خواہشات کا کشکول

آفتاب احمد خانزادہ  جمعـء 12 اکتوبر 2018
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

سارتر بتاتا ہے کہ اس کی والدہ خدا سے ایک ہی دعا مانگا کرتی تھی کہ ’’خدا مجھے سکون دے۔‘‘

یاد رہے سکون باہر نہیں اندر سے ملتا ہے، مجھ سمیت بائیس کروڑ پاکستانیوں کو اپنی بے سکونی سے وحشت ہونے لگی ہے، ہمارے سکون کو اس طرح لوٹا گیا ہے، جس طرح ایک غریب اور مسکین مزارعے کی بیٹی کو لوٹا جاتا ہے۔آج ہمیں روٹی سے زیادہ سکون کی ضرورت ہے۔

آئیں! یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سکون کسے کہتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جس کی ضروریات زندگی باآسانی اسے مہیا ہورہی ہو۔ وہ روزگار پر لگا ہوا ہو اور اس کی آمدن اس کے اخراجات سے زیادہ ہو اس کا ہر جائزکام بغیر رشوت، بغیر سفارش آرام سے ہورہا ہو، اسے تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت ریاست کی جانب سے مہیا ہو رہی ہوں۔ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات،آرزوئیں، تمنائیں با آسانی پوری کررہا ہو۔

ایسے سماج میں رہ رہا ہو جہاں قانون،انصاف اور مساوات کا بول بالا ہو، اس کی منتخب کردہ اراکین اسمبلی ایماندار اور دیانتدار ہوں اور وہ اس کی خوشحالی، بہتری کے لیے دن رات کام کررہے ہوں جہاں اس کی سادگی، شرافت کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہو جہاں پانی، بجلی،گیس اور ٹرانسپورٹ انتہائی کم نرخوں پر بلا روک ٹوک 24گھنٹے اسے میسر ہوں ۔ تو پھر وہ سکون سے اپنی زندگی ہنسی خوشی گزار رہا ہوتا ہے لیکن جب حالات اور ماحول اس کے بالکل برخلاف ہوتے ہیں اور ایک انسان روز اپنی خواہشات آرزؤں اور تمناؤں کے ہاتھو ں کچلا اور روندا جا رہا ہو جہاں اس کو پیٹ بھرکے کھانا نصیب نہیں ہو رہا ہو، جہاں وہ روز اپنے اور اپنے پیاروں کے سامنے ذلیل وخوار ہورہا ہو، جہاں وہ اپنے خیالوں میں اپنے آپ کو اور اپنے ہی جیسے انسانوں کو مارنے کے منصوبے بنا رہا ہو جہاں اس کی عزت نفس کو روز تار تارکیا جا رہا ہو، جہاں وہ پانی، بجلی،گیس اور ٹرانسپورٹ کے لیے ترس رہا ہو ، جہاں وہ دوائیوں کی قیمتیں سن کر اپنے ادھڑے بٹوے کو برا بھلا کہہ رہا ہو جہاں اس کے سوالات درد سے چیخ رہے ہوں۔

جہاں اس کی سادگی اور شرافت پر اسے موٹی موٹی گالیاں سننے کو مل رہی ہوں تو ان حالات ، ماحول میں کسی نارمل انسان کو سکون کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ آپ چاہیں تو یہ سوال دنیا کے کسی بھی نامور فلسفی ، ماہر معاشیات ، ماہر عمرانیات ، ماہر نفسیات کے سامنے رکھ کر دیکھ لیں تو ان کے پاس سے بھی آپ کو ایک گہری خاموشی کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا ۔ تمام مہذب، خوشحال، کامیاب اور ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کو سکون مہیا کرنے کی تمام ذمے داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت ایک ایسا نظام ترتیب دیتی ہے جس میں شفافیت ، میرٹ ، ایمانداری اور دیانتداری کا بول بالا ہوتاہے اگرکوئی حکومت شہریوں کو سکون پہنچانے میں ناکام ہوجاتی ہے تو شہری اس سے حکومت کرنے کا حق واپس لے لیتے ہیں ۔

