تعلیم اور ہماری نئی نسل

مبین مرزا  اتوار 9 ستمبر 2018
اولاد کی تعلیم و تربیت جیسا بیش بہا اور گراں مایہ کام ہمیں صرف تعلیمی اداروں پر نہیں چھوڑ کر بیٹھ رہنا چاہیے۔فوٹو : فائل

اولاد کی تعلیم و تربیت جیسا بیش بہا اور گراں مایہ کام ہمیں صرف تعلیمی اداروں پر نہیں چھوڑ کر بیٹھ رہنا چاہیے۔فوٹو : فائل

(گذشتہ سے پیوستہ)

اب آتے ہیں وہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے جہاں معاشرے کی اکثریت، یعنی مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان میں کم و بیش سارے ہی ادارے انگلش میڈیم ہیں۔

بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی فیس کا اسٹرکچر کسی قدر اوسط درجے کا ہے، لیکن اس کے باوجود آپ پورے سال کے فی بچہ مجموعی اخراجات کا تخمینہ لگائیں تو اندازہ ہوگا کہ کتابوں، کاپیوں اور غیر نصابی سرگرمیوں اور دوسرے سالانہ اخراجات نے ایک اوسط حیثیت کے تنخواہ دار آدمی کے لیے یہ تقریباً ناممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے صرف تین چار بچوں کی تعلیم کا انتظام بھی کسی حد تک سہولت سے کرسکے۔ اس لیے معاشرے کے بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو بچوں کی تعلیم کا مرحلہ بڑی دشواری سے طے کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمارا متوسط طبقہ اب اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ کم سے کم متوسط درجے کی زندگی کا خواب بھی اگر وہ اپنی اولاد کے لیے دیکھتا ہے تو اُس کے پاس بچوں کو تعلیم دلوانے کے سوا اور کوئی چارۂ کار ہی نہیں ہے۔ نتیجہ یہ کہ میاں بیوی دونوں کام کرتے اور پھر بھی بمشکل بچوں کو تعلیم دلاپاتے ہیں۔ اگر گھر میں صرف مرد کماتا ہے تو اُس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ایک سے زائد آدمی کا کام کرے۔ سو، وہ ایک جگہ باضابطہ اور معقول نوکری کے ساتھ ساتھ جز وقتی ملازمت یا فری لانس جیسا کوئی کام بھی لازماً کرتا ہے۔ تب کہیں جاکر بچوں کی تعلیم ممکن ہوپاتی ہے۔ اس کے باوجود کتنے ہی گھرانے ایسے ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم کو ممکن بناتے ہیں۔

ان اداروں کا تعلیمی معیار کیا ہے، اس کا اندازہ باآسانی اس سے کیا جاسکتا ہے کہ یہ نظامِ تعلیم اوسط درجے کی ذہنی و عقلی صلاحیتیں ابھارتا ہے۔ تعلیم کا عمل ایک طرح کا میکانکی انداز رکھتا ہے، لہٰذا وہ ایسا ہی اثر بچوں پر ڈالتا ہے اور کچھ ایسی ہی استعداد کو ان میں ابھارتا ہے۔ اس اندازِ تعلیم میں اداروں، اساتذہ اور والدین سب کی توجہ تعلیم کے خارجی اظہار یا اثرات پر ہوتی ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ بچے انگریزی بولنے اور لکھنے میں جلد رواں ہوجاتے ہیں۔ البتہ اپنی قومی زبان اردو ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔

اس سے یہ ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدرجہ مجبوری اگر کہیں اردو میں اظہار کی ضرورت پیش آجائے تو بس پھر جیسے ان کی روح فنا ہوتی ہے۔ اس الجھن کا الزام ان بچوں کے سر پر ڈالنا درست نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اپنی قومی زبان کے ساتھ ان کا یہ معاملہ خود ان کی اپنی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ان کے والدین، اساتذہ اور سماجی ماحول کی وجہ سے ہے۔

