ابہام، اندیشوں، خدشات کی گرد سے اَٹے انتخابات

ندیم سبحان میو  ہفتہ 14 جولائ 2018
نئی سیاسی قوتوں کا ظہور،کراچی خوف سے آزاد، حلقوں میں تبدیلی، الیکشن 2018 کے منفرد پہلو۔ فوٹو: فائل

نئی سیاسی قوتوں کا ظہور،کراچی خوف سے آزاد، حلقوں میں تبدیلی، الیکشن 2018 کے منفرد پہلو۔ فوٹو: فائل

فیصلے آرہے ہیں، فرامین جاری ہو رہے ہیں، بتایا جارہا ہے کہ ہوا کی سمت اور رفتار کیا ہو گی، دریا کس رُخ پر بہے گا، گُل ستاں میں کس رنگ کے پھول کھلیں گے۔ اس کے باوجود انتخابی فضا ابہام، اندیشوں اور خدشات سے بھری ہوئی ہے۔

بے یقینی کا عالم ہے جس میں عوام کو چناؤ کی جانب ’’دھکیلا‘‘ جارہا ہے۔ ہر روز نیا ہنگامہ، ایک تماشا دیکھنے کو ملتا ہے۔ سیاسی قوتوں اور جمہوری عمل سے متعلق تجزیے اور تبصرے لاحاصل بلکہ ایک بھونڈی مشق معلوم ہورہے ہیں۔ 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات پر نظر ڈالیں تو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچنے والی جمہوری قوتوں کو بھرپور عوامی تائید حاصل تھی، مگر اس بار سیاسی قوتیں مشکل اور پیچیدہ صورتِ حال کا سامنا کررہی ہیں۔

انتخابات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے اقدامات، احکامات اور فیصلوں کے ساتھ سیاسی ماحول کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے تو کئی سوال ہمارے سامنے ہوں گے۔ اس بار خصوصاً پچھلے دو انتخابات کے برعکس مختلف سیاسی فضا اور انتخابی ماحول نظر آرہا ہے۔ اب تک کی صورتِ حال پر نظر ڈالیں تو گزشتہ انتخابات کے برعکس اس بار کچھ نئے پہلو ہمارے سامنے ہیں مثلاً سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں عدلیہ کی جانب سے گیارہ سال کی سزا سنائی جاچکی ہے، یوں ان کا سیاسی کیریئر بہ ظاہر ختم ہوچکا ہے۔

فضا میں قبل ازانتخاب دھاندلی کی گونج بھی سنائی دے رہی ہے۔ کراچی کی سیاسی فضا میں تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ کئی نئی سیاسی جماعتیں اور سیاسی اتحاد وجود میں آچکے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔ یوں انتخابات کی فضا میں عدلیہ پوری طرح سرگرم ہے۔ ذیل کی سطور میں کچھ ایسے ہی نئے پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

عدلیہ کی فعالیت

موجودہ انتخابات کے دوران عدلیہ جتنی فعال ہے، گذشتہ انتخابات میں کبھی نہیں رہی۔ عدلیہ سے سیاست دانوں کو سزائیں مل رہی ہیں، انھیں نااہل کیا جارہا ہے، لیکن تأثر یہ مل رہا ہے کہ منصفوں کی توجہ صرف ایک سیاسی جماعت پر مرکوز ہے۔ پاناما لیکس کا پنڈورا باکس کھلنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق صدر اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے خلاف معاملہ بالآخر عدالت میں پہنچا اور انھیں کرپشن کے بجائے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کے الزام کے تحت نااہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے محروم کردیا گیا۔ بعدازاں نااہلی کی مدت کے معاملے پر عدالتی فیصلے کے بعد وہ تاحیات نااہل قرار پائے اور پھر ایک اور فیصلے کے بعد انھیں پارٹی کی صدارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

حال ہی میں احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں گیارہ سال کی سزا اور اسّی لاکھ پاؤنڈ جرمانے کے بعد میاں نوازشریف کا سیاسی سفر بہ ظاہر ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ اس کیس میں بھی نوازشریف پر کرپشن ثابت نہیں ہوسکی بلکہ انھیں آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ثابت ہونے پر یہ سزا سنائی گئی۔ نوازشریف کے ساتھ ان کی صاحب زادی مریم اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی بالترتیب آٹھ اور ایک سال قید کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ عدالت سے سزا پانے کے بعد مریم نواز انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل ہوگئیں۔ یوں مریم، جنھیں نوازشریف کا جانشین قرار دیا جارہا تھا، کا سیاسی کیریئر شروع ہونے سے قبل ہی ختم ہوگیا۔

