نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج ہوگا
نئے وزیراعظم کے لیے 4 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔
نئے وزیراعظم کے لیے 4 امیدوار میدان میں رہ گئے۔ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہوگا جس میں نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہو گا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والی اجلاس میں قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ ہو گی۔
حکومت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے جب کہ حکومت کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ نیا وزیر اعظم کون ہوگا، 6 امیدوار میدان میں
پیپلزپارٹی کی جانب سے سید نوید قمر کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دیگر امیدواران میں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا نام دیا گیا ہے جس کو (ق) لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی پہلے کشور زہرا کو اپنی امیدوار کے طور پر کھڑا کیا تھا لیکن بعد میں انہیں شاہد خاقان عباسی کے حق میں بٹھادیا گیا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ اپوزیشن جماعتیں وزارت عظمیٰ کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے میں ناکام
واضح رہے قومی اسمبلی میں 342 کے ایوان میں وزارت عظمی کا انتخاب جیتنے کے لیے سادہ اکثریت یعنی کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت ہو گی جب کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس 188 ووٹ ہیں اور ںہیں اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے، جب کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ بھی تقسیم ہوں گے۔
پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی اور پیپلز پارٹی اپنےامیدوار کے ساتھ وزیراعظم کا انتخاب لڑے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہو گا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والی اجلاس میں قائد ایوان منتخب کرنے کے لیے ووٹنگ ہو گی۔
حکومت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے جب کہ حکومت کو جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ نیا وزیر اعظم کون ہوگا، 6 امیدوار میدان میں
پیپلزپارٹی کی جانب سے سید نوید قمر کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دیگر امیدواران میں جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی جانب سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا نام دیا گیا ہے جس کو (ق) لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی پہلے کشور زہرا کو اپنی امیدوار کے طور پر کھڑا کیا تھا لیکن بعد میں انہیں شاہد خاقان عباسی کے حق میں بٹھادیا گیا۔
اس خبر کو بھی پڑھیں؛ اپوزیشن جماعتیں وزارت عظمیٰ کا متفقہ امیدوار نامزد کرنے میں ناکام
واضح رہے قومی اسمبلی میں 342 کے ایوان میں وزارت عظمی کا انتخاب جیتنے کے لیے سادہ اکثریت یعنی کم از کم 172 ووٹوں کی ضرورت ہو گی جب کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس 188 ووٹ ہیں اور ںہیں اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی حاصل ہے، جب کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ بھی تقسیم ہوں گے۔
پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت نہیں کی جائے گی اور پیپلز پارٹی اپنےامیدوار کے ساتھ وزیراعظم کا انتخاب لڑے گی۔