والدین یقین رکھتے ہیں کہ انگریزی بولنے اور لکھنے کی صلاحیت اجاگر ہوگئی تو معاشرے میں ان کی عزت اور مقام دونوں بہتر ہوجائیں گے۔ ایسے نام نہاد انگلش میڈیم اسکولز کی انتظامیہ اور اساتذہ دونوں ہی والدین کی اس نفسیاتی کم زوری کا پورا فائدہ اٹھاتے اور اپنا کاروبار چمکاتے ہیں۔ وہ بچوں میں ظاہری سطح کی تعلیم کا تأثر قائم کرنے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، یعنی بچوں کی انگریزی بولنے، سمجھنے اور لکھنے کی صلاحیت کو ابھارنے پر زیادہ محنت کرتے ہیں۔ یہاں سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان اداروں سے پڑھنے والے بچوں کی انگریزی بھی کسی بہتر معیار کی نہیں ہوتی۔

ان کے اظہار کی سطح نہایت اوسط درجے کی ہوتی ہے۔ اظہار و بیاں کے لطیف اور بہتر قرینے یکسر ناپید۔ مافی الضمیر کے اظہار کی صلاحیت سراسر واجبی اور تخلیقی اسلوب یا رویہ تو سرے سے ہی مفقود۔ چناںچہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا اور قبول کرنا چاہیے کہ یہ نظامِ تعلیم اگر کوئی کام ہمارے معاشرے میں کررہا ہے تو صرف یہ کہ اوسط درجے کے مشینی پرزے ڈھال رہا ہے جو کلرکی والی ذہنیت اور افادیت کے حامل ہیں۔

ہمارے یہاں تعلیم کے سلسلے میں یہ رویہ کیوں پایا جاتا ہے؟ اس سوال کا ایک آسان اور سادہ سا جواب تو وہی ہے جو ایک عرصے سے آپ ہم ایک دوسرے کو پیش کرتے رہتے ہیں، یہ کہ ہم نے انگریزوں کی حکمرانی سے آزادیِ تو حاصل کرلی، لیکن ہم نوآبادتی اثرات سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں غلامی ظاہری سطح پر ختم ہوئی ہے، حقیقتاً نہیں۔

ہم اب بھی اپنے سابق آقاؤں کی زبان بولنا اور اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر نفسیاتی برتری کا احساس پیدا کرتی ہے اور اس کے ذریعے ہم اپنے ہی لوگوں پر اپنی سبقت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ جواب آج بھی اپنی ایک معنویت رکھتا ہے، اس لیے غلط نہیں ہے۔ تاہم مسلسل اس قسم کی سوچ کے زیرِاثر رہنا بھی تو بجائے خود نوآبادتی اثرات کے تسلسل کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم نے اس صورتِ حال کی اور اس طرزِاحساس کی تبدیلی کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے، آخر یہ بھی تو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

ہر وقت اپنی نفسیاتی کم زوریوں کا راگ الاپنا کون سی اچھی بات ہے۔ ہاں، ان کا تدارک، ان کی اصلاح کے لیے اقدامات کیے جانے چاہییں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے زمانے کے حقائق کو بھی لازماً پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

آج ہم جس گلوبل دنیا میں جی رہے ہیں، اُس میں ابلاغ و اظہار کی زبان انگریزی ہے۔ اس لیے آج مسئلہ محکومی کے دور کی یادگار کا نہیں ہے، بلکہ وقت کے تقاضوں کو سمجھنے اور اختیار کرنے کا ہے۔ اب آپ دیکھ سکتے ہیں چین، جاپان، سعودی عرب اور ایران میں بھی انگریزی سیکھنے اور سمجھنے کا وہ رجحان سامنے آرہا ہے جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس لیے انگریزی سیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ قباحت اس میں ہے کہ ہم اس کے تحت وہ رویے اختیار کرتے ہیں جو ہمارے تہذیبی مزاج اور قومی شعور کی نفی کرتے ہیں۔ چناںچہ ہمیں ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