سپریم کورٹ نے اٹھائیس جون 2018ء کو، مسلم لیگ (ن) کے راہ نما اور سابق وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز کو، جو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 نارووال سے کاغذات نام زدگی جمع کراچکے تھے، توہین عدالت کے جُرم میں عدالت کے برخاست ہونے تک کی سزا سُنائی جس کے نتیجے میں وہ پانچ برس کے لیے نااہل ہوگئے۔ قبل ازیں فروری میں سینیٹر نہال ہاشمی بھی سپریم کورٹ سے توہین عدالت کی سزا پاکر پانچ سال کے لیے نااہل ہوچکے ہیں۔ گیارہ جولائی کو مسلم لیگ (ن) کے ایک اور راہ نما طلال چوہدری کے خلاف بھی توہین عدالت کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ملکی منظرنامے پر پاناما اسکینڈل کا حوالہ صرف نوازشریف کا نام بن گیا جب کہ پانامالیکس میں 259 پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ نوازشریف کے علاوہ باقی 258 پاکستانیوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟ اس بارے میں پوری قوم اندھیرے میں ہے۔ میاں نوازشریف کرپشن ثابت نہ ہونے کے باوجود عدالت سے سزا پاگئے اور ان کے برادرِصغیر شہبازشریف جنھیں مسلم لیگ (ن) کا صدر چُنا گیا انتخابی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ صاف پانی کمپنی اور پنجاب پاور ڈیولپمنٹ کمپنی کرپشن کیسز میں نیب کی پیشیاں بھگتا رہے ہیں۔

اب ذرا تصویر کے دوسرے رُخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف ایف آئی اے نے حال ہی میں منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ مبصرین عین انتخابات کے موقع پر آصف علی زرداری کے خلاف تحقیقات کے آغاز پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین کے خلاف تحقیقات کے آغاز کی ٹائمنگ معنی خیز ہے۔ نوازشریف انتخابی عمل سے باہر ہوچکے ہیں، ایسے میں آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کی شروعات کا مقصد کہیں انتخابات میں تیسری پارٹی (پی ٹی آئی) کو فائدہ پہنچانا تو نہیں؟

مبصرین کے مطابق ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ پچھلے تین چار برسوں کے دوران کرپشن کے خلاف عدلیہ کی فعالیت بہ ظاہر ن لیگ کے راہ نماؤں تک محدود رہی ہے۔ سرے محل سے لے کر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے کروڑوں ڈالرز تک، کرپشن کے کتنے ہی معاملات پی پی پی سے جُڑے ہیں مگر بیشتر کیسز پر گَرد کی دبیز تہہ جم چکی ہے۔ آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم کے خلاف اربوں روپے کرپشن کے مقدمے کی کارروائی سست روی سے جاری ہے۔ کچھ یہی حال ماڈل گرل ایان علی کے خلاف کرنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا ہے۔ ایان علی سپریم کورٹ کی جانب سے نام ای سی ایل سے نکلوائے جانے کے بعد ڈیڑھ سال سے بیرون ملک مقیم ہے۔

ہر پیشی پر اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کردیا جاتا ہے۔ ایان علی کے مقدمے میں کسٹمز اپلیٹ ٹربینولز نے ماڈل سے برآمد ہونے والی کرنسی قبضے میں لینے اور پانچ کروڑ روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا، تاہم کیا ایان علی سے کسی نے یہ پوچھنے کی جرأت کی کہ پانچ لاکھ ڈالر کی رقم اس کے پاس کہاں سے آئی؟ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس پر ازخود نوٹس کی سماعت دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ دونوں کو الیکشن ہونے تک طلب نہ کیا جائے۔ دوسری طرف احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے کی نوازشریف کی درخواست رد کردی تھی۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اس سے یہ تأثر قوی ہوتا ہے کہ پی پی پی کے ساتھ ’ہتھ ہولا‘ رکھا جارہا ہے۔

