مودی بند گلی میں پھنس چکے ہیں
جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے ہیں۔لائن آف کنٹرول گرم ہی ہے
msuherwardy@gmail.com
جب سے نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے ہیں۔لائن آف کنٹرول گرم ہی ہے۔ بطور پاکستانی یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ نریندر مودی نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کو گرم کیوں رکھا ہوا ہے۔یہ درست ہے کہ جب مودی لاہور آئے تب کچھ ماہ کے لیے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر ہوا تھا لیکن اس کے بعد کشمیر کے گرم ہوتے ہی مودی واپس اپنی پالیسی پر آگئے۔
لیکن اب کیا ہوا ہے کہ بھارت نے کئی سال بعد لائن آف کنٹرول پر آرٹیلری کا استعمال شروع کیا ہے۔ پاکستان کے سات فوجیوں کو شہید کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے میں نے بھارت میں اپنے کئی دوست صحافیوں سے رابطہ کیا ہے۔ ان سے بات سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں کیا چل رہا ہے۔ ہم پاکستان میں تو شاید پانامہ میں پھنسے ہوئے ہیں جس کا عام آدمی کی زندگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے پاناما اس کی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں۔ تا ہم بھارت میں مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ختم کر کے عام آدمی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
نریندر مودی نے بڑے نوٹ ختم تو اس کوشش میں کیے تھے کہ اس سے ان کو بے حد پذیرائی ملے گی۔بھارت کے سب سے بڑے صوبہ یو پی اور پنجاب کے انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اب تک کے انتخابی سروے کے مطابق مودی اور ان کے اتحادی پنجاب میں ہار رہے ہیں۔ جب کہ وہ یو پی ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یو پی سے لوک سبھا کی اسی نشستیں ہیں جن میں سے گزشتہ انتخاب میں مودی نے 73 جیتی تھیں۔ لیکن اس بار صورتحال ایسی نہیں لگ رہی تھی کہ مودی دوبارہ یو پی سے جیت سکتے۔ ایسے میں وہ کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے تاکہ یو پی کا انتخاب جیتا جا سکے۔ مگر معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اب نریندر مودی ایک بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ وہ ایسی بند گلی میں پھنس گئے ہیں جہاں انھیں اپنے عوام کے غصہ کا سامنا ہے۔
ویسے تو پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی اگر بھارت کی حکومت مارکیٹ میں موجود تمام نوٹ تبدیل کرنے کا اعلان کر دیتی۔ لیکن مودی نے ایک قدغن لگا دی ہے کہ ایک بر سرروزگار عام آدمی یہ بڑے نوٹ صرف دو لاکھ اور ایک گھریلو خاتون صرف اڑھائی لاکھ کے یہ نوٹ اب اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا سکتی ہے، یا تبدیل کروا سکتی ہے۔ اگر کوئی اس مقررہ حد سے زائد نوٹ تبدیل کروائے گا تواس پر بھاری جرمانہ عائد ہو گا۔ گویا مودی کی حکومت نے یہ ڈیکلیئر کر دیا ہے جس کے پاس بھی دو لاکھ سے زائد بڑے نوٹ کیش ہیں وہ بلیک منی ہے۔
اس صورتحال نے بھارت میں یک دم کہرام مچا دیا ہے۔ لوگ پریشان ہیں اور ہر کوئی بینک کا رخ کر رہا ہے۔ بینکوں کے باہر اتنی لمبی لائنیں ہیں کہ لوگ ساری ساری رات بینک اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ ایک بھارتی صحافی کے مطابق بھارت میں گھر میں کیش رکھنے کا بہت رحجان ہے۔ اسی طرح دکاندار، کسان اور رئیل اسٹیٹ کے لوگ بھی کیش میں ہی کاروبار کرتے ہیں۔
دہلی کے ایک چھوٹے بلڈر کے پاس ستائیس کروڑ نقد بڑے نوٹوں کی شکل میں موجود ہیں جو وہ تبدیل نہیں کروا پا رہا۔ اس طرح کی ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔ غرض کہ مودی کے اس فیصلے سے پتہ نہیں کرپشن ختم ہو گی یا نہیں، دہشت گردی ختم ہو گی کہ نہیں۔ لیکن فی الحال بھارت کا چھوٹا کاروباری اور تنخواہ دار طبقہ مر گیا ہے۔ کیونکہ تنخواہ دار کے پاس بھی دو لاکھ سے زیادہ نقد موجود ہونا عام بات ہے۔
اس لیے مودی اس وقت اپنے ملک میں شدید دباؤ میں ہیں۔ پوری اپوزیشن ان کو دیوار سے لگا رہی ہے بلکہ ان کی اتحادی آر ایس ایس بھی ان کے خلاف ہو گئی ہے۔ ایسے میں مودی کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت دراصل ملک میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔ اس سے پہلے وہ سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے میں ایک کوشش کر چکے ہیں لیکن ناکام ہو گئے تھے۔ اس لیے اس بار کوئی ڈرامہ نہ کرنے کا فیصلہ کر کے کئی سال بعد لائن آف کنٹرول پر آرٹلری کو استعمال کیا گیا ہے۔