بہرحال اس کے بعد ہمارے نظامِ تعلیم کا ایک درجہ وہ ہے جس کے تحت اشرافیہ اور امرا کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہاں بھی تعلیم کی سطح حقیقتاً اور مجموعی طور پر بہت اچھی یا مثالی درجے کی تو خیر نہیں ہے، لیکن مڈل کلاس کے بچوں والے نظامِ تعلیم سے اس کی سطح بہرحال بہتر ہے۔ یہاں بچوں کی ذہنی استعداد بھی آپ کو بہتر ملے گی اور زندگی اور اس کے معاملات کی طرف ان کا رویہ بھی زیادہ واضح اور بااعتماد نظر آئے گا۔

تاہم اس بہتری کا سہرا اس نظامِ تعلیم کے سر نہیں باندھا جاسکتا۔ اس کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔ اوّل یہ کہ معاشرے کے جس طبقے کے بچے ان اداروں میں تعلیم کے لیے جاتے ہیں، وہ طبقہ بجائے خود اس معاشرے کی کریم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اپنی ذہنی سطح، سماجی شعور اور فہم و فراست کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ چناںچہ یہ سب کچھ کسی حد تک ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ گھر کا ماحول بھی اس معاملے میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ انگریزی بولنا بھی یہاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ بچپن سے ہی بچہ یہ زبان سیکھنے اور بولنے کی طرف راغب ہوجاتا ہے۔

دوسری وجہ یہ کہ اس طبقے کے بچوں کی تعلیم کا انحصار صرف تعلیمی اداروں پر بھی نہیں ہوتا۔ غیرنصابی سرگرمیاں اور سوشل سرکل بھی ان کی تعلیم میں خاصی معاونت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کی زندگی کی سہولتیں اور دوسرے ذرائع بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ادارے بہتر تعلیم کی اپنے انداز میں کوشش بھی ضرور کرتے ہیں۔

یہاں تعلیم کے نام پر معلومات کا بوجھ بچوں پر لادنے کی کوشش بہرحال نہیں کی جاتی، بلکہ انھیں غیر رسمی ماحول اور کسی قدر غیرروایتی ذرائع سے بھی تعلیم دینے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بچے مڈل کلاس کے بچوں کے مقابلے میں کچھ بہتر تعلیم اور خاصی بہتر خود اعتمادی حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ البتہ یہاں بھی دیکھا یہی گیا ہے کہ انگریزی زبان اور تعلیم کا طریقہ بچوں کی فطری اور تخلیقی صلاحیتوں کو پوری طرح مہمیز دینے اور چمکانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتا۔ یہاں پر بھی بہتری کے باوجود تعلیم کے اثرات میکانکی انداز سے بہت زیادہ مختلف محسوس نہیں ہوتے۔ چناںچہ انگریزی زبان پر قدرے اچھی دسترس کے باوجود فطری، تخلیقی اور تعمیری مزاج بچوں میں پروان نہیں چڑھتا۔

اب رہ گئے مدارس کے زیرِاہتمام تعلیم پانے والے بچے۔ ان میں جن کی تعلیم مدرسوں کی خاص مذہبی سطح تک ہوتی ہے، ان کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ معاشرے کے ڈھانچے میں ان کا حصہ اور رویہ دونوں ہی جس نہج پر ہمیں ملتے ہیں، ان کا موازنہ انگلش میڈیم تعلیم پانے والے بچوں سے قطعی طور پر نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں کے مابین فرق بہت زیادہ اور بنیادی نوعیت کا ہے۔

البتہ وہ بچے جو مدرسوں میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں، انھیں ضرور موازنے کے لیے پیشِ نظر رکھا جاسکتا ہے۔ جہاں تک مذہبی تعلیم کی بات ہے، سو وہ عام طور سے حفظِ قرآن کی ہوتی ہے۔ کم عمری میں اس طریقِ تعلیم کو اختیار کرنے والے بچے قرآن تو ضرور جلد حفظ کرلیتے ہیں اور پھر جو وقت وہ حفظِ قرآن میں لگاتے ہیں، اُس کو کور کرنے کے لیے انھیں اگلے درجے کی جماعتوں میں بٹھا کر تیاری بھی کرالی جاتی ہے۔ اس طرح میٹرک یا او لیول کی تعلیم کے درجے تک وہ کم و بیش اسی عمر میں پہنچ جاتے ہیں جس میں براہِ راست جدید تعلیم کی طرف سے آنے والے بچے۔