ایک عام تأثر یہ بھی ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنا دائرہ کار وسیع کرلیا ہے اور وہ انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کرنے لگی ہے۔ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا چیف جسٹس کا کام اسپتالوں کے دورے اور عملے کی سرزنش کرنا رہ گیا ہے؟ چیف جسٹس صاحب کی تقاریر، بیانات اور عدالتی آبزرویشنز سے تأثر ملتا ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ، جس میں ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، ملک کے سیاسی اور سماجی نظام کو تبدیل کرکے رکھ دینا چاہتے ہیں، پورے ریاستی ڈھانچے کے اندر انقلابی تبدیلیاں لانے کے شدت کے ساتھ متمنی ہیں۔ یقیناً ان کی نیت خالص اور ارادہ نیک ہے تاہم ان کے اقدامات سے انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کا تأثر مل رہا ہے۔

دوسری طرف ماتحت عدلیہ میں فراہمی انصاف کا حال سبھی کے سامنے ہے۔ رشوت ستانی کا بازار گرم ہے۔ سفارشیں چلتی ہیں۔ دادا کے زمانے میں دائرہ کردہ مقدمے کی پیشیاں پوتا بھگتا رہا ہوتا ہے۔ اگر عزت مآب چیف جسٹس حکومتی امور پر متوجہ ہونے کے بجائے ماتحت عدالتی نظام کی ناگفتہ بہ صورت حال کو درست کرنے پر توجہ مرکوز کردیں تو اتنا بڑا انقلاب آسکتا ہے کہ عوام انھیں مدتوں یاد رکھیں گے۔

فوج پر ’’انجنیئرڈ الیکشن‘‘ کے الزامات

انتخابات کے بعد شکست خوردہ جماعتوں کا دھاندلی کے الزامات عائد کرنا پاکستان کی روایت رہی ہے۔ 2008ء اور بالخصوص 2013ء کے انتخابات کے بعد بھی یہی کچھ ہوا۔ تاہم موجودہ انتخابات اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ ان کے انعقاد سے قبل ہی دھاندلی کا شور سنائی دے رہا ہے۔ سابق حکم راں جماعت کے راہ نما مسلسل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انتخابات میں حسب منشا نتائج حاصل کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔

قبل ازانتخابات دھاندلی کا شور اتنا بڑھ گیا ہے کہ موجودہ الیکشن کے لیے ’’انجنیئرڈ الیکشن‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔ ن لیگ کے راہ نما کہتے ہیں ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے لیے وہ کبھی براہ راست اور کبھی بالواسطہ طور پر فوج کو موردالزام ٹھہراتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاناما لیکس سے لے کر نوازشریف کی نااہلی اور پھر احتساب عدالت سے سزا ہونے تک سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نوازشریف نے وطن واپسی سے ایک روز قبل بیان دیا کہ ہمیں سزائیں دینے کا فیصلہ کہیں اور ہوچکا تھا جسے پانچ بار تبدیل کرکے سنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات پر اربوں روپے ضایع کرنے کے بجائے اقتدار کی کرسی پر جس لاڈلے کو بٹھانا ہے بٹھا دو۔

مبصرین کہتے ہیں اگر سیاسی منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کے یہ دعوے بے جان دکھائی نہیں دیتے کہ انتخابات میں ن لیگ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سابق حکومت کے آخری ایام میں ن لیگ کے کتنے ہی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی پارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوگئے یا پھر آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب سے بہ یک وقت قومی اسمبلی کے چھے اور صوبائی اسمبلی کے دو امیدواروں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ یہ تمام اراکین اب آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ سب کو جیپ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں یہی انتخابی نشان ن لیگ سے راہیں جُدا کرنے والے نوازشریف کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار علی خان کو الاٹ کیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق ن لیگ سے منھ موڑنے والے اراکین نے ہوا کا رُخ دیکھ کر راستہ بدلا ہے۔ جو لیگی اراکین ڈٹے ہوئے ہیں انھیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مثال کے طور پر چوہدری نثار کے مقابل ن لیگ کے امیدوار قمرالاسلام کو نیب نے صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں گرفتار کرلیا۔ اسی طرح جنوبی پنجاب سے لیگی امیدوار رانا اقبال سراج کے ساتھ مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا۔ ایک ویڈیو میں انھوں نے اس کا الزام حساس ادارے پر عائد کیا بعدازاں ابتدائی بیان کی تردید کردی۔