یہ مودی کا انداز حکومت ہے کہ وہ جب بھی اندرونی طور پر مشکل میں ہوتے ہیں پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا انھوں نے بہار کے انتخابات کے دوران بھی کیا تھا لیکن وہ بہار کا انتخاب بھی ہار گئے تھے حالانکہ وہ بہار کے انتخابی جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے، کیا میں کوئی پاکستان کا وزیر اعظم ہوں جو بہار کے لوگ مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔
ان کی یہ چال اب بھارت میں سب سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے وہ یو پی کے انتخاب میں یہ چال نہیں کھیلنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے بڑے نوٹ ختم کرنے کا قدم اٹھایا تا کہ وہ یو پی کا انتخاب جیت سکیں جو الٹ گیا۔ اور انھیں واپس پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول گرم کرنے کے پرانے ہتھکنڈے کی طرف آنا پڑے گا۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف خیر پور ٹامی والے میں جنگی مشقوں میں اکٹھے نظر آئے۔ جس سے بھارت کو یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان اور اس کی فوج ہر دم کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی اور ان کے رفقا یہ مانتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی سے بھارت کی اندرونی سیاست میں انھیں فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک محفوظ چال بھی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاک بھارت جنگ کا کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔
شائد کہیں نہ کہیں بھارتی اسٹبلشمنٹ یہ یقین کر بیٹھی ہے کہ پاکستان اس وقت جنگ کے موڈ میں نہیں۔ پاکستان اندرونی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر کام ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم پانامہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جنگ نہیں چھیڑ سکتا ۔ اسی لیے مودی چھیڑ چھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن شائد مودی یہ نہیں سمجھ رہے کہ اب بھارت ان کی اس مذموم چال کو سمجھ چکا ہے اور ان کے لیے شائد بھارت کے عوام کو مزید بیوقوف بنانا ممکن نہ ہو۔ پاکستان کے جو سات جوان شہید ہوئے بھارت کی حکومت نے اس کی خبر پورے میڈیا میں خود چلوائی۔ اس کو مودی کی فتح کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کرنسی بحران نے مودی کی جان نہیں چھوڑی ہے۔
مودی پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے بڑے نوٹ ختم کرنے سے پہلے اپنے بڑے کاروباری دوستوں کو بتا دیا تھا اور انھوں نے اپنی کرنسی ٹھکانے لگا دی تھی۔ اس طرح مودی بھارت میں پوری طرح پھنس چکے ہیں۔ اور شائد اس بار لائن آف کنٹرول کی گرما گرمی بھی انھیں نہیں بچا سکے گی۔ ان کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بس یہی حقیقت ہے۔
لیکن اب کیا ہوا ہے کہ بھارت نے کئی سال بعد لائن آف کنٹرول پر آرٹیلری کا استعمال شروع کیا ہے۔ پاکستان کے سات فوجیوں کو شہید کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے میں نے بھارت میں اپنے کئی دوست صحافیوں سے رابطہ کیا ہے۔ ان سے بات سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ بھارت میں کیا چل رہا ہے۔ ہم پاکستان میں تو شاید پانامہ میں پھنسے ہوئے ہیں جس کا عام آدمی کی زندگی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے پاناما اس کی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں۔ تا ہم بھارت میں مودی نے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ختم کر کے عام آدمی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔
نریندر مودی نے بڑے نوٹ ختم تو اس کوشش میں کیے تھے کہ اس سے ان کو بے حد پذیرائی ملے گی۔بھارت کے سب سے بڑے صوبہ یو پی اور پنجاب کے انتخابات قریب آرہے ہیں۔ اب تک کے انتخابی سروے کے مطابق مودی اور ان کے اتحادی پنجاب میں ہار رہے ہیں۔ جب کہ وہ یو پی ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یو پی سے لوک سبھا کی اسی نشستیں ہیں جن میں سے گزشتہ انتخاب میں مودی نے 73 جیتی تھیں۔ لیکن اس بار صورتحال ایسی نہیں لگ رہی تھی کہ مودی دوبارہ یو پی سے جیت سکتے۔ ایسے میں وہ کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے تاکہ یو پی کا انتخاب جیتا جا سکے۔ مگر معاملہ الٹ ہو گیا ہے۔ اب نریندر مودی ایک بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ وہ ایسی بند گلی میں پھنس گئے ہیں جہاں انھیں اپنے عوام کے غصہ کا سامنا ہے۔
ویسے تو پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ ختم کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی اگر بھارت کی حکومت مارکیٹ میں موجود تمام نوٹ تبدیل کرنے کا اعلان کر دیتی۔ لیکن مودی نے ایک قدغن لگا دی ہے کہ ایک بر سرروزگار عام آدمی یہ بڑے نوٹ صرف دو لاکھ اور ایک گھریلو خاتون صرف اڑھائی لاکھ کے یہ نوٹ اب اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروا سکتی ہے، یا تبدیل کروا سکتی ہے۔ اگر کوئی اس مقررہ حد سے زائد نوٹ تبدیل کروائے گا تواس پر بھاری جرمانہ عائد ہو گا۔ گویا مودی کی حکومت نے یہ ڈیکلیئر کر دیا ہے جس کے پاس بھی دو لاکھ سے زائد بڑے نوٹ کیش ہیں وہ بلیک منی ہے۔