تاہم کم سنی میں حفظِ قرآن بچے کے اندر تعلیماتِ قرآنی کا تو کوئی شعور پیدا نہیں کرتا۔ سوال پھر یہ ہے کہ ایسی صورت میں دین کی تعلیم کے کیا وہی ثمرات یہ بچے حاصل کرتے ہیں جو اس طریقِ تعلیم کا مقصود ہوتے ہیں؟ دوسری طرف جس انداز سے یہ بچے جدید تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ بھی ان کی استعداد مڈل کلاس کے انگلش میڈیم تعلیم سے بہرہ مند بچوں سے بہتر بناتی محسوس نہیں ہوتی۔ ایسے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس طریقِ تعلیم نے انھیں کس اختصاص سے ہم کنار کیا؟ گویا سماجی نظام میں وہ بھی ایک عام کل پرزے سے زیادہ کوئی کردار ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

یہ تو ہوا ہمارے یہاں رائج چار نظام ہائے تعلیم اور ان کے تحت علم حاصل کرنے والی نسلِ نو کی صورتِ حال کا بالکل سادہ اور نہایت مختصر جائزہ۔ طرزِتعلیم اور اس کے اثرات کا یہ جائزہ بے شک اجمالاً لیا گیا ہے، لیکن اس سے اتنا اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ اس وقت ہماری نئی نسل تعلیم کے نام پر کیا حاصل کر رہی ہے اور اس راستے پر چلتے ہوئے وہ کس منزل کی طرف رواں ہے۔

اس حقیقت پر غور کرکے ہم واضح طور پر یہ شعور حاصل کرسکتے ہیں کہ ان حالات میں ان کوششوں اور ان نظام ہائے تعلیم کے تحت پروان چڑھنے والی نئی نسل سے ہمیں کیا توقعات وابستہ کرنی چاہییں اور اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچنا اور کیا امیدیں قائم کرنا ہمارے لیے درست ہوگا۔ یہ تو ہوا تعلیم کا معاملہ۔ اس کے ساتھ ہمیں ایک اور بات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اس دور کے نئے لوگ نہ سہی، لیکن ہماری عمر کے سب لوگ یہ بات جانتے اور سمجھتے ہیں کہ کسی فرد اور کسی معاشرے کے لیے صرف تعلیم کافی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ وہ ساری ضرورتیں پوری نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ لازمی طور سے تربیت بھی درکار ہوتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس تعلیم کے ساتھ نئے لوگوں کی تربیت کس سطح پر ہورہی ہے؟ تربیت کا یہ سوال اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ علم اگر عمل تک نہ پہنچے تو اُس کی مثال اس درخت کی سی ہوتی ہے جو سایہ دیتا ہو اور نہ پھل۔ یہ تربیت ہی تو ہوتی ہے جو علم کو چراغِ راہ گزر بناتی ہے کہ اپنے پرائے سب اس سے فیض پاتے ہیں۔ تعلیم بغیر تربیت کے ایک مجرد شے ہے اور تربیت کے ساتھ وہ مجسم ہوجاتی ہے۔

تربیت نہ ہو تو تعلیم آدمی کو گم راہی کی طرف بھی لے جاتی ہے، تربیت کے ساتھ ہو تو آدمی کے اندر روشنی بھر دیتی ہے اور خود اسے روشنی بنا دیتی ہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جتنے انبیا علیہم السلام آئے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا سانچا بھی لے کر آئے، اور نبیِ آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنیٰ کو تو تربیت کا بلند ترین سانچا قرار دیا گیا ہے۔ چناںچہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تعلیم کی فضیلت اصل میں تربیت کے ساتھ ہے، اس کے بغیر نہیں۔