فوج پر انتخابات پر اثرانداز ہونے اور ’انجنیئرڈ الیکشن‘ کے الزامات کے تناظر میں چند روز قبل آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس بُلائی۔ انھوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت سے فوج کی وابستگی کے تأثر کو مسترد کردیا۔ انھوں نے کہا کہ افواج پاکستان کا انتخابی عمل سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، انتخابی عمل کو غیرسیاسی اور غیرجانب دار رہتے ہوئے ممکن بنائیں گے، نیز فوج کو انتخابی عمل میں بے ضابطگی ازخود دور کرنے کا اختیار نہیں، اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو فوجی اہل کار اسے الیکشن کمیشن کے نوٹس میں لائیں گے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا عوام جسے منتخب کریں گے وہی وزیراعظم فوج کو بھی قبول ہوگا۔ بعض سیاست دانوں کی جانب سے فوج کے لیے ’خلائی مخلوق‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم خلائی نہیں خدائی مخلوق ہیں۔ چوہدری نثار اور کئی دیگر سیاست دانوں کو جیپ کا انتخابی نشان الاٹ ہونے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں ہے۔

خوف اور مفادات کی زنجیر میں جکڑا ہوا میڈیا

صحافت صرف ایک پیشہ نہیں ہے بلکہ اس سے وابستہ افراد عوام الناس کو حالات سے باخبر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تشکیل بھی کرتے ہیں اور معاشرے میں ہونے والی ناانصافی اور ظلم و جبر کے چہرے سے نقاب نوچ پھینکنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ صحافی رائے عامہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دور میں سچے صحافیوں کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ سے ظلم اور جبر کی قوتیں کانپ اٹھتی تھیں۔ جمہوریت ہو یا آمریت ان صحافیوں کا قلم معاشرے کے ناسوروں پر نشتر زنی کرتا رہتا تھا۔ نہ تو مالی مفادات کے لالچ سے ان کے پائے استقلال میں لغزش آتی تھی اور نہ ہی ان کا قلم دھمکیوں سے مرعوب ہوتا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں اخبارات پر پابندیوں کے خلاف چلائی گئی تحریک پاکستان کی صحافتی تاریخ کا روشن ترین باب ہے، جب فوجی آمریت کے سامنے سینہ سپر ہونے کی پاداش میں صحافی پابندسلاسل ہوئے، انھیں کوڑے مارے گئے مگر انھوں نے آزادیٔ اظہار پر قدغن لگائے جانے کو تسلیم نہیں کیا، لیکن آج صورت حال تبدیل ہوچکی ہے۔ بیشتر مطبوعہ اور برقیاتی ذرائع ابلاغ طاقت کے سامنے سرنگوں ہوچکے ہیں اور ان سے وابستہ صحافی بھی اداروں کی پالیسی کے مطابق لکھنے اور بولنے پر مجبور ہیں۔ جس اخبار یا ٹیلی ویژن چینل نے، جن کی اب بھرمار ہے، مقتدر اداروں کے سامنے مزاحمت کی اس کے لیے حالات مشکل کردیے گئے۔ ان کے اشتہارات بند ہوگئے یا پھر ان کی نشریات بند کردی گئیں۔ اردو ذرائع ابلاغ خوف اور مفادات کی زنجیر میں مکمل طور پر جکڑے جاچکے ہیں، البتہ جزوی طور پر انگریزی میڈیا میں مزاحمت کی لہر نظر آجاتی ہے۔

صحافیوں کا مطمع نظر اب صحافت نہیں ملازمت کرنا اور معیار زندگی بہتر بنانا ہے، یہی وجہ ہے کہ صحافتی اخلاقیات اب کسی گہرے کنویں میں پڑی سسک رہی ہیں۔ اس کا اندازہ سیاسی ٹاک شوز کو دیکھ کر بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ٹاک شوز کے شرکاء میں اگر کوئی ریٹائر فوجی افسر ہو تو اس سے سوال کرتے ہوئے اینکرپرسن کا انداز عاجزانہ بلکہ فدویانہ ہوجاتا ہے، جب کہ سیاست دانوں سے بات کرتے ہوئے اس کے لہجے میں گھن گرج آجاتی ہے۔ شرکاء میں سے جس کا تعلق ’زیرعتاب‘ پارٹی سے ہو تو اس سے بات کرتے ہوئے اینکرپرسن تفتیشی افسر بن جاتا ہے۔ چناں چہ اب ذرایع ابلاغ مکمل طور پر مقتدر اداروں کے کنٹرول میں ہیں، اور انہی کی ہدایات کے مطابق رائے عامہ تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ میڈیا آج جتنا بے بس ہے اتنا ماضی میں ہونے والے کسی الیکشن کے دوران نہیں رہا۔