یاد رکھیں ! جہاں کرپشن اور لوٹ مار ہوگی تو ایسی ریاست میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں ہوسکتا ۔ آئیں ! اس بات کاجائزہ لیتے ہیں کہ بیس کروڑ انسانوں کی بے سکونی کے ذمے دارکیوں بے سکون ہیں؟ حالانکہ ان کی ہر خواہش ہر تمنا ان کی سوچوں سے زیادہ پوری ہوچکی ہیں توپھر وہ آخر کیوں بے سکون ہیں۔

ایک صبح اپنے تخت پر براجما ن ہونے اور ایک بھکاری کا سامنا ہونے پر بادشاہ نے پوچھا ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ بھکاری نے ہنستے ہوئے کہا ’’ تم تو اس طرح پوچھ رہے ہو جیسے تم میری خواہش پوری کرسکتے ہو‘‘ بادشاہ نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ’’کیوں نہیں جو کچھ تم مانگوگے تمہیں ملے گا ‘‘ بھکاری نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا ’’ وعدہ کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچ لو‘‘ یہ بھکاری کوئی عام بھکاری نہیں تھا بلکہ بادشاہ کے پہلے جنم میں اس کا آقا تھا جس نے اپنے پہلے جنم میں اس سے وعدہ کیاتھا میں تمہیں ہمارے اگلے جنم میں آزمانے آؤں گا،اس جنم کا تم نے موقع کھو دیا ہے لیکن میں تمہاری مدد کے لیے ایک دفعہ پھر آؤں گا۔ بادشاہ نے جس نے اپنے پرانے دوست کو نہیں پہنچانا تھا، اصرار کرتے ہوئے کہا ’’جو بھی تم مانگو گے تمہیں ملے گا کیونکہ میں زبردست بادشاہ ہوں جوکوئی بھی خواہش پوری کر سکتا ہے‘‘ بھکاری کہنے لگا ’’یہ بہت ہی سادہ خواہش ہے کیا تم میرا یہ کشکول بھرسکتے ہو؟‘‘بلاشبہ بادشاہ نے کہا اور اپنے وزیرکو حکم دیاکہ اس شخص کے کشکول کو دولت سے بھر دیاجائے۔

وزیر نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی لیکن جتنی دولت کشکول میں ڈالی جاتی، غائب ہوجاتی جیسے جیسے وہ زیادہ دولت ڈالتا چلاگیا اس وقت ہی دولت غائب ہوجاتی ۔ بھکاری کا کشکول بدستور خالی تھا یہ بات تمام سلطنت میں پھیل گئی اور ایک بڑا ہجوم وہاں جمع ہوگیا۔ اس وقت بادشا ہ کی ساکھ اور طاقت داؤ پر لگ چکی تھی،اس لیے اس نے اپنے وزیر سے کہا ’’اگر میری سلطنت جاتی ہے تو جائے لیکن میں اس بھکاری کے ہاتھوں شکست قبول نہیں کروں گا‘‘ وہ کشکول میں اپنی دولت خالی کرتاگیا، ہیرے، جواہرات اور زمرد اس کا خزانہ خالی ہونے لگا بالآخر اس وقت جب کہ ہجوم خاموش کھڑا تھا۔

بادشاہ بھکاری کے قدموں میں گر پڑا اور اپنی شکست تسلیم کرلی ’’تم جیت گئے ہو لیکن جانے سے قبل مجھے یہ ضرور بتادو کہ اس کشکول کا رازکیا ہے؟ ‘‘ بھکاری نے عاجزی سے جواب دیا ’’ اس میں کوئی راز نہیں یہ محض انسانی خواہش ہے‘‘۔ بائیس کروڑ انسانوں کی بے سکونی کے ذمے داروں تم کبھی بھی اپنی خواہشات کا کشکول نہیں بھر سکو گے، چاہے کتنا ہی کچھ جمع نہ کرلو تمہارا کشکول خالی کا خالی رہے گا۔ یہ بات تم جتنی جلدی سمجھ لوگے تمہارے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