہ کہ ترقیاتی فنڈز کی بندربانٹ۔ یہ بات ہے تو اچھی مگر کی بہت دیر سے گئی ہے۔ عمران خان کے 13 نکات کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کا اقدام اس وقت اٹھانا چاہیے تھا جب نئی حکومت بنی تھی، اس قدم سے انھیں اگلے الیکشن کے لیے بندے تیار نہیں ملیں گے، لوکل گورنمنٹ کا اپنا کوٹہ ہوتا ہے اور صوبائی حکومتوں کا اپنا کوٹہ، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے صوبائی فنڈز لوکل گورنمنٹ کو منتقل کر دیے، ایم این اے، ایم پی اے اصل میں قانون ساز تو ہیں مگر اس کے علاوہ پارٹی کے ممبرز بھی ہیں جو ووٹ ڈال کر پرائم منسٹر اور چیف منسٹر بناتے ہیں۔

عمران خان کا وضع کردہ قانون ہمارے سسٹم میں کارآمد نہیں ہے، اسے ان کی سیاسی ناپختگی ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ صوبائی حکومت میں ہونے کی وجہ سے وہ لوکل گورنمنٹ میں آئے ہیں، اگر وہ صوبائی حکومت کا حصہ نہ ہوتے تو لوکل گورنمنٹ بھی نہیں جیت سکتے تھے، ان کی باتیں اچھی ہیں لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ وہ اپنی اچھی باتوں کا نفاذ کر سکتے ہیں۔ اس میں کئی چیزیں نظرآتی ہیں، جب احتساب کمیشن بنایا تھا اس کے بعد کیا ہوا؟ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا فیصلہ بہت اچھا تھا لیکن نفاذ کی بات کی جائے تو نہ ہونے کے برابر ہے۔

عمران خان کی جانب سے کرپشن کی نشاندہی کرنے پر حاصل کردہ رقم کا 25 فیصد کیسے مل جائے گا؟ اس کے لیے کوئی قانون سازی کرنا پڑیگی۔ اگر عمران خان سب جماعتوں سے آگے نکلنا چاہتے ہیں تو انھیں یکسو ہو کر اپنی پارٹی کے اندر متنازعہ معاملات کو فوری درست کرنا ہو گا۔ وہ پارٹی الیکشن ضرور کروائیں لیکن اگر اس سے پارٹی میں مزید انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہو تو پارٹی انتخابات کو اُس وقت تک ملتوی کر دیں جب تک اپنی پارٹی کی خامیوں کو دُور نہیں کر لیتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