ایم کیو ایم کے حصے بخرے، کراچی سے خوف کی فضا کا خاتمہ

ملک کی معاشی شہ رگ کراچی پر تین عشروں تک بلاشرکت غیرے راج کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کے حصے بخرے ہوچکے ہیں۔ شہر قائد میں اس تبدیلی کا آغاز مارچ 2016ء میں ہوا جب ایم کیو ایم کے سابق راہ نما سید مصطفی کمال نے انیس قائم خانی کے ساتھ کئی برس کے بعد پاکستان واپس آکر پاک سرزمین پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا۔ جلد ہی ایم کیو ایم کے کئی اراکین اسمبلی، راہ نما اور متعدد کارکن پی ایس پی کے پرچم تلے جمع ہوگئے۔ پھر اسی برس بائیس اگست کو لندن میں تقریباً تین عشروں سے مقیم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد ایم کیوایم کی پاکستان میں مقیم قیادت نے الطاف حسین کو پارٹی کی قیادت سے ہٹا دیا، ساتھ ہی عدالت نے الطاف حسین کی تقریر اور تصویر کی نشرواشاعت پر پابندی عاید کردی اور وہ پاکستان کی سیاست سے آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد کراچی کا سیاسی منظر تیزی سے تبدیل ہوا اور ایم کیو ایم کے بطن سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے جنم لیا، جس کے قائد، الطاف حسین کے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر فاروق ستار تھے۔

ان جماعتوں کے وجود میں آنے کے بعد الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا وجود عملاً ختم ہوگیا، اور اس کے ساتھ ہی کراچی کے باسیوں کو الطاف حسین کی صورت میں شہر کی فضاؤں میں چھائی ہوئی دہشت سے بھی نجات مل گئی جس کے ایک اشارے پر شہر بند ہوجایا کرتا تھا اور لاشیں بچھا دی جاتی تھیں۔ کراچی کے باسی آئندہ عام انتخابات میں خوف سے آزاد ہوکر اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ دے سکیں گے۔ اب کوئی انھیں ان کی مرضی کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور نہیں کرسکے گا۔

ایم کیو ایم کے حصے بخرے ہونے کا اثر کراچی میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، پی پی پی، متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں ایم کیو ایم کے زیراثر علاقوں میں پُرامن طریقے سے بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ گلی گلی میں مختلف جماعتوں کے انتخابی دفاتر قائم ہوچکے ہیں، جس کا ماضی میں تصور بھی محال تھا۔ یوں کراچی کے باسی اس بار ایک نئی فضا میں حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

متحدہ مجلس عمل، گرینڈڈیموکریٹک الائنس، ملی مسلم لیگ، لبیک یا رسول اللہ کا قیام

آئندہ انتخابات کے لیے مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کا احیا ہوا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف)، جمیعت علمائے پاکستان (نورانی)، تحریک جعفریہ پاکستان، جمیعت اہل حدیث اور جماعت اسلامی کا یہ اتحاد پہلی بار 2002ء میں وجود میں آیا تھا۔ اُن انتخابات میں ایم ایم اے خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کام یاب ہوئی تھی جب کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ق) کی اتحادی تھی۔ 2008ء کے انتخابات سے قبل یہ اتحاد شریک جماعتوں کے باہمی اختلافات کے نتیجے میں ٹوٹ گیا۔ 2013ء میں بھی مذہبی جماعتیں ایم ایم اے کے احیاء پر متفق نہ ہوپائیں، تاہم اس بار یہ جماعتیں ایم ایم اے کے پرچم تلے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

