ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا قومی نفسیاتی مرض بن گئے

اگر ’’ٹرمپ ڈس آرڈر‘‘ کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو امریکا میں عوامی نفسیات کی حالت مزید ابتر ہوسکتی ہے۔

اگر ’’ٹرمپ ڈس آرڈر‘‘ کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو امریکا میں عوامی نفسیات کی حالت مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے متنازع فیصلوں اور متعصبانہ بیانات کی وجہ سے ہر روز طرح طرح کی تنقید اور مذاق کا سامنا رہتا ہے لیکن اب ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اپنی ان ہی حرکتوں کی بناء پر پوری امریکی قوم کے لیے نفسیاتی مرض بن چکے ہیں۔

مسلسل اعصابی تناؤ، بے یقینی، بے چینی اور ان جیسی دیگر کیفیات کو ماہرین نے مجموعی طور پر ''ٹرمپ ڈس آرڈر'' (ٹرمپ کی بیماری) کا نام دیا ہے کیونکہ یہ تمام باتیں براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، اعلانات، بیانات اور ردِعمل کا نتیجہ ہیں۔

ہاورڈ یونیورسٹی میں ماہرینِ نفسیات کی ایک ٹیم کا تحقیقی مقالہ ''نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن'' کے تازہ شمارے میں شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکا میں قومی سطح پر اعصابی تناؤ، بے چینی اور بے یقینی وغیرہ جیسی نفسیاتی کیفیات کے نتیجے میں بیمار پڑنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی بنیاد پر خود ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کو ''امریکی قوم کےلیے ایک نفسیاتی بیماری کی مانند'' قرار دیا جاسکتا ہے۔

سماجی حلقوں میں ''پریزیڈنٹ ٹرمپ اسٹریس ڈس آرڈر'' یا مختصراً ''پی ٹی ایس ڈی'' (PTSD) بڑی تیزی سے ایک قومی امریکی بیماری کے طور پر پہلے ہی خاصی مشہور تھی جسے اب ماہرین نے بھی تصدیق کی سند عطا کر دی ہے۔


تازہ تحقیق میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت میں عوامی نفسیات پر پڑنے والے اثرات صرف شدید ہی نہیں بلکہ دور رس بھی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہونے کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں جبکہ بچوں کی قبل از وقت پیدائش اور ناگہانی اموات کے خدشات ان کے علاوہ ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج اور پالیسیوں کے اثرات صرف ان کے سیاسی مخالفین ہی پر مرتب نہیں ہو رہے بلکہ ان کے حامی بھی ان سے متاثر ہو رہے ہیں البتہ وہ ٹرمپ کی حمایت میں شدید ہیجان خیزی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اگرچہ انتخابات کا انعقاد اور صدور کی تعیناتی امریکا میں معمول کا حصہ ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی صدر کے انتخاب پر انواع و اقسام کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی اثرات تک وسیع پیمانے پر مشاہدے میں آئے ہیں۔

تحقیقی مقالے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ''ٹرمپ ڈس آرڈر'' کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو امریکا میں عوامی نفسیات کی حالت مزید ابتر ہوسکتی ہے۔
Load Next Story