اب اگر ہم اپنے چاروں نظام ہائے تعلیم پر نگاہ ڈال کر یہ دیکھیں کہ ان کے دائرۂ کار میں نسلِ نو کی تربیت کا معیار کیا ہے تو ہم سخت افسردگی اور مایوسی سے دوچار ہوتے ہیں، خاص طور پر جدید تعلیم کے ادارے تو اس معاملے میں ہمیں ہلاکت خیز مایوسی میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہاں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے نظامِ تعلیم میں تربیت کی اہمیت اور ضرورت کا کوئی واضح تصور ہی سرے سے موجود نہیں ہے۔

سب کچھ تعلیم ہی کو سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ سب ہمارے اردگرد کے حالات اور حقائق کا نقشہ ہے اور اس دور کے تصورِ تعلیم۔ یونان، چین اور جاپان یا عرب و عجم کے حکما اور صوفیا کا ذکر نہیں، اسی ارضِ وطن کے تعلیمی اداروں میں چار پانچ دہائی پہلے تک تربیت کو تعلیم کا جزوِ لازم گردانا جاتا تھا۔ اساتذہ اپنے طلبہ کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالنا اپنی بنیادی ذمے داری کا لازمی حصہ خیال کرتے تھے جو انھیں علم و عمل کی اکائی بنا دے۔

وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے پاس علم حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کے ذہن کو علم سے اور شخصیت کو عمل سے اس طرح آراستہ کریں کہ وہ آگے چل کر دوسروں کے لیے ایک روشن مثال بن جائیں۔ اس کے برعکس، ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج تعلیم زیادہ سے زیادہ معلومات کا ڈھیر ہوکر رہ گئی ہے اور عمل کا فقدان ایسا ہے کہ شخصیت تعمیر ہی نہیں ہو پاتی۔

اس سارے منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہماری نئی نسل کس طرف جارہی ہے۔ بلاشبہہ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی نئی نسل کو کیا بنانا چاہتے ہیں، کیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور کہاں پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ خواب اور خواہشیں جو اپنی اولاد کی زندگی، شخصیت اور مستقبل کے بارے میں ہمارے دلوں میں ہیں، موجودہ نظامِ تعلیم کے سب سلسلے کسی بھی طرح انھیں حقیقت میں ڈھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اگر ہم واقعی ان خوابوں کو تعبیر سے ہم کنار کرنا چاہتے ہیں تو پھر سمجھ لیجیے کہ ہمارے تعلیمی نظام کو بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

جدید دنیا کے علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمیں لازمی طور سے ہیومینیٹیز، یعنی بشری علوم کو بھی اپنے نظامِ تعلیم کا حصہ بنانا چاہیے، تاکہ ہم اپنے بچوں کو مشین کے پرزے جیسی زندگی کے بجائے جیتے جاگتے اور ہنستے بستے انسان کی زندگی کے شعور و احساس سے بہرہ مند کرسکیں۔ ان علوم کے ذریعے ہم انھیں اپنی تہذیب و اقدار کا شعور دے سکتے ہیں۔ تاکہ وقت کا دھارا انھیں اجنبی جزیروں پر لے جاکر نہ پھینک سکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی یاد رہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے ہمیں تربیت پائے ہوئے اساتذہ کی اشد ضرورت ہے جو ان کے کردار کی تشکیل و تعمیر میں مثبت انداز سے حصہ لے سکیں۔

آخری بات یہ کہ اولاد کی تعلیم و تربیت جیسا بیش بہا اور گراں مایہ کام ہمیں صرف تعلیمی اداروں پر نہیں چھوڑ کر بیٹھ رہنا چاہیے، بلکہ ماں، باپ، بہن، بھائی، عزیز، رشتے دار جس حیثیت میں بھی ہم اس میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، ہمیں پوری ذمے داری، محبت اور لگن سے ادا کرنا چاہیے۔ اپنی آئندہ نسل کی بہترین تعلیم اور تربیت ہی دراصل ہماری اجتماعی اور آبرومندانہ بقا کا واحد راستہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