بایاں بازو اور میڈیا

ملک میں عوامی اورایشوز کی سیاست ناپید ہوگئی ہے


Zaheer Akhter Bedari November 17, 2016
[email protected]

پچھلے دنوں کراچی میں پاکستان ورکرز پارٹی کی کانگریس ہوئی،کانگریس کے آخری دن آرٹس کونسل میں ایک اوپن سیشن ہوا جس میں ملک بھر کے مندوبین نے شرکت کی۔ ایک طویل عرصے بعد بائیں بازوکا ایک ایسا بڑا اجتماع ہوا جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ فاٹا اورگلگت بلتستان کے چارسو مندوبین نے شرکت کی۔

میں الیکٹرانک میڈیا پراس بڑے اجتماع کی کوریج کا انتظارکرتا رہا لیکن مجھے سخت مایوسی ہوئی کہ میڈیا نے اتنے بڑے اجتماع کو کوئی اہمیت نہیں دی، ہوسکتا ہے، ورکرز پارٹی کے منتظمین کی بھی اس میں کوتاہی رہی ہو لیکن جو میڈیا ایک معمولی واقعہ کو اتنی کوریج دیتا ہوکہ ملک کا بچہ بچہ اس کے نام، اس کے کام سے واقف ہوجائے منفی اور نان ایشوز کی سیاست کرنے والے مسخروں کی معمولی معمولی سرگرمیوں کو ہائی لائٹ کرتا ہو ہماری بادشاہتوںکے شہزادوں، شہزادیوں کے نزلے زکام کی خبریں دیتا ہو اس میڈیا نے ملک کی سیاست کے اصل عناصرکی اتنی بڑی تقریب کو نو لفٹ کراتا ہو تو اس رویے کو کیا نام دیا جائے؟

پاکستان آج جس قسم کے سیاسی اورمعاشی بحرانوں میں سر سے پاؤں تک گھرا ہوا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں عوامی اورایشوز کی سیاست ناپید ہوگئی ہے، نان ایشوز اور منفی سیاست کا دور دورہ ہے۔ مالدار سیاسی پارٹیاں محض اپنے جلسوں جلوسوں کی پبلسٹی پر کروڑوں روپے لگادیتی ہیں جب کہ ان جلسوں جلوسوں کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ایسا میڈیا اگر عوامی سیاست کرنے والی جماعتوں کی بڑی بڑی سرگرمیوں کو نظر اندازکرے تو اس ملک کے مستقبل کا اﷲ ہی حافظ ہوسکتا ہے میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کی رسائی اب ملک کے چپے چپے تک ہوچکی ہے جس کا عوام کی سوچ پر منفی یا مثبت اثر مرتب ہوتا ہے ہماری میڈیا انڈسٹری کے تھنکراس حقیقت سے ضرور واقف ہوںگے۔

آج ہمارا ملک جس ناقابل بیان سیاسی افراتفری کا شکار ہے اس کی بڑی وجہ نان ایشوزکی سیاست کرنے والی جماعتوں کی رقابتیں ہیں، اقتدار پرگرفت مضبوط کرنے اور حصول اقتدارکی اندھی خواہشوں نے اس ملک کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کردیا ہے۔ ایسی گمبھیر صورت حال میں مثبت اور عوامی سیاست کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہ کرنا اور ملک کے عوام تک مثبت سیاسی سرگرمیوں کو نہ پہنچانا ایک ایسا قومی جرم ہے جس کے منفی اثرات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، اس ملک کے عوام کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

ایسے نازک موقعے پر میڈیا کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ نان ایشوزکی سیاست کو آسمان پر پہنچانے کے بجائے عوامی سیاست کرنے والی طاقتوں کو عوام میں متعارف کرائے جب تک عوام مثبت اورعوامی سیاست کرنے والوں کے منشور سے ناواقف رہیںگے، نان ایشوز کی سیاست کرنے والوں کا بول بالا ہوگا۔

پاکستان کی سیاست میں بائیں بازوکا ایک اہم کردار رہا ہے، ملکی سیاست میں جب تک عوامی سیاست کرنے والے فعال تھے ملک بھر میں ایک جاگرتی موجود تھی عوامی مثبت سیاست میں بھرپور حصہ لیتے تھے لیکن جب سے ہیرو سیاست کا سلسلہ چل پڑا ہے اور سرکاری خزانے سے یا لوٹ مار کے بھاری سرمائے سے پبلسٹی کی سیاست کا آغاز ہوا ہے عوام مس گائیڈ بھی ہو رہے ہیں اور سیاست شدید محاذ آرائی کا اکھاڑہ بنی ہوئی ہے، اخبارات کے صفحات اشرافیہ کے خاندانوں کی پروپیگنڈا مہم سے بھرے ہوئے ہیں۔

عوام کی محنت کی کمائی کا اربوں روپے پروپیگنڈا مہموں پر لگایا جا رہا ہے اور ملک میں بادشاہی نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہاہے کہ عوامی نفسیات اس عوام دشمن سیاسی کلچر سے منفی انداز میں متاثر ہورہی ہے اور عوامی سیاست کرنے والے گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے ہیں۔

کراچی میں پاکستان ورکرز پارٹی کی کانگریس کو ایک بڑی اور منظم سیاسی سرگرمی کہا جاسکتا ہے لیکن انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ اس بد بختی کا ذکر بھی کرنا پڑتا ہے کہ بایاں بازو اپنی نااہل اور نظریاتی بے لگامی کی وجہ سے کئی دھڑوں میں بٹا ہوا ہے، اگرچہ روس اور سابق سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ اور نظریاتی غلامی کے بعد دنیا میں نظریاتی تقسیم بے جواز ہوکر رہ گئی ہے لیکن پاکستان کے نظریاتی مجاور ابھی دھڑے بندیوں کے مزارکے مجاور بنے ہوئے ہیں اور پاکستان میں تو نظریاتی دھڑے بندیاں ایک احمقانہ اپروچ کے علاوہ کچھ نہیں اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ اگر یہ بے جواز دھڑے بندیاں ختم ہوجائیں اور بایاں بازو متحد ہوجائے تو بلاشبہ وہ اس ملک کی سب سے بڑی اور مثبت سیاسی طاقت بن سکتا ہے لیکن نام نہاد ترقی پسندوں کے ذاتی گروہی اور جماعتی مفادات انھیں ایک مرکز پر جمع ہونے کی راہ میں حائل ہوتے رہے ہیں۔

جن لوگوں نے ماضی قریب میں بائیں بازوکی دھڑے بندیوں کو ختم کرانے کی مخلصانہ کوششیں کیں ان میں ہم بھی بہت فعال طریقے سے شامل رہے لیکن دھڑوں کے مالکان نے ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ایسے نظریاتی مجرم اپنے ضمیرکی عدالت میں تو سرنگوں رہیں گے ہی لیکن وہ جس جرم کا ارتکاب کررہے ہیں اس کے لیے آنے والی نسلیں انھیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

ہمارا ملک جس جگہ کھڑا ہے وہ ماضی کے مزاروں کی جگہ ہے اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اشرافیائی فراڈ جمہوریت کی جگہ عوامی جمہوریت کی بحالی، جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، انتخابی اصلاحات اور 69 سالہ ''اسٹیٹس کو'' کو توڑنا ہے اور اس کام میں کسی حوالے سے بھی نظریاتی تقسیم کا کوئی جواز نہیں رہتا اگر پاکستان ورکرز پارٹی کانگریس کے ساتھ ساتھ عوامی سیاست رابطہ مہم پر چلے تو حالات تبدیل ہوسکتے ہیں۔

مقبول خبریں