متحدہ مجلس عمل کی طرح سندھ میں بھی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک سیاسی اتحاد وجود میں آیا ہے، جس کے سربراہ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگارا ہیں۔ اس اتحاد میں سندھ کی اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں، جن میں سندھ کے سابق وزرائے اعلیٰ سید غوث علی شاہ‘ ممتاز بھٹو اور ارباب غلام رحیم کے علاوہ قومی عوامی تحریک کے صدر ایازلطیف پلیجو، سابق وزیرداخلہ ڈاکٹرذوالفقار مرزا، ان کی اہلیہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، سابق ایم پی اے سردار عبدالرحیم اور سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر نمایاں ہیں۔ جی ڈے اے میں شامل بیشتر سیاست داں اپنے اپنے حلقوں سے کام یاب ہوتے رہے ہیں۔ اس طرح یہ اتحاد سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل کیے جانے کے بعد ان کی خالی ہونے والی نشست این اے 120 پر ضمنی انتخابات کا انعقاد 17 ستمبر 2017ء کو ہوا تھا۔ ان انتخابات میں اپنے شوہر کی نشست پر بیگم کلثوم نواز کی جیت تو یقینی تھی مگر حیران کُن طور پر غیرمعروف تنظیموں کے امیدواروں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے تیسرے اور چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ ان امیدواروں کا تعلق بالترتیب تحریک لبیک یا رسول اﷲ اور ملی مسلم لیگ سے تھا۔ ان انتخابات کے بعد ختم نبوتﷺ کے مسئلے پر تحریک لبیک یارسول اﷲ نے علامہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں اسلام آباد میں دھرنا دے کر خود کو مستقبل کی اہم سیاسی قوت ثابت کردیا تھا۔ تحریک لبیک نے اپنے پہلے عام انتخابات میں ملک بھر میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر ڈیڑھ سو سے زائد امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

ملی مسلم لیگ حافظ سعید کی جماعۃ الدعوۃ کا سیاسی رُخ ہے۔ اس کے امیدوار نے ن لیگ کے گڑھ سے ضمنی انتخابات میں پانچ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے سبھی کو حیران کردیا تھا۔ تاہم گذشتہ ماہ الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ قبل ازیں اپریل 2018ء میں امریکا نے ملی مسلم لیگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے یا تھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے انکار کے بعد اب یہ جماعت تحریک اﷲ اکبر کے ساتھ اتحاد بناکر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ ملی مسلم لیگ نے ملک بھر سے دو سو سے زائد امیدوار کھڑے کیے ہیں۔

نئی انتخابی حلقہ بندیاں

آئندہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہورہے ہیں۔ 2017ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئی انتخابی حلقہ بندیاں کی تھیں جن کے تحت سندھ اور فاٹا کی نشستوں پر کوئی فرق نہیں پڑا جب کہ پنجاب کی سات نشستیں کم ہوگئیں۔ اسی طرح اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی نشستوں میں بالترتیب ایک، چار اور دو نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملکی آبادی میں اضافے کے ساتھ ووٹروں کی تعداد بھی بڑھی ہے اور یہ ساڑھے دس کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔

دہشت گردی میں نمایاں کمی، ٹرن آؤٹ میں اضافے کا امکان

گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں ملک میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہوچکی ہے۔ فوج اور رینجرز کی کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کا عفریت اپنی موت مرچکا ہے، اس کی باقیات کے خلاف بھی ان اداروں کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ خودکش حملے اور دہشت گردانہ کارروائیاں قصۂ پارینہ بنتی جارہی ہیں۔ چند برس پہلے تک دہشت گردانہ واقعات کے تسلسل نے ملک پر خوف کی جو فضا طاری کررہی تھی، وہ ختم ہوچکی ہے۔

عوام اب گھر سے باہر نکلتے ہوئے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ امن و امن کی اطمینان بخش فضا کے باعث ماضی کی نسبت اس بار تمام سیاسی جماعتیں انتخابی سرگرمیوں میں کُھل کر حصہ لے رہی ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں جلسے منعقد ہورہے ہیں، ریلیاں نکالی جارہی ہیں، کارنر میٹنگیں ہورہی ہیں۔ ماضی میں، کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے زیراثر علاقوں میں حریف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلانا آسان نہیں ہوتا تھا، لیکن اس بار صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ اب ہر جماعت کے امیدوار اور کارکنان بلاخوف و خطر انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ یہی صورت حال ملک کے طول و عرض میں ہے۔ امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری کے بعد امید ہے کہ ووٹروں کی بڑی تعداد حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رُخ کرے گی اور ٹرن آؤٹ گذشتہ عام انتخابات کی نسبت زیادہ رہے گا۔