اس صورتحال نے بھارت میں یک دم کہرام مچا دیا ہے۔ لوگ پریشان ہیں اور ہر کوئی بینک کا رخ کر رہا ہے۔ بینکوں کے باہر اتنی لمبی لائنیں ہیں کہ لوگ ساری ساری رات بینک اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ ایک بھارتی صحافی کے مطابق بھارت میں گھر میں کیش رکھنے کا بہت رحجان ہے۔ اسی طرح دکاندار، کسان اور رئیل اسٹیٹ کے لوگ بھی کیش میں ہی کاروبار کرتے ہیں۔
دہلی کے ایک چھوٹے بلڈر کے پاس ستائیس کروڑ نقد بڑے نوٹوں کی شکل میں موجود ہیں جو وہ تبدیل نہیں کروا پا رہا۔ اس طرح کی ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔ غرض کہ مودی کے اس فیصلے سے پتہ نہیں کرپشن ختم ہو گی یا نہیں، دہشت گردی ختم ہو گی کہ نہیں۔ لیکن فی الحال بھارت کا چھوٹا کاروباری اور تنخواہ دار طبقہ مر گیا ہے۔ کیونکہ تنخواہ دار کے پاس بھی دو لاکھ سے زیادہ نقد موجود ہونا عام بات ہے۔
اس لیے مودی اس وقت اپنے ملک میں شدید دباؤ میں ہیں۔ پوری اپوزیشن ان کو دیوار سے لگا رہی ہے بلکہ ان کی اتحادی آر ایس ایس بھی ان کے خلاف ہو گئی ہے۔ ایسے میں مودی کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحیت دراصل ملک میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش ہے۔ اس سے پہلے وہ سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے میں ایک کوشش کر چکے ہیں لیکن ناکام ہو گئے تھے۔ اس لیے اس بار کوئی ڈرامہ نہ کرنے کا فیصلہ کر کے کئی سال بعد لائن آف کنٹرول پر آرٹلری کو استعمال کیا گیا ہے۔
یہ مودی کا انداز حکومت ہے کہ وہ جب بھی اندرونی طور پر مشکل میں ہوتے ہیں پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر چھیڑ چھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا انھوں نے بہار کے انتخابات کے دوران بھی کیا تھا لیکن وہ بہار کا انتخاب بھی ہار گئے تھے حالانکہ وہ بہار کے انتخابی جلسوں میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے بھی سنے گئے، کیا میں کوئی پاکستان کا وزیر اعظم ہوں جو بہار کے لوگ مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔
ان کی یہ چال اب بھارت میں سب سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے وہ یو پی کے انتخاب میں یہ چال نہیں کھیلنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے بڑے نوٹ ختم کرنے کا قدم اٹھایا تا کہ وہ یو پی کا انتخاب جیت سکیں جو الٹ گیا۔ اور انھیں واپس پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول گرم کرنے کے پرانے ہتھکنڈے کی طرف آنا پڑے گا۔
وزیر اعظم میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف خیر پور ٹامی والے میں جنگی مشقوں میں اکٹھے نظر آئے۔ جس سے بھارت کو یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان اور اس کی فوج ہر دم کسی بھی قسم کی بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی اور ان کے رفقا یہ مانتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی سے بھارت کی اندرونی سیاست میں انھیں فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک محفوظ چال بھی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پاک بھارت جنگ کا کوئی بھی خطرہ نہیں ہے۔
شائد کہیں نہ کہیں بھارتی اسٹبلشمنٹ یہ یقین کر بیٹھی ہے کہ پاکستان اس وقت جنگ کے موڈ میں نہیں۔ پاکستان اندرونی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر کام ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم پانامہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جنگ نہیں چھیڑ سکتا ۔ اسی لیے مودی چھیڑ چھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لیکن شائد مودی یہ نہیں سمجھ رہے کہ اب بھارت ان کی اس مذموم چال کو سمجھ چکا ہے اور ان کے لیے شائد بھارت کے عوام کو مزید بیوقوف بنانا ممکن نہ ہو۔ پاکستان کے جو سات جوان شہید ہوئے بھارت کی حکومت نے اس کی خبر پورے میڈیا میں خود چلوائی۔ اس کو مودی کی فتح کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کرنسی بحران نے مودی کی جان نہیں چھوڑی ہے۔
مودی پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے بڑے نوٹ ختم کرنے سے پہلے اپنے بڑے کاروباری دوستوں کو بتا دیا تھا اور انھوں نے اپنی کرنسی ٹھکانے لگا دی تھی۔ اس طرح مودی بھارت میں پوری طرح پھنس چکے ہیں۔ اور شائد اس بار لائن آف کنٹرول کی گرما گرمی بھی انھیں نہیں بچا سکے گی۔ ان کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بس یہی حقیقت ہے۔