بلدیاتی نمائندے معطل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادر شاہی حکم جاری کرتے ہوئے میئر سمیت بلدیاتی اداروں کے تمام نمائندوں اور کنٹونمنٹ بورڈز کے سربراہان کو معطل کردیا۔ ماضی میں عام انتخابات کے دوران اس نوع کا حکم جاری کرنے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ عام انتخابات کو شفاف اور غیرجانب دارانہ بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق بلدیاتی اداروں کے نمائندے 25 جولائی تک کار منصبی انجام نہیں دے سکیں گے۔ انتخابات میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو معطل کرنے کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔ یقینی طور پر مجاز حکام نے اس کے مضمرات پر غوروخوض نہیں کیا۔

بلدیاتی نمائندوں کی معطلی سے جاری ترقیاتی کاموں سمیت ان اداروں کے تمام امور ٹھپ ہوجائیں گے۔ قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کے ذمے صرف قانون سازی کرنا ہوتا ہے۔ گلی، محلے اور قصبوں کی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور اسی مقصد کے لیے لوگ بلدیاتی نمائندوں سے رابطے کرتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی معطلی کی صورت میں ان اداروں کے میٹروپولیٹن کمشنرز، میونسپل کمشنرز اور چیف آفیسرز کو ایڈمنسٹریٹرز کا اضافی چارج دیا جاتا ہے یا ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیے جاتے ہیں، تاہم ہنوز ایڈمنسٹرز بھی مقرر نہیں کیے گئے ہیں، چناں چہ پورا بلدیاتی ڈھانچا معطل ہوچکا ہے۔ الیکشن کے انعقاد میں ابھی دس روز باقی ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کی بحالی تک عوام کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا الیکشن کمیشن نہیں لگاسکتا۔

ووٹروں کو ملی زباں، حلقے میں آنے والے سیاست دانوں کو کھری کھری سُنانے لگے

ماضی میں یہ تصور نہیں تھا کہ ووٹر اپنے حلقے سے منتخب ہونے والے نمائندے سے باز پُرس کرنے کی جرأت کریں کہ وہ پانچ سال کے بعد ووٹ مانگنے کیوں آیا ہے اور ہمارے ووٹوں سے ایوان اقتدار میں پہنچنے کے بعد اس نے اپنے حلقے میں کیا ترقیاتی کام کیے ہیں، تاہم اس بار یہ روایت بھی ٹوٹ گئی ہے۔ ووٹروں کو طاقت وَر سیاست دانوں، بااثر وڈیروں، سرداروں اور جاگیرداروں سے باز پُرس کرنے کی جرأت بخشنے میں سوشل میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر کتنی ہی ویڈیوز گردش کررہی ہیں جن میں ووٹر گردن میں سریا لے کر حلقے میں آنے والے سیاست دانوں کا ان کی ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر احتساب کرتے نظر آرہے ہیں۔ طاقت وَروں کو کم زور ووٹروں کی یہ جرأت انتہائی ناگوار گزر رہی ہے مگر کیمروں اور سوشل میڈیا کے خوف سے وہ عوام کے تلخ سوالات پر صبر کا کڑا گھونٹ پینے پر مجبور ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پس ماندہ علاقوں کے لوگ اپنے قبیلے کے سرداروں، طاقت وَر جاگیرداروں اور وڈیروں کو آئینہ دکھارہے ہیں، یقیناً یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک ویڈیو میں ضلع کشمور میں پیپلزپارٹی کے راہ نما اور قومی اسمبلی کی نشست سے امیدوار سردار سلیم جان کا راستہ روک کر نوجوان ان سے علاقے میں گذشتہ دس برس اور بالخصوص پانچ برس کے دوران ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بارے میں سوالات پوچھتے نظر آرہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں صوبہ پنجاب کے پس ماندہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے ن لیگ کے راہ نما سردار جمال لغاری کے قافلے کا نوجوان راستہ روکتے ہیں اور ان سے علاقے کو نظر انداز کرنے کے بارے میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اندرون سندھ پی پی پی کے اہم راہ نما نثار کھوڑو کی بیٹی کو عوام کے تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے صوبائی اسمبلی کی نشست کے امیدوار خرم شیر زمان کو انتخابی مہم کے دوران ووٹروں نے کھری کھری سنادیں۔ پی ٹی آئی ہی کے عارف علوی کو بھی حلقے میں جانے پر ووٹروں کی تنقید برداشت کرنی پڑی۔ ایم کیوایم کے راہ نما فاروق ستار کو بھی ووٹروں کی کڑوی کسیلی باتیں سُننی پڑیں۔ تین چار برس پہلے ہی کی تو بات ہے جب کراچی کا کوئی شہری متحدہ قومی موومنٹ کے کسی امیدوار تو کُجا کسی عام کارکن سے بھی کوئی چُبھتا ہوا سوال کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔

موبائل ایپس، سوشل میڈیا کا استعمال

سوشل میڈیا اظہارِرائے اور سماجی رابطوں کا انتہائی مؤثر اور طاقت ور ذریعہ بن گیا ہے۔ فیس بُک اور ٹوئٹر جیسی ویب سائٹس نے سماجی میل جول اور ابلاغ کو نئے معانی پہنائے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ اسمارٹ فونز کے ذریعے سوشل میڈیا دنیا سے منسلک ہے۔ فیس بُک اور ٹوئٹر کے ذریعے کوئی بھی خبر لمحوں میں ملک بھر میں پھیل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا ادراک کرتے ہوئے ان انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں نے ووٹرز اور امیدواروں کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے، پارٹی منشور کو عام کرنے اور تشہیری سرگرمیوں میں معاونت کے لیے موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرادی ہیں۔

ڈیجیٹل منظر نامے میں تحریک انصاف سب سے آگے ہے جس کے مداحوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے چناں چہ موبائل ایپلی کیشنز کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ تحریک انصاف کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی بھی ڈیجیٹل منظر نامے پر متحرک ہیں جن کے مداحوں نے انتخابی منشور، امیدواروں کے کوائف، حلقہ کی تفصیلات ووٹرز تک پہنچانے کے لیے موبائل ایپلی کیشنز متعارف کرادی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے آئی ٹی ماہرین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابات سے متعلق تشہیری میٹیریل تیار کرنے میں آسانی مہیا کرنے کے لیے ریڈی میڈ پوسٹرز اور بل بورڈز کی ایپلی کیشنز تیار کی ہیں جس میں پارٹی رہنماؤں کی تصاویر کا اسٹاک موجود ہے۔ ووٹر یا انتخابی امیدوار کی تصاویر اور حلقہ نمبر درج کرکے باآسانی چند منٹوں میں انتخابات سے متعلق اشتہاری مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح انتخابی عمل سے متعلق روز مرہ بیانات، اجلاس اور جلسے جلوسوں سے متعلق میڈیا اور اخبارات کی کوریج حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی ایپلی کیشنز متعارف کرائی گئی ہیں۔

پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے پولنگ کے اوقات میں ایک گھنٹہ بڑھانے کا اعلان کیاہے۔ اب 25 جولائی کو پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام چھے بجے تک ہوگی۔ یوں پولنگ کا عمل بلا تعطل دس گھنٹے تک جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے پولنگ کے اوقات میں اضافے کا جواز یہ پیش کیا کہ اس فیصلے کا مقصد انتخابی عمل میں عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانا ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب انتخابات سے قبل ہی پولنگ کے اوقات میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ماضی میں پولنگ کے دن مخصوص حالات میں ایک یا زائد پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کا وقت بڑھایا جاتا تھا اور اس دوران صرف انھی ووٹروں کو حق رائے ہی استعمال کرنے کی اجازت ہوتی تھی جو پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ہوں۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے پولنگ کا وقت تین گھنٹے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ دلیل پیش کی تھی کہ جولائی میں شدید گرمی پڑتی ہے جس کے نتیجے میں بیمار اور بزرگ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک جانے میں خاصی زحمت برداشت کرنا پڑے گی۔ کسی اور سیاسی جماعت نے تحریک انصاف کے اس مطالبے کی تائید نہیں کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے بھی ابتداً پی ٹی آئی کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم اس انکار کو چند دن بھی نہیں گزرے تھے کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ کے اوقات میں ازخود ایک گھنٹے کا اضافہ کردیